ہیرو ازم اور ذات کا محاسبہ

ہیرو ازم اور ذات کا محاسبہ
ہیرو ازم اور ذات کا محاسبہ

  

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے بعد  ملک میں موجود سیاسی بحران نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے،اور رخ اب ”سازش“ اور ”مداخلت“ کے الفاظ کی تشریح کی طرف موڑ دیا ہے۔ ہمارے یہاں ذہنی جنونیت کا ایسا غلبہ ہے کہ ہم محبت اور نفرت حقا ئق کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اندھے پن کی تقلیدی روش پر کرتے ہیں۔موجودہ صورت حال  میں تحریک انصاف حقیقت کی آنکھ سے دیکھے  تو اسے اس امریکی مراسلے اور اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد  کا شکر گزار ہونا چاہئے، جس نے ان کی جماعت میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔خدا لگتی بات کریں کہ اگر یہ ”سازش“ یا ”مداخلت“ عین اس وقت سامنے نہ آتی تو آپ کے پاس عوام کو دکھانے کے لیے کیا تھا؟عمران خان اس حوالے سے خوش قسمت انسان ہیں کہ انہیں شروع سے ہی ہیرو ازم جیسی زندگی میسر آئی اور یہی ہیرو ازم ان کے رستے کی اصل دیوار اور رکاوٹ بھی ہے۔اسی ہیرو ازم کے سبب وہ کینسر ہاسپٹل جیسا شاہکار بنانے میں بھی کامیاب ہوئے اور اسی نے انہیں اقتدار کے ایوان تک بھی پہنچایا۔ وہ سیاسی لیڈر بن کر دنیا کی نظر میں مقبول نہیں ہوئے،بلکہ مقبول ہونے کے سبب ہی سیاسی لیڈر بن کر ابھرے اور دنیا کے لئے مرکز نگاہ بھی بنے۔ اسی ہیروازم نے انہیں بلا کا اعتماد بھی دیا جو دنیا کے حکمرانوں سے ملتے ہوئے دیگر سیاسی قیادتوں میں بہت کم دکھائی دیتا ہے۔اسی ہیرو ازم کی بدولت لوگوں نے ان پر اپنی محبتیں بھی نچھاور کیں اور دولت بھی۔وہ خود کہتے ہیں کہ شوکت خانم ہاسپٹل کے لئے صبح سے شام تک پیسہ اکٹھاکرتے کرتے ان کے بازو شل ہو جاتے اور کمر دکھنے لگ جاتی تھی۔ یہ ان کے  ہیروازم  کا ہی کرشمہ تھا،جس کے سبب ان کے لئے نصرت فتح علی خان سے لے کر دلیپ کمار تک پاکستانی اور بالی ووڈ اداکاروں کا ہر جگہ رضاکارانہ میلہ سج جاتا تھا اور سب ان کے اس کار خیر میں دست و بازو بنے۔اب جب کہ ان کی حکومت تحلیل ہو چکی تو کچھ وقت انہیں اپنے آپ کو دینا چاہئے جس میں وہ خوشامدیوں کے جھنڈ سے دور ہو کر اپنے آپ کو خود احتسابی کے عمل سے گزار سکیں۔ہیرو ازم کے خول سے باہر نکل کرسب سے پہلے  اب نظریاتی ورکرز کو چھوڑ کر اردگرد جمع کئے گئے الیکٹیبلز کا جائزہ لیں۔ذرا سی توجہ کرنے سے  یہ بات کھل کر سامنے آ جائے گی کی ان کی مشکلات کے پھیلے ہوئے جال میں ان لوگوں نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے، جو ببانگ دہل انہیں یہ یقین دلا تے رہے کہ اپوزیشن کے بڑے بھی آ جائیں تو عدم اعتمادکو کامیاب نہیں بنا سکتے۔ اپنے محسنین کو نظر انداز کرنے اور مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑا نہ ہونے کے پیچھے بھی دراصل وہی ہیرو ازم کا زعم کارفرما ہے۔مقام افسوس ہے کہ پوری حکومت میں کوئی ایک بھی ایسا فرد نہیں تھا،جو اس معمولی سی عددی برتری کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔اس بات کا اعتراف کرنے اور عوام کو آگاہ کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرنا چاہئے کہ حکومت سنبھالتے وقت کوئی ہوم ورک نہیں کیا گیا تھا،جو لوگ آپ کو یقین دلاتے تھے کہ بس سو دن میں دیکھیں کیسے سار ے حالات بدل جائیں گے انہیں آئندہ خود سے دور رکھ کر نئے اور قابل لوگوں کی ٹیم بنائیں جو دراصل آپ اس دور حکومت میں نہیں بنا سکے۔آپ نے اپنا بہت سا وقت پچھلی حکومت کو چور ڈاکو ثابت کرنے میں صرف کیا اور ساڑھے تین سال کی مسلسل راگنی کے باوجود عملی سطح پر کوئی چیز ثابت نہیں ہو سکی۔یہی محنت اگر آ پ اپنے عوام سے کئے گئے وعدوں اور ان کے طرز زندگی میں آسانی لانے پر صرف کرتے تو لوگ آپ کے کام کو دیکھ کر دوسروں کو ویسے ہی بھول جاتے۔ ایک اور بات بہت اہم ہے کہ دوسروں کو انڈر ایسٹی میٹ کرنا بھی آپ کے اسی ہیرو ازم کی وجہ سے ہے۔ ضمنی انتخابات میں پے در پے شکستوں کے باوجود آپ زمینی حقائق کو ماننے سے انکار کرتے رہے اور ان کی اہمیت کو تسلیم کرنے سے  انکار کرتے رہے، جس کا نتیجہ حکومت کے خاتمے کی صورت میں سامنے آیا۔اسی ہیرو ازم نے آپ سے بدتہذیبی اور بدتمیزی کا ایسا کلچر پروان چڑھا دیا ہے جو اب خطرناک حد تک پھیل چکا ہے۔بطور لیڈر آپ کو نوجوان نسل کے لئے ایک رول ماڈل ہونا چاہئے، جس کے لہجے میں وقار، شائستگی اور تہذیب جھلکتی ہو۔اپنے مخالفین کو جس زبان سے آپ نے مخاطب کیا وہ  نہ تو بطور لیڈر آپ کو زیب  دیتی ہے اور نہ ہی یہ ریاست مدینہ کے مبارک نام لینے و الے کو کسی صورت بھاتی ہے۔ دوسروں کی پالیسیز کو  حرف تنقید بنانے کی بجائے آپ ان کی ذات کو نشان تضحیک بناتے رہے۔ جو قومیں اخلاقی اعتبار سے تنزلی کا شکار ہوتی ہیں وہ کبھی ترقی کی دوڑ میں آگے نہیں بڑھ سکتیں۔ اسی ہیرو ازم کے سبب آپ  تحریک عدم اعتمار کے بعد سپورٹس مین شپ کا مظاہرہ نہیں کر سکے اور آخری گیند تک گراؤنڈ میں مقابلہ کرنے کے الفاظ کو بھی  سچ ثابت نہیں کر پائے۔آپ کے اپنے لوگ جب آپ سے دور ہوئے تو ان کو محبت اور حکمت سے قریب لانے کی بجائے آپ نے ا ن کی  ایسی بدترین کردار کشی کی کہ ان کے پاس واپسی کا راستہ ہی نہیں بچا تھا۔اس وقت سب سے بڑا یو ٹرن لینے کی ضرورت ہے  جو آپ کو اب ہیرو ازم سے باہر نکال کر  خود احتسابی کے راستے پر گامزن کر سکے۔اس حقیقت کو تسلیم کر لیجئے کہ اگر گھر کے لوگوں سے تعلق مضبو ط ہو تو باہر سے کوئی ”سازش“ یا ”مداخلت“ کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔

مزید :

رائے -کالم -