سفر سہل تو نہ تھا... قسط 5

سفر سہل تو نہ تھا... قسط 5
سفر سہل تو نہ تھا... قسط 5

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 پہلے پہل وہ نوجوانوں کا پروگرام کرتی تھی جس میں ان کی تعلیم ، صحت اور روزگار سے متعلق بہت سی باتیں ہوتیں اور کچھ عرصے کے بعد دینی تعلیمات سے متعلق پروگرام کا ٹاسک بھی اس نے بخوبی نبھایا
آج کل اس کے سپرد فلمی گیتوں کا پروگرام کر دیا گیا تھا ، لگتا تھا کہ قدرت گویا اس کی مدد کر رہی ہے ۔اس کی والدہ سلائی کڑھائی کرتے ہوئے اکثر ریڈیو سنا کرتی تھیں سو لڑکپن سے اسے ریڈیو سے خاص شغف ہو گیا تھا بلکہ وہ تو کئی پروگرامز میں باقاعدگی سے خط بھی لکھا کرتی تھی ۔۔۔
وہ سوچتی تھی کہ پتہ نہیں اینکر کیسے مائیک کے سامنے بولتے ہیں اور نہ جانے کیسے کیسے اتنی باتیں کرتے ہیں اور تھکتے بھی نہیں لیکن اب ریڈیو میں آ کر اس نے بہت سی چیزیں سیکھی تھیں
اب اسے آواز کی دنیا میں مزا آنے لگا تھا وہ اپنے لفظوں سے اپنے سامعین کو محظوظ کرنے لگی تھی فلمی گیتوں کا پروگرام اس مضافاتی قصبہ میں بہت شوق سے سنا جاتا ہے ۔۔۔انھیں لینڈ لائن پر روز بہت سی کالیں موصول ہوتی تھیں اور کافی زیادہ خطوط بھی ملتے تھے جس میں اس کے پروگرام اس کی کمئپرنگ کی تعریف ہوا کرتی تھی  ۔۔۔
وہ اللہ کے اس فیصلے کو اپنے حق میں بہت بہتر سمجھ رہی تھی ، اس چھوٹے سے قصبے میں وہ بہت مشہور ہو گئی تھی شہروں میں تو سب اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ ان کے پاس ریڈیو غور سے سننے کا وقت تک نہیں ہوتا لیکن یہاں تو اتنی سہولیات نہیں تھیں اور سب ریڈیو کے پروگرام کا بڑی بے تابی سے انتظار کرتے تھے ۔۔
اس نے رہائش کے لئے ایک چھوٹا کمرہ ریڈیو اسٹیشن کے قریب ہی مناسب کرائے پر لے لیا تھا جس کے ساتھ اٹیچیڈ باتھ بھی تھا ۔۔۔۔وہ گھر پر رقم باقاعدگی سے بھجواتی رہتی تھی ۔۔۔اس مرتبہ اس کا گھر رہنے کا لمبا پلان تھا ریڈیو میں چھٹیوں کی درخواست دے دی تھی کیونکہ اسے ایم اے اردو کے پیپر دینا تھے ۔
اردو سے اسے پہلے تو اتنی دلچسپی نہیں تھی لیکن ریڈیو پر اردو پروگرام کر کے اردو مضمون میں اعلی تعلیم  حاصل کرنا گویا اس نے اپنا خواب بنا لیا تھا ۔اس نے بہت دل لگا کر پڑھائی کی تھی چھ ماہ کی محنت رنگ لے آئی تھی اور اس کے پیپر بہت اچھے ہو گئے تھے اب اس کا ارادہ اردو ادب میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے کا تھا ۔
لاریب یہ جانتی تھی کہ اگر اس نے جاب میں ترقی پانی ہے تو صرف ایک اعلی تعلیم ہی ایسا ہتھیار ہے جو اس کا ساتھ دے گا ۔۔سو اس نے مزید تعلیم کا سفر جاری رکھا
کتنے بہت سے دن گذر گئے اماں نے اسے فون کیا تھا کہ وہ اس کے لیے رشتے دیکھ رہی ہیں تو وہ جلدی سے گھر آ جائے ۔۔۔وہ اتنی جلدی شادی کے جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتی تھی اب اس نے ایم اے بھی کر لیا تھا اور یہاں اس ریڈیو اسٹیشن پر اسے ایک سال مکمل ہو گیا تھا ، وہ قصبے کے لوگوں کی محبتوں کی مقروض تھی جنہوں نے اسے اپنی بیٹی کی طرح پیار دیا اسکی عزت کی تھی ۔۔۔اس نے بھی جوابا سب کی محبت کا مان رکھا تھا۔۔اور اپنے سامعین کے لئے ریڈیو کے پروگرام کو فیملی انٹرٹینمٹ بنا کر پیش کیا تھا
وہ اپنی کامیابی سے بہت خوش تھی لیکن اس میں اس کی ماں کی دعائوں کا بھی بہت ہاتھ تھا اس نے تو کبھی نہیں سوچا تھا کہ  وہ اتنی کامیاب اینکر بن جائے گی اور اس کا ٹرانسفر واپس اسلام آباد ہو جائے گا  ۔۔
آج وہ ریڈیو آئی تو اس کے کولیگ شکیب صاحب نے اسے خوش خبری سنائی کہ اسے سنئیر کمپیئر بنا دیا گیا ہے اور اس کا تبادلہ اسلام آباد کر دیا گیا ہے ۔۔۔وہ اتنی خوش تھی کہ اس کی آنکھوں سے خوشی کے مارے آنسو نکل آئے ۔۔جاری ہے ، اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں  ۔۔ گزشتہ حصہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔ 

۔

نوٹ: یہ مصنفہ کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں او ر اس میں پیش کیے گئے تمام نام فرضی ہیں، کسی سے مماثلت محض اتفاق ہوگا۔ 

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -