”سو جوتے اور سو پیاز“

”سو جوتے اور سو پیاز“
”سو جوتے اور سو پیاز“

  

 پنجابی کا ایک محاورہ آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ ”100 جوتے اور 100 پیاز“۔ اس محاورے کی اصلیت کچھ یوں ہے کہ کسی جگہ کسی جرگے نے مجرم کو سزا سنائی کہ اُسے یا تو 100 جوتے کھانے پڑیں گے یا 100 پیاز۔ مجرم نے کہا کہ وہ سو پیاز کھائے گا۔ جب سزا پر عمل درآمد شروع ہوا تو مجرم نے ارادہ بدل لیا اور جوتے کھانے کی فرمائش کر ڈالی۔ کہتے ہیں کہ بار بار ارادہ بدلنے پر آخری وقت تک مذکورہ مجرم کو سوپیاز بھی کھانے پڑے اور سو جوتے بھی۔ کچھ اسی طرح کی کیفیت آج کل ہماری موجودہ حکومت کی ہے کہ وہ جب سے حکومت میں ہے، آئے دن اداروں سے لڑ جھگڑ رہی ہے، لیکن اپنی کرپشن اور نا اہلی کی روش سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ دسمبر2009ءمیں سپریم کورٹ کے این آر او کے خلاف فیصلے فیصلہ کے بعد حکومت مسلسل سپریم کورٹ سے محاذ آرائی کر رہی ہے۔ حکومت کی اس ہٹ دھرمی کی وجہ سے عوامی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی، جبکہ حکومت اپنی کرپشن بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔ ملک میں بجلی، گیس کا بدترین بحران ہے۔ لاقانونیت کا اژدھا ہر چیز ہڑپ کرتا جا رہا ہے۔ جب توہین عدالت کیس میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو گھر جانا پڑا تو حکومت نے 12 جولائی 2012ءکو نئے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو بچانے کے لئے راتوں رات بغیر سوچے سمجھے آئین میں ترمیم کر ڈالی۔ جونہی توہین عدالت ترمیمی بل 21 ویں آئینی ترمیم کی شکل میں پاس ہوا، 28 کے قریب لوگوں نے اس بل کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی کہ یہ آئینی ترمیم 1973ءکے آئین کی بنیاد کے خلاف ہے۔ حکومت وقت نے 21 ویں آئینی ترمیم سے اپنے صدر، وزیراعظم، گورنروں، وزرائے اعلیٰ، صوبائی اور مرکزی وزراءکو توہین عدالت سے مستثنا قرار دے کر اُنہیں ہر قسم کا آئینی تحفظ فراہم کر دیا، لیکن فوری فائدہ نئے وزیراعظم راجہ صاحب کے لئے تھا، تاکہ وہ گھر جانے سے بچ جائیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پارلیمینٹ آئین میں ترمیم کر سکتی ہے۔ اگر وہ ترمیم آئین پاکستان کی روح کے خلاف نہ ہو، لیکن جس عجلت میں موجودہ آئینی ترمیم کی گئی، وہ تو بدنیتی پر مبنی تھی۔12 جولائی سے 3 اگست 2012ءتک سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے یہ کیس سنا۔ 3 اگست 2012ءکو عدالت عظمیٰ کے 5 رکنی بنچ نے توہین عدالت ایکٹ مجریہ 2012ءکو مکمل طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایکٹ بدنیتی(MALAFIED) پر مبنی تھا اور اس ایکٹ کی شق2 اور 3 آئین سے متصادم ہے۔ یہ ایکٹ عدالت کے اختیارات کم کرنے کی کوشش ہے۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے سنایا۔ عدالت عظمیٰ کے مختصر فیصلے کے مطابق اس ایکٹ کی شق6 عدلیہ کی آزادی کے اصول کے منافی ہے۔ غیر آئینی ہے اور شق8 عدالتی اختیار کو کم کرنے کی کوشش ہے، جبکہ شق نمبر 11 آئین پاکستان کے آرٹیکل 37 سے متصادم ہے۔ حکومت نے جب موجودہ توہین عدالت بل پارلیمینٹ سے منظور کروایا تو ہر ذی شعور آدمی یہ سوچ رہا تھا کہ حکومت نے بدنیتی سے یہ قانون پاس کروایا ہے اور سپریم کورٹ اس بل کو مسترد کر دے گی، کیونکہ پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ ”چوری دے پتر جوان نہیں ہوندے“ ۔جب حکومت یہ بل پارلیمینٹ سے منظور کروا رہی تھی، تو حکومت کے دو قانون دانوں اعتزاز احسن اور رضا ربانی نے اس کی مخالفت کی تھی۔ بدنیتی پر مبنی بنایا ہوا قانون کالعدم تو ہونا ہی تھا، لیکن اس قانون کے کالعدم ہونے سے ساری پارلیمینٹ کے منہ پر طمانچہ بھی پڑا ہے، لیکن حکومت اس قدر ڈھیٹ ہے، وہ اس بل کی ناکامی کے بعد دوبارہ اپنے تحفظ کے لئے نئے جوڑ توڑ میں مصروف ہوگئی ہے اور کئی حکومتی ارکان کھلے عام عدالت عظمیٰ پر اعتراضات کر رہے ہیں۔ موجودہ پارلیمینٹ نے اس ترمیمی بل کے علاوہ بھی بہت سی قرار دادیں منظور کروائیں ، لیکن شاید ہی کسی قرار داد پر کبھی عمل ہوا ہو۔ اب موجودہ پارلیمینٹ کے جن ارکان اسمبلی نے اس توہین عدالت بل پر دستخط کئے تھے، اُنہیں اخلاقی طور پر قوم سے معافی مانگنی چاہئے۔ وزیر قانون اور اٹارنی جنرل کو تو اپنے اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جانا چاہئے کہ انہوں نے عدالت عظمیٰ کا وقت ضائع کیا اور قوم کا پیسہ برباد کیا۔ کاش! موجودہ جمہوری، اتحادی اور فرینڈلی پارلیمینٹ کبھی اپنے ذاتی اور خاندانی مفادات سے باہر نکل کر عوام اور ملک کے مفاد میں بھی کوئی بل پاس کریں، جس سے ڈرون حملے بند ہو سکیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت کی صورت حال میں کوئی بہتری آسکے۔ کراچی، بلوچستان کے حالات بہتر ہو سکیں۔ پانی اور بجلی کے مسائل حل کرنے کے لئے کسی کالا باغ ڈیم اور بھاشا ڈیم کی تعمیر ہو سکے۔ یہ نام نہاد آئینی ترمیمیں نہ عوام کا پیٹ بھر سکتی ہیں، نہ لوڈشیڈنگ کے عذاب سے چھٹکارہ دلا سکتی ہیں۔ ٭

مزید :

کالم -