پٹوار کلچر کے ذاتی تجربات اور تجاویز

پٹوار کلچر کے ذاتی تجربات اور تجاویز
پٹوار کلچر کے ذاتی تجربات اور تجاویز

  



پٹوار کلچر اور تھانہ کلچر ختم کرنے کا وعدہ محترم عمران خان نے اپنے منشور میں کیا تھا اور میاں محمد شہباز شریف نے بھی حکومت سنبھالتے ہی کر دیا ہے۔ مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف دونوں حکمران جماعتیں ہیں،اس لئے اچھے نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے۔ مَیں عمر بھر ایسے اقدام کا متمنی اور منتظر رہا ہوں۔ اس لئے یہ کالم اس کی حمایت میں لکھ رہا ہوں۔ مَیں یہاں اپنے ذاتی تجربات درج کر کے واضح کروں گا کہ جب پٹوار گردی ایک قانون دان (سابق ڈسٹرکٹ و سیشن جج اور حالیہ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ) کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے تو کسی اَن پڑھ کسان کے ساتھ کیا کچھ نہیں کر سکتی۔ اس کے ساتھ ہی مَیںتوجہ طلب خرابیوں کی نشاندہی کر کے ان کی اصلاح کے لئے چند ایسی تجاویز بھی پیش کروں گا، جن پر حتمی اصلاحات کرنے سے پہلے بھی فوراً عمل کیا جاسکتا ہے۔

پٹوار کلچر کے ساتھ میرا واسطہ اپنے بچپن سے پڑتا چلا آرہا ہے۔ آج سے 87 سال قبل میری پیدائش ایک زمیندار گھرانے میں ہوئی تھی اور مجھے اپنے والد کی وراثت میں زمینیں مختلف اضلاع کے مختلف دیہات میں ملی تھیں۔ مَیں ان کے اشتمال بھی کرواتا رہا ہوں اور انگریز عہد کا ابتدائی ریکارڈ (رجسٹر حقدارنِ زمین) بھی دیکھتا رہا ہوں جو قلم دوات سے لکھا ہوا ہے اور جلد بندی کے سبب آج کل کے بوسیدہ ریکارڈ کے مقابلے میں صاف ستھرا ہے۔

میرے مشاہدات کے مطابق1947ءسے پہلے کا پٹوار کلچر صحت مندانہ تھا اور اس کے بعد کا غیر صحت مندانہ ہے۔ ان دونوں کے نقشے جو مختلف ہیں، درج ذیل ہیں:

1947ءسے پہلے مالی اور نہری پٹواری اپنے حلقوں کے اندر دیہات میں وہاں کے لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے۔ زمیندار انہیں رہنے کے لئے کچا کوٹھا دیتے تھے۔ اُن کی گھوڑیوں کے لئے چارہ دیتے تھے۔ ایندھن کے لئے اپلے دیتے تھے۔ بال بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے اناج کی صورت میں فصل پکنے پر فصلانہ دیتے تھے۔ اُن کا زمیندار کے ساتھ رشتہ بھائی بندی کا ہوتا تھا اور وہ انہیں تنگ کر کے پیسے نہیں بٹورتے تھے۔ وہ کھیتوں میں اپنی گھوڑیوں پر گھوم کر گرداوری کرتے تھے اور خسرہ گرداوری کی تصدیق نمبردار سے کروا کے اس کے دستخط کرواتے تھے۔ انتقالات پر بھی نمبر دار کی گواہی ہوتی تھی۔ جب اُن کے تیارکردہ ریکارڈ کی بنا پر ٹیکس (مالیہ، آبیانہ، لوکل ریٹ وغیرہ) تشخیص ہوتا تھا تو ٹیکس اور ٹیکس گزاروں کی تفصیل ایک فہرست میں تحصیلدار تیار کرتا تھا، جسے ڈھال باچھ کہتے تھے۔ نمبر دار اس فہرست کے مطابق واجبات وصول کر کے تحصیل کے خزانہ میں جمع کرتا تھا اور اپنی اس خدمت کے عوض حکومت سے پنجوترا لیتا تھا، یعنی وصول کردہ رقم کا پانچ فیصد۔ پٹواری کی گرداوری کی پڑتال انگریز ڈپٹی کمشنر خود بھی چیدہ چیدہ دیہات کے کھیتوں میں گھڑ سواری کر کے کرتے تھے اور خراب شدہ فصلوں کو دیکھ کر اُن کے واجبات معاف بھی کر دیتے تھے۔ پٹواری کا کام ٹیکس کی تشخیص کے لئے درکار معلومات فراہم کرنا ہوتا تھا، یعنی یہ کہ کون کون سا کھیت کس کس نے کاشت کیا ہے اور کون کون سا کھیت کاشتکاری سے محروم رہ گیا ہے۔ ٹیکس لگانا تحصیلدار کا کام ہوتا تھا اور اس کی تیار کردہ ڈھال باچھ کے مطابق ٹیکس وصول کر کے خزانہ میں جمع کرنا نمبردار کا کام ہوتا تھا۔ ٹیکس گزاران نمبردار کے پاس ڈھال باچھ دیکھ کر تسلی کر سکتے تھے کہ ٹیکس اس کے مطابق وصول کیا جا رہا ہے یا اُس سے زیادہ۔ تحصیلدار دیہات کے دورے کیا کرتے تھے اور انتقالات کی تصدیق وہاں جا کر کیا کرتے تھے۔ انہیں اور دورہ کرنے والے دوسرے افسروں اور اہلکاروں کو سہولتیں مہیا کرنا نمبردار کے فرائض منصبی میں شامل تھا۔ نہ کاشتکاروں کو پٹواریوں کے خلاف شکایت ہوتی تھی اور نہ پٹواریوں کو کاشتکاروں کے خلاف کوئی شکوہ ہوتا تھا۔

اس پُرسکون زندگی میں ہیجان قیام پاکستان پر واقع ہوا۔ دیہاتیوں نے تارکین وطن کے مال اسباب لوٹ لئے اور پٹواری نے اُن سے یہ کہہ کر لے لئے کہ حسب الحکم افسران بالایہ ”مال غنیمت“ ، ”بیت المال“ میں جمع کیا جانا ہے۔ اس طرح چوروں کو مور پڑ گئے۔ نہ کوئی ”بیت المال“ بنا تھا نہ کوئی حکم جاری ہوا تھا۔ صرف شیر پٹواریوں کے منہ کو خون لگ گیا تھا، جو آگے بڑھ کر متروکہ زمینوں کی الاٹمنٹوں میں رنگ لایا۔ انہوں نے دیگر بدعنوانیوں کے علاوہ یہ کیا کہ قصبوں اور شہروں کے اردگرد چیدہ چیدہ کھیت اپنے ریکارڈ میں فرضی آدمیوں کے نام الاٹ شدہ دکھا کر اپنی مرضی کے آدمیوں سے کاشت کرانے شروع کر دئیے اور اُن کی آمدنی خود لینی شروع کر دی۔ جب اُن کے پاس پیسے کی ریل پیل شروع ہوگئی تو انہوں نے گھوڑیاں بیچ کر پہلے موٹر سائیکلیں اور پھر موٹر کاریں لے لیں۔ نیز لکھنے پڑھنے کے لئے ریٹائرڈ پٹواری بطور منشی رکھ لئے۔ نمبرداروں اور ان کے اوپر والے زمینداروں (یعنی ذیلداروں اور سفید پوشوں) کے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا کہ وہ انگریزوں کے پٹھو رہے تھے، اس لئے وہ ہٹا دئیے جانے چاہئیں، چنانچہ ذیلدار اور سفید پوش ہٹا دئیے گئے۔ نمبردار باقی رہ گئے تو انہیں پٹواریوں اور تحصیلداروں نے مل کر اتنا ذلیل کیا کہ وہ خود ہی اپنا کام چھوڑ گئے۔ ڈھال باچھیں پٹواریوں کو دے دی گئیں اور واجبات وصول کرنے کا کام ان کے سپرد کر دیا گیا۔ اس طرح وہ سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔ وہ ڈھال باچھ دکھائے بغیر واجبات وصول کرنے اور باقی داروں کی شکایتیں کر کے انہیں جیلوں میں بھجوانے لگ پڑے۔ یہ بہت بُری کارروائی لینڈ ریونیو ایکٹ کی منشاءکے خلاف ہو رہی ہے۔ علاوہ ازیں زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کا قانونی طریقہ یہ ہے کہ یہ سال میں ایک بار لگتا ہے۔ زمینداروں کو ڈیمانڈ نوٹس بھیجا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ٹیکس بنک میں جمع کرنے کے لئے تحصیلدار کا پُر کردہ اور دستخط کردہ چالان فارم بھیجا جاتا ہے۔ پٹواری کا دخل ہے ہی نہیں، لیکن عملاً پٹواری اسے فصل وار، یعنی سال میں دو دو بار وصول کر رہے ہیں اور موجودہ قانون کے تحت عائد کردہ ٹیکس کے علاوہ سابق منسوخ شدہ قانون والا ٹیکس بھی لے رہے ہیں۔ وہ بے دھڑک ہو کر کچی رسید دے دیتے ہیں اور پکی رسید بعد میں دینے کا وعدہ کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں پکی رسید دینے سے ٹال مٹول کر دیتے ہیں۔ وصول کردہ رقم خود ہضم کر لیتے ہیں۔

 پٹواریوں نے رہائش شہروں میں رکھ لی ہوئی ہے۔ اس لئے وہ اپنے حلقے میں نظر بھی کبھی کبھا رآتے ہیں، گرداوری بھی اپنے گھر یا دفتر میں بیٹھ کر ہی فرضی طور پر کر لیتے ہیں۔ وہ کسانوں کو ڈھال باچھ دکھائے بغیر اُن سے زیادہ رقم لیتے ہیں، پھر رشوت لے کر کہتے ہیں کہ مَیں نے رعایت کر کے واجبات کی رقم تھوڑی کر دی ہے ،حالانکہ وہ ڈھال باچھ میں رد و بدل کر ہی نہیں سکتے۔ زمین کی وراثت اور خرید و فروخت کے انتقالوں میں منتقلہ رقبہ تو ٹھیک لکھ لیتے ہیں، لیکن منتقلہ مشترکہ کھاتہ کا منتقلہ حصہ بالعموم غلط لکھ دیتے ہیں، کیونکہ اس غرض کے لئے صحیح ضربیں تقسیمیں کرنا اُن کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اس طرح اس تنازع کی بنیاد پڑ جاتی ہے کہ رقبہ صحیح لکھا گیا ہے یا کھاتا کا منتقلہ حصہ درست لکھا گیا ہے۔ جمعبندیوں تک زمینداروں کی آسان رسائی کے لئے فیلڈ مارشل ایوب خان کے دورِ صدارت میں انہیں یونین کونسلوں کے دفتروں میں رکھ دینے کا حکم صادر ہوا تھا، لیکن اس سے بھی عملی صورت حال میں تبدیلی نہیں آئی تھی۔ اس لئے ملک خدا بخش بچہ مرحوم (جو لینڈ ریونیو سسٹم کے ماہر تھے) کہا کرتے تھے کہ زمینداروں کو جمعبندیوں کی مصدقہ نقلیں لے کر اپنے پاس رکھ لینی چاہئیں تاکہ ان میں رد و بدل نہ ہو سکے۔ حیرانی کی بات ہے کہ قانوناً ہر چار سال کے بعد جمعبندی نئی بننی چاہئے، لیکن ایک اخباری خبر کے مطابق ضلع لاہور میں نئی جمعبندی مدتوں سے نہیں بنی۔ مدتوں پہلے ہی نوابزادہ اصغر علی نے صوبائی اسمبلی میں کہا تھا کہ اوپر ذاتِ باری اور نیچے پٹواری ہے۔ بیچ میں خلقت ساری ہے، بے چاری قسمت ماری ہے“۔ یہ بات یہیں ختم کر کے اپنے ذاتی تجربات چیدہ چیدہ حد تک بطور نمونہ پیش کرتا ہوں:

 ایک بار مَیں اپنے گاو¿ں جا کر کار سے اُترا ہی تھا کہ چوپال میں بیٹھے ایک شخص نے بھاگ کر میرے ہاتھ میں گرداوری کی پرچی پکڑا کر کہا کہ مَیں آپ کا نیا پٹواری ہوں۔ عام لوگوں کو تو ایسی پرچیاں نہیں دیتا، لیکن آپ کو حسب ضابطہ دینی لازم ہے۔ آپ دیکھ لیں کہ گرداوری درست درج کی گئی ہے یا نہیں۔ مجھے اپنے خود کاشت والی زمین کے مربع نمبر زبانی یاد تھے،اس لئے مَیں نے پرچی دیکھتے ہی کہہ دیا کہ اس میں درج ایک مربع والی زمین میری بجائے کسی دوسرے شخص کی کاشت کردہ ہے۔ اگر یہ اندراج قائم رہا تو اس مربع والی زمین کی فصل دوسرا شخص لے جائے گا اور اس کا ٹیکس مجھے دینا پڑ جائے گا۔ اس پر پٹواری نے کہا کہ غلطی ہوگئی ہے۔ اندراج ایسا ہی رکھوں گا، لیکن جب ٹیکس وصول کرنے کا وقت آئے گا تو وہ آپ کی بجائے دوسرے شخص سے لے لوں گا۔

ایک دوسرے پٹواری سے مَیں نے اپنے بیٹے (تنویر حسین) کی فرد ملکیت مانگی تو اس نے اس میں دیگر تنویر حسین ولد رحیم بخش کی زمین شامل کر دی۔ جب مَیں نے باز پُرس کی تو اس نے کہا کہ جناب مَیں نے آپ کو زمین زیادہ ہی دی ہے کم تو نہیں دی۔ مَیں نے اس کو سمجھایا کہ اگر میرا بیٹا تنویر حسین اس فرد کو بنک میں پیش کر کے قرضہ لے لے تو اس کی جعلسازی کی وجہ سے تم دونوں کے خلاف مقدمہ بن سکتا ہے۔

 جب 1972ءکی زرعی اصلاحات ہوئیں تو مَیں نے مصدقہ نقلیں لے کر اُن کی بنا پر فارم پُر کئے اور زمین کا کوئی اخفا نہ کیا، چنانچہ نیچے سے اوپر تک یہ فارم درست پائے گئے اور میرا کوئی رقبہ بھی اصلاحات کی زد میں نہ آیا۔ مَیں مطمئن تھا اور وفاقی حکومت کا جوائنٹ سیکرٹری لگا ہوا تھا تو میرے منشی نے مجھے بورے والا سے ٹیلیفون کیا کہ پٹواری نے پاکپتن جا کر ایک انکوائری کمیٹی کے سامنے میرے فارموں کی پڑتال کے سلسلے میں پیش ہونا ہے وہ مجھ سے خرچہ مانگتا ہے اور پوچھتا ہے کہ بیان کیا دوں۔ مَیں نے جواب دیا کہ کوئی خرچہ نہ دو اور کہو کہ بیان جو دل چاہے دو۔ پٹواری کو طیش آیا ہوگا۔ اس لئے اُس نے میرے ایک ہم نام کا رقبہ میری ملکیت میں شامل کر کے کہا کہ فارموں میں اس رقبہ کو چھپایا گیا ہے۔ کمیٹی نے میرے خلاف رپورٹ لکھ کر فیڈرل لینڈ ریفارم کمیشن کو بھیج دی اور اس نے میرے نام نوٹس جاری کر دیا۔ ایک دوسرے پٹواری نے جو میرے چک میں تعینات رہ چکا تھا۔ مجھے ٹیلیفون کر کے کہا کہ اگر آپ مجھے دوبارہ اپنے چک میں لگوا لیں تو مَیں آپ کو اور کمیشن کو موجودہ پٹواری کی غلط بیانی سمجھا سکتا ہوں، لیکن اس کے بغیر نہیں۔ مَیں نے اسسٹنٹ کمشنر کے ساتھ ٹیلیفون پر اپنا تعارف کروا کے اپنا مسئلہ بیان کر دیا تو اس نے مطلوبہ تبادلہ کر دیا اور جب شرارتی پٹواری نے معطل ہوجانے پر بھی کتابیں اپنے جانشیں کے حوالے کرنے سے انکار کیا تو اسے گرفتار کرا دیا۔ حوالات میں کچھ عرصہ بند رہنے کے بعد اس نے ریکارڈ اپنے جانشین کے حوالے کیا۔ جب کمیشن کے سامنے پیشی ہوئی تو نئے پٹواری نے پوری ذمہ داری کے ساتھ مجھے کہا کہ آپ قانون کی کتابیں پیش نہ کریں اور بحث نہ کریں۔ صرف اتنا کہہ دیں کہ کمیشن کے طلب کرنے پر پٹواری مع ریکارڈ آیا ہوا ہے جو پوچھنا ہے، اُسی سے پوچھ لیں۔ مَیں نے ایسا ہی کہہ دیا تو پٹواری نے بتایا کہ جو رقبہ اخفاءشدہ تصور کیا جا رہا ہے وہ ”جج صاحب“ کی بجائے (یعنی میری بجائے) اُن کے ہم نام کا ہے۔ جب کمیشن کی تسلی ہوگئی تو مَیں نے صرف اتنا ہی کہا کہ مَیں تو کہتا ہوں کہ وہ رقبہ میرا نہیں ہے، اگر آپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ وہ میرا ہے تو لے لیجئے۔ مجھے اس پر اعتراض نہیں ہے۔ فیصلہ میرے حق میں ہوگیا، لیکن شرارتی پٹواری کے خلاف نہ مَیں نے کوئی کارروائی کی، نہ کمیشن نے۔

ایک اور ضلع اور گاو¿ں میں زمینوں کا اشتمال ہوا تو مَیں نے اس میں کوئی دلچسپی نہ لی۔ عملہ اشتمال پر اعتماد کیا اور اُس کے کام کی پڑتال نہ کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کاغذوں میں جو رقبہ میرے بیٹے (فرخ حسین) کے نام الاٹ کیا گیا۔ اس میں سے8 کنال کا قبضہ فرخ حسین کی بجائے کسی دوسرے شخص کو دے دیا گیا۔ برسوں تک اس 8 کنال رقبہ کو وہی کاشت کرتا رہا اور اس کا مفاد اٹھاتا رہا۔ فرخ حسین کو اس بات کا پتہ اس وقت لگا، جب اس رقبے کو حکومت پنجاب نے ایکوائر کر لیا اور اس کے معاوضہ کا چیک فرخ حسین کے نام کا جاری ہوا۔ اُس نے رقم وصول کرنے پر اکتفا کیا اور پٹواری سے باز پُرس کی نہ، نا جائز قابض سے۔

میرے بیٹے (تنویر حسین) کو پٹواری نے کہا کہ آپ کے نام اتنی رقم زرعی ٹیکس کی مد میں واجب الادا ہے اور اتنی مزید رقم مالیہ کی ہے۔ آپ ان میں سے ایک رقم مجھے دے دیں، دوسری نہ دیں۔ تنویر نے کہا کہ نہیں مَیں تمہیں دونوں رقمیں ابھی دے دیتا ہوں، تم مجھے رسید لکھ کر دو اور اس میں یہ بھی لکھ دو کہ اب تنویر حسین کے نام کوئی رقم باقی نہیں رہ گئی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوگیا۔ خوش قسمتی سے تنویر حسین نے یہ تحریر سنبھال کر رکھی۔ اگلے سال جب پٹواری نے دوبارہ رقمیں مانگیں تو تنویر نے رسید دکھا دی اور اس طرح خلاصی ہوگئی۔ عام زمیندار پٹواری سے کچی رسید بھی نہیں لیتے اور اگر لیتے ہیں تو اسے گُم کر بیٹھتے ہیں۔ فی الحقیقت زرعی انکم ٹیکس کی تشخیص قانون میں لکھے ہوئے فارمولے کے مطابق ریونیو افسر خود کر کے رجسٹر ایف میں درج کرتا ہے اور اس کی وصولی کے اندراجات بھی وہی اُس رجسٹر میں کرتا ہے۔ اس نے ڈیمانڈ نوٹس زمیندار کو بھیجنا ہوتا ہے اور ساتھ ہی رقم بنک میں داخل کرنے کے لئے چالان فارم پُر کر کے اور اس پر دستخط کر کے بھیجنا ہوتا ہے۔ زمیندار نے خود رقم بنک میں داخل کرنی ہوتی ہے۔ اس میں پٹواری کا عمل دخل ہوتا ہی نہیں ہے، لیکن وہ پرانے منسوخ شدہ قانون و الا زرعی انکم ٹیکس بھی وصول کر رہا ہے اور رائج الوقت قانون والا زرعی انکم ٹیکس بھی لئے جا رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ دو علیحدہ علیحدہ ٹیکس ہیں۔ ایک کا نام زرعی انکم ٹیکس ہے اور دوسرے کا نام زرعی ٹیکس ہے۔ اس طرح دھوکہ سے بٹوری گئی رقم پٹواری خود ہضم کر لیتا ہے۔ انکم ٹیکس کے لفظ کا ناجائز فائدہ اٹھا کر انکم ٹیکس افسروں نے بھی رشوتیں لے کر کہہ دیا تھا کہ ہم نے تمہاری انکم ٹیکس کی فائل گم کر دی ہے۔

اب میں اختصار کی خاطر اپنے باقی تجربات کو بالائے طاق رکھ کر یہ بتاتا ہوں کہ پٹواریوں کے افسران بالا اور سیاستدان (بشمول گورنروں اور صدروں کے) اس تمام صورت حال سے واقف ہونے کے باوجود کیوں اس کا انسداد نہیں کرتے۔ مَیں تین واقعات بیان کرتا ہوں۔ ایک سابق گورنر جیلانی کا دوسرا سابق صدر جنرل ضیاءالحق کا اور تیسرا الاءریفارم کمیشن کے دورہ کا۔ گورنر جیلانی نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد تمام صوبائی محکموں کے سربراہوں کے ساتھ روشناسی کرنے کے لئے میٹنگوں کا سلسلہ شروع کیا۔ باری آنے پر مَیں بھی اُس وقت ایک غیر عدالتی محکمے کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے میٹنگ میں شریک ہوا۔ میری موجودگی میں شفقت محمود نے (جو اس وقت ڈیرہ غازی خان کے ڈپٹی کمشنر تھے اور اب تحریک انصاف کے مرکزی عہدیدار ہیں) ڈپٹی کمشنر کی نمائندگی کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ بجٹ میں گورنر اور صدر کے دورہ کے اخراجات برداشت کرنے کے لئے رقم مختص کی جانی چاہئے۔ گورنر نے یہ بات سن کر اَن سنی کر دی اور منہ پھیر لیا۔ صدر ضیاءالحق نے ٹوبہ ٹیک سنگھ کا دورہ کیا تو وہاں برسر اجلاس کسی نے الزام لگا دیا کہ آپ کے دورہ کے اخراجات چندہ اکٹھا کر کے برداشت کئے گئے ہیں۔ انتظامیہ کی باز پُرس کی جائے۔ صدر نے کہا کہ باز پُرس کروں گا، لیکن اگر الزام جھوٹا نکلا تو تمہاری بھی خبر لی جائے گی۔ اس کے بعد مزید کوئی خبر بھی پریس میں نہ آئی۔ لاریفارم کمیشن جب بہاولپور گیا تھا تو کمشنر نے ذاتی حیثیت سے اس کے اعزاز میں ڈنر دیا تھا۔ جب کمیشن چلا گیا اور مَیں بحیثیت سیشن جج جیل کا معائنہ کرنے گیا تو حوالاتیوں میں ایک پٹواری بھی شامل تھا۔ اس نے رو رو کر کہنا شروع کر دیا کہ مجھے رشوت ستانی کے الزام میں پکڑ لیا گیا ہے، حالانکہ مَیں نے جو رقم لی تھی وہ کمیشن کی دعوت کا انتظام کرنے کے لئے لی تھی۔ یہ بات سوچنے کی ہے کہ اگر پٹواریوں اور رجسٹری محرروں کی رشوت بند ہو جائے گی تو دوروں اور حکمرانوں کے سیاسی جلسے جلوسوں کے لئے فنڈ کہاں سے آئیں گے۔

 الغرض مسئلہ اتنا سادہ نہیں ہے کہ محض ریکارڈ مال ”کمپیوٹرائزڈ“ کر دینے سے حل ہو جائے۔ ضلع لاہور میں لوگوں کو بیع نامے رجسٹر کرانے کے لئے ایک نقل پٹواری سے لینی پڑتی ہے اور ایک مزید نقل کمپیوٹر کے دفتر سے لینی پڑتی ہے۔ چنانچہ دوگنا خرچہ کرنا پڑتا ہے۔ بعض دفعہ پٹواری کمپیوٹر کے ریکارڈ کو بھی غلط قرار دے دیتا ہے۔

میری رائے ہے کہ حتمی اصلاحات کرنے سے پہلے ماہرین اور عوام کی سوچ بچار کو شامل کیا جانا چاہئے اور سرِ دست اتنا کر دیا جانا چاہئے کہ ڈھال باچھ کی مشتہری کا انتظام کیا جائے تاکہ لوگ اپنے ذمہ واجبات کی صحیح رقم کا پتہ کر کے اور تحصیل سے چالان فارم پاس کرا کے بنک میں رقم بدست خود بحق سرکار جمع کرا سکیں۔ ٭

مزید : کالم