ذاتی انا: بے صبر سیاست کا غیر آئینی ایجنڈا

ذاتی انا: بے صبر سیاست کا غیر آئینی ایجنڈا
ذاتی انا: بے صبر سیاست کا غیر آئینی ایجنڈا
کیپشن:   1

  

انسان جس طرح مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ترقی کے حصول میں جلد کامیابی سے مثبت نتائج تک پہنچنے کی تگ و دو کررہا ہے، پاکستان میں بھی بعض سیاست کار اس انداز کو اختیار کرکے خود برسراقتدار آنے کے لئے میدانِ عمل میں نکلنے کی راہ پر چل پڑے ہیں، حالانکہ سیاست سے دلچسپی رکھنے والا کم و بیش ہر شخص اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ کسی شارٹ کٹ کی بجائے، حصول اقتدار کا یہ بنیادی اصول یاد رکھا جائے کہ اپنے حلقے، شہر، ضلع، ڈویژن، صوبے یا ملک میں اکثریتی لوگوں کے ووٹوں کی حمایت سے ان علاقوں میں منتخب ہونا ضروری ہے، تاکہ جمہوریت کی بنیادی اہلیت حاصل کی جائے۔

 اس آئینی ضرورت کے حصول کے بغیر بھی اب اقتدار حاصل کرنے کی نئی روش دیکھنے میں آ رہی ہے کہ کسی حیلہ بازی سے اصرار کرکے حکومت وقت کو مسند ِ اقتدار سے الگ کرنے کے لئے خوفزدہ کر دیا جائے،تاکہ وہ زیادہ قومی نقصان سے بچنے کے لئے اقتدار چھوڑنے کو ہی بہتر راستہ سمجھ کر اس سے دستبردار ہو جائے۔اس طرح آئندہ تگ و دو کرنے والے ان طبقوں کو شاید اکثریتی عوام کی مطلوبہ حمایت تو حاصل نہ ہو، لیکن حکومتِ وقت کو اقتدار سے منفی حربوں سے ہٹانے کا ان کا خواب پورا ہونا ہی ان کی بڑی کامیابی ہو سکتی ہے۔اس چالبازی سے اگرچہ ملک کو تعمیر و ترقی کے لحاظ سے کافی حد تک نقصان پہنچ جائے، لیکن سازش کاروں کو اس امکان سے کوئی ندامت اور پریشانی لاحق نظر نہیں آتی۔ایسی منصوبہ سازی سے ان کی حب الوطنی اور نیک نیتی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

ماہ اگست 2014ءکا دوسرا ہفتہ گزر گیا ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری کوئی چھ ہفتے قبل کینیڈا سے واپس آئے تھے۔وہ تو اپنے مجوزہ پروگرام ”سیاسی انقلاب“ کے بارے میں مختلف ٹی وی چینلوں پر آئے روز خوب زور و شور سے ، بظاہر آگ بگولا ہو کر موجودہ وفاقی اورپنجاب حکومت کو جلد گرانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ایک تازہ اعلان میں انہوں نے اپنا یہ غیر آئینی اور غیر جمہوری منصوبہ ماہ رواں میں ہی حاصل اور مکمل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔اس وقت ان کا انقلاب مارچ جاری ہے.... اس موضوع پر لال حویلی کے شیخ رشید صاحب کے تذکرے کے بغیر بات ادھوری رہ جانے کا خدشہ ہے۔وہ گزشتہ کئی ماہ سے وزیراعظم نوازشریف سے غالباً اس لئے ناراض اور خفا ہیں کہ موجودہ وفاقی حکومت، سابق فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف پر مقدمہ چلا کر انہیں خصوصی عدالت اسلام آباد سے سزا دلانے کی کوشش کیوں کر رہی ہے، کیونکہ شیخ صاحب، ان کے دور اقتدار میںان کے ساتھ شامل رہے ہیں، حالانکہ اب تو حکومت غیر جانبداری کا مظاہرہ کرکے عدالتی کارروائی کے حتمی نتائج کا انتظار کررہی ہے۔اس بناءپر شیخ رشید آئے روز مختلف ذرائع ابلاغ میں بالخصوص وزیراعظم نوازشریف، وزیراعلیٰ شہباز شریف اور دیگر وفاقی و صوبائی وزراءکی خوب درگت بنانے اور ان کی مٹی پلید کرنے میں اپنی کافی جاندار ابلاغی صلاحیت بروئے کار لاتے ہیں۔

عمران خان صاحب بسا اوقات، چار انتخابی حلقوں میں حکومتی بدعنوانی کا ڈھول پیٹ کر، تمام ملک کے انتخابات کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دینے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ان کا لانگ مارچ بھی جاری ہے۔ پاکستان کے آئین کے مطابق جمہوری طور پر منتخب قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی مدت پانچ سال ہے۔یہاں گزشتہ عام انتخابات 11مئی 2013ءکو نگران حکومت کے زیر انتظام وقوع پذیر ہوئے تھے۔اس وقت نگران وزیراعظم بھی حکمران جماعت پیپلزپارٹی کے نامزد کردہ بلوچستان کے رہنما تھے۔ اسی طرح صوبہ پنجاب میں بھی نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی انہی کے نامزد کردہ سینئر صحافی بنے تھے۔ نگران وزیراعلیٰ پنجاب موصوف نے یہ منصب سنبھالتے ہی انتظامیہ میں چیف سیکرٹری سے پٹواری تک اور انسپکٹر جنرل پولیس سے تھانوں کے محرروں تک تمام افسران اور ماتحت ملازمین کو فوری طور پر تبدیل کر دیا تھا۔اس طرح میاں نوازشریف اور شہباز شریف عام افراد ہونے کی حیثیت سے قومی انتخابات کے نتائج پر اثر انداز کیسے ہو سکتے تھے؟ ان حقائق سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کوئی مشکل نہیں کہ مذکورہ بالا سیاسی ایجنڈا اور اسلامی مارچ سراسر منفی حربے اور سوچی سمجھی سازشیں ہیں جو موجودہ وفاقی اور پنجاب حکومت کو غیر آئینی طور پر گرانے کے لئے اختراع کی جارہی ہیں۔

مزید :

کالم -