آزادی اور انقلاب مارچ کے کرنسی مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب

آزادی اور انقلاب مارچ کے کرنسی مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب

  

لاہور(کامرس رپورٹر)آزادی اور انقلاب مارچ کے پاکستان کی کرنسی مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔جمعہ کو اوپن کرنسی مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر مزید 10پیسے کے اضافے سے 100.10روپے کی سطح پر پہنچ گیا جبکہ حکومت نے بڑی مشکل سے امریکی ڈالر کی قیمت کو 99روپے کی سطح پر مستحکم کر رکھا تھا لیکن آزادی اور انقلاب مارچ کے باعث سرمایہ کاروں نے گھبراہٹ میں دوبارہ ڈالر میں خریداری شروع کر دی ہے جس کی وجہ سے امریکی ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستانی روپے کے مقابلے میں دیگر غیر ملکی کرنسیوں کی شرح تبادلہ کچھ اس طرح رہیں۔آسٹریلین ڈالر کی قیمت فروخت 92.55روپے،کینیڈین ڈالر کی قیمت 91.25روپے ،یورو کی قیمت 132.75 روپے، بھارتی روپے کی قیمت 1.63روپے،سعودی ریال کی قیمت 26.70 روپے،یو اے ای درہم کی قیمت 27.35روپے اور برطانوی پاﺅنڈ کی قیمت فروخت 167روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔بعض کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ اگر آزادی اور انقلاب مارچ جلد ختم نہ ہوا اور سیاسی حالات خراب ہو گئے تو امریکی ڈالر کی قیمت مزید بڑھ سکتی ہے ۔

مزید :

کامرس -