یوم آزادی پر واہگہ سرحد پر رونق

یوم آزادی پر واہگہ سرحد پر رونق

  

پورے ملک میں یوم آزادی پورے جوش و خروش سے منایا گیا۔مروجہ تقاریب کے علاوہ شہریوں نے گھروں پر پرچم لہرائے اور روشنیاں بھی کیں جبکہ پورے ملک میں صبح 8بج کر پچپن منٹ پر سائرن بجے اور ٹریفک روک دی گئی جبکہ 9بجے پرچم کشائی کی رسوم بھی ادا کی گئیں۔گزشتہ برسوں کی طرح اس سال لاہور اور سیاسی مارچ کے راستے والے بعض شہروں میں سجاوٹ بھی ہوئی اور تقاریب منعقد کرنے کے علاوہ پرچم کشائی بھی کی گئی،تاہم شہری گھروں سے باہر نکل کر جس انداز سے یہ دن مناتے تھے ویسے نہ منا سکے کہ شہر پر خوف کی ایک غیر محسوس فضا طاری تھی، چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی کشمکش نے اس مبارک دن کو بھی گنہایا۔

تمام تر حالات کے باوجود لاہور میں واہگہ بارڈر پر حسب معمول رونق اور جوش و خروش تھا، پاکستان رینجرز کی طرف سے بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس والوں کو مٹھائی بھی دی گئی اور ادھر سے یوم آزادی کی مبارک ملی۔شام کے وقت پرچم اتارنے کی تقریب ہوئی جو یادگار حیثیت اختیار کر گئی، اگلے روز (15اگست) بھارت کی طرف سے پاکستان والوں کو مٹھائی کا تحفہ دیا گیا اور مبارک وصول کی گئی۔واہگہ پر سارا دن رونق رہی۔زندہ قومیں اپنی آزادی کا دن مکمل ہوش و حواس اور پورے جوش و خروش سے مناتی ہیں، اس دن پر کسی کو کسی سے کوئی اختلاف نہیں ہوتا،بلکہ باہمی یگانگت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، ہم کسی کو موردالزام نہیں ٹھہراتے، لیکن سیاسی کشمکش کی وجہ سے روائتی جوش میں کمی اور تقریبات کم ہونا اچھی مثال نہیں ہے۔یوم آزادی کے حوالے سے ہر صورت یکجہتی کی مثال بننا ہوگا۔

مزید :

اداریہ -