غریبوں کیلئے قانون پر عمل لازمی ،خرچہ پانی دینے والوں کو خلاف ورزی کی کھلی چھٹی

غریبوں کیلئے قانون پر عمل لازمی ،خرچہ پانی دینے والوں کو خلاف ورزی کی کھلی ...

  

                                       لاہور(شعیب بھٹی)صوبائی دارالحکومت میں تعینات کوالیفائیڈٹریفک وارڈنز نے "ون وے "کی خلاف ورزی کرنے والے غریب شہریوں کے ساتھ سخت رویہ اور انہیں ٹریفک رولز کا پہاڑہ سنانا شروع کردیا ہے جبکہ اپنے دوست احباب ،سفارشیوںاورخرچہ پانی دینے والوں کو کھلم کھلا خلاف ورزی کی اجازت دے رکھی ہے ۔شہریوں نے ٹریفک وارڈنز کی جانب سے دوہرامعیار اپنانے پر حکام سے ان کے خلاف کارروائی کی اپیل کردی۔تفصیلات کے مطابق "پہلے سلام پھر کلام"کا وردکرنے والے پڑھے لکھے ٹریفک وارڈنز کی تعیناتی کے کچھ ہی عرصہ بعدانکا اصل "روپ "دیکھ کر عوام سراپہ احتجاج بن گئے ہیں ۔روزنامہ"پاکستان"کی جانب سے عوامی سروے کے دوران مختلف مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا لو گوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ مختلف شاہراہوں پر ڈیوٹی دینے والے ٹریفک وارڈنز کی جانب شہریوں کے ساتھ بحث وتکرار تو پہلے ہی معمول بن چکا ہے لیکن اب تو ٹریفک وارڈنز نے دوہرے معیاراپناتے ہوئے حد کردی ہے اور انہوں نے مبینہ طور پراپنے دوست احباب اور خرچہ پانی دینے والے افراد کوون وے کی خلاف ورزی کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے جبکہ اگر کوئی غریب آدامی پٹرول کی بچت کے چکر میں اگر وہاں گزرنے لگے تو اسے فوری "ٹریفک رولز"کا پہاڑہ سنانا شروع کردیا جاتا ہے ۔شہریوں کا کہنا تھا کہ ؑٹریفک وارڈنز کی جانب سے شہریوں کے ساتھ دوہرامعیار رکھنے والے ٹریفک وارڈنز کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے اگر انہیں سٹرکوں پرتعینات کر کے عوام کی اصلاح اور ٹریفک کا شعور اجاگر کرنے کا "علم"تھمایا ہے تو پھر انہیں چاہیے کہ اپنی ڈیوٹی کو احسن طریقے سے سرانجام دیتے ہوئے شہریوں کو "ایجوکیٹ"کریں نہ کہ من پسند ،دوست احباب اور دیگر کو خرچہ پانی ملنے پر جانے دیا جائے کیونکہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور ان کے ساتھ سلوک بھی مساوی کرنا چاہیے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسا کرنے والے تعلیم یافتہ وارڈنز کا شہریوں کی نظر میں دن بدن "مورال"بلند ہونے کی بجائے کم ہوتا جارہا ہے جو ٹریفک وارڈنز کی احسن کارکردگی کا دم بھرنے والے حکام بالاکے لیے سوالیہ نشان ہے۔

مزید :

علاقائی -