پیپلز پارٹی خوش ہے

پیپلز پارٹی خوش ہے
پیپلز پارٹی خوش ہے
کیپشن:   1

  

مفروضہ یہ ہے کہ عمران خان کے لانگ مارچ سے پیپلز پارٹی خوش ہے ، سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے اور جواب یہ ہے کہ چونکہ پیپلز پارٹی کے لئے ناممکن ہو چکا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی قلعے ، یعنی لاہور کا قبضہ مسلم لیگ(ن) سے واپس لے لے ، عمران خان اس کے لئے امید کی کرن ہے، جو پنجاب کی شہری سیاست میں نواز شریف کی ٹکر کا جوڑ ثابت ہو سکتا ہے اور اس کے ووٹ بینک کو توڑسکتا ہے، کیونکہ پیپلز پارٹی کے حلقوں کا خیال ہے عمران خان نواز شریف کے ووٹ بینک پر ڈاکہ ڈالے گا اور یوں نواز شریف کی طاقت ہوا ہو جائے گی۔ یہ الگ بات کہ مئی 2013کے عام انتخابات میں تمام حلقوں میں پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک ”اگلی واری فر زرداری“ کا ورد کرتے ہوئے جوق در جوق تحریک انصاف کے ڈبوں میں منتقل ہوتا رہا !

تاہم آزادی مارچ سے پیپلز پارٹی میں امید کی ایک نئی کرن پیدا ہوئی ہے، جس کا سبب یہ ہے کہ عمران خان کی شکل میں پنجاب کی شہری آبادیوں کے لئے نواز شریف کی متبادل لیڈرشپ کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے اور یوں پنجاب کی شہری اور دیہی سیاست میں وہ توازن پیدا کیا جا سکتا ہے، جس کی تلاش پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی و غیر سیاسی حلقوں کو مدت سے ہے!

چنانچہ لانگ مارچوں کے موسم میں پیپلز پارٹی کا خوش ہونا فطری بات ہے، کیونکہ اس صورت حال میں پیپلز پارٹی کے لئے دوبارہ سے پنجاب میں انٹری کا دروازہ کھل سکتا ہے، پنجاب کی مڈل کلاس کے لئے ایک نئی آپشن پیدا کرکے یہاں کا ووٹ بینک تقسیم کیا جا سکتا ہے ، یہاں کے پاپولر ووٹ میں رخنہ ڈالا جا سکتا ہے ، اسے چیلنج کیا جا سکتا ہے، عمران کے ذریعے عوام کے بڑے حلقوں کو متاثر کیا جا سکتا ہے اور اگر عمران خان کل کو ایک دیدہ زیب انتخابی پروگرام لے آئے تو لوگوںکو ذہنی طور پر ووٹ کے لئے آمادہ بھی کیا جاسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے لانگ مارچ کے دوران پیپلزپارٹی کے پنجابی لیڈروں کی گفتگو سُن کر محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان لانگ مارچ کو پیپلزپارٹی نے اپنے بازوﺅں میں لیا ہوا ہے اور اسے کامیاب بنانے کے لئے تھوک سے بھی پکوڑے تلنے پڑے تو تلے گی ،پھر بھی بات نہ بنی تو اگلے لانگ مارچ میں عمران کو کندھوں پر اُٹھا کر جی ٹی روڈ پر چلے گی، کیونکہ پیپلز پارٹی جمہوریت کے ساتھ ہے ،حکومت کے ساتھ ہو نہ ہو!

اس میں شک نہیں کہ عمران خان نواز شریف کی ناک کا بال بن چکے ہیںاور اس ضمن میں پیپلز پارٹی کی نیک خواہشات کا بھی حاصا عمل دخل رہا ہے ،تبھی تو عمران خان نے آصف زرداری کے دور حکومت کو نواز شریف کے موجودہ دور حکومت سے کہیں بہتر قرار دیا ہے، اس صورت حال میں کل کلاں کو اگر کوئی اپوزیشن کا گرینڈ الائنس معرض وجود میں آجائے، تو پنجاب کی حد تک پیپلزپارٹی کو عمران خان کی قیادت میں ایک اور لانگ مارچ رچانے میں کوئی تردد نہ ہوگا!

 جس طرح سے 14اگست کو عمران خان کا کنٹینر لاہور کی مال روڈپر رینگا ہے اور عمران خان نے لاہور کی مال روڈ کو کرکٹ گراﺅنڈ کی پچ بنا کر اپنے بلے سے شاٹیں کھیلی ہیںاور وہ سنچری مارلی ہے، جس کے بعد کھلاڑی سے گرے ہوئے کیچوںکا حساب کم ہی مانگا جاتا ہے، بس اگر کوئی بات قابل ذکر ہوتی ہے تو مخالف فیلڈرز کی دوڑیں ہوتی ہیں جو وہ میدان میں چاروں طرف لگاتے ہیں ،ہمیں کامل یقین ہے کہ مسلم لیگ(ن) نے خدا کا شکر اس وقت ادا کیا ہے، جب عمران خان کا لانگ مارچ شاہدرہ کراس کرگیا ہے، لیکن گوجرانوالہ میں جو صورت حال پیدا ہوئی اس سے ایک بار پھر سے مسلم لیگ(ن) کے ہاتھوں کے طوطے اُڑتے ہوئے محسوس ہوئے اور اگر اس صورت حال میں بھی کسی جماعت کے ترجمانوں نے کھل کر بات کی، تو وہ پیپلز پارٹی ہی تھی، دوسرے لفظوں میں ایک لانگ مارچ وہ ہے، جو عمران خان جی ٹی روڈ پر لے کر چل رہے ہیں اور دوسرا لانگ مارچ وہ ہے ،جو پیپلزپارٹی نے پرائیویٹ ٹی وی چینلوں کے سٹوڈیوز میں شروع کر رکھا ہے اور نون لیگ کو بیک وقت دونوں محاذوں پر لڑنا پڑرہا ہے ، تحمل کے ساتھ!

مزید :

کالم -