حکومت نے آزادی اور انقلاب مارچ روکنے کے لیے دو گنا زیادہ کرائے پر کنٹینر حاصل کئے

حکومت نے آزادی اور انقلاب مارچ روکنے کے لیے دو گنا زیادہ کرائے پر کنٹینر ...

  

                                    لاہور(صبغت اللہ چودھری)حکومت نے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے لانگ مارچ روکنے کیلئے معمول سے دو گنا زیادہ کرائے پر کنٹینرز حاصل کئے جن کے مجموعی کرایے کا تخمینہ ایک ارب روپے لگایا گیا ہے،ذرائع کے مطابق اسلام آباد سیل کرنے کیلئے جو کنٹینرز مختلف کمپنیوں سے کرایہ پر لئے گئے وہ معمول کے کرایہ کے مقابلہ میں دوگنا سے بھی زائد ریٹ پر لئے گئے ہیں ۔ذرائع کے مطابق شدید تناﺅ اور ٹینشن کے ماحول میں بھی کمیشن مافیا نے مال بنانے سے گریز نہیں کیا اور کنٹینرز کے حصول کے دوران بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔رواں ماہ کے شروع میں دونوں جماعتوں کے مارچ کو روکنے کے لئے اسلام آباد اور لاہور کو سیل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا، لاہور کو سیل کرنے کے لئے پنجاب پولیس نے کنٹینرز کرایہ پر لینے کے بجائے صنعت کاروں اور تاجروں کے شہر سے باہر جانے والے اور شہر میں آنے والے کنٹینرز پکڑ کر سڑکوں پر لگا دیئے ۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کو سیل کرنے کے لئے مختلف کمپنیوں سے 40 فٹ کنٹینرز لئے گئے ہیں ۔ مختلف ذرائع کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی کو سیل کرنے کے لئے جو کنٹینرز کرایہ پر لئے گئے ہیں ان کی تعداد تقریبا بارہ سو کے قریب ہے جس میں سے تقریبا ایک ہزار کنٹینرز اسلام آباد اور راولپنڈی کی مختلف سڑکوں پر کھڑے کرکے ان میں مٹی بھر دی گئی تھی جبکہ دو سو کے قریب کنٹینرز کو راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف مقامات پر سٹینڈ بائی کے طور پر کھڑا کیا گیا ہے ۔ جن شپنگ کمپنیوں سے کنٹینرز لئے گئے ہیں ان میں او او سی ایل ، اے پی ایل ، ہینجن سمیت دیگر کمپنیاں شامل ہیں ۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی کو سیل کرنے کے لئے کنٹینرز 15000 روپے یومیہ کے حساب سے کرایہ پر لئے گئے ہیں جبکہ 40 فٹ کے خالی کنٹینرز کا معمول کا کرایہ چھ ہزار سے آٹھ ہزار روپے یومیہ ہے ۔ اس طرح کنٹینرز دوگنا سے بھی زائد کرایہ پر لئے گئے ہیں ۔ یہ کنٹینرز رواں ماہ کے شروع میں دو اگست سے کرایہ پر لئے گئے ہیں اور تین اگست سے ان کو مرحلہ وار مختلف سڑکوں پر کھڑا کیا گیا ہے ۔اب تک ان کنٹینرز کو کرایہ پر لئے بارہ دن گرز گئے ہیں گزشتہ روز تک کنٹینرز کی مد میں 21 کروڑ 60 لاکھ روپے کا کرایہ واجب الادا ہو گیا ہے ۔ حکومت کی گزشتہ روز کی نئی پالیسی کے مطابق دونوں جماعتوں کے مارچ کو اسلام آباد داخل ہونے کی اجازت تو دے دی گئی ہے لیکن ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے گزشتہ رات سے دیگر سڑکوں سے کنٹینرز ہٹا کر ریڈ زون کے ارد گرد کھڑے کئے جا رہے ہیں ۔ ایک اندازہ کے مطابق جب تک یہ معاملہ ختم ہو گا تو کنٹینرز کا کرایہ ایک ارب روپے تک واجب الادا ہو جائے گا ۔

کنٹینر

مزید :

صفحہ آخر -