کشمیر بنے گا پاکستان کشمیریوں نے بھارت کا یوم آزادی" یوم سیاہ" کے طور پر منایا

کشمیر بنے گا پاکستان کشمیریوں نے بھارت کا یوم آزادی" یوم سیاہ" کے طور پر منایا ...

  

                              سری نگر/مظفرآباد(اے این این) کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اوردنیابھرمیں مقیم کشمیریوں نے بھارت کا یوم آزادی یوم یوم سیاہ کے طورپرمنایا،وادی بھرمیں مکمل ہڑتال،تمام سرکاری اورنجی ادارے بندرہے،سڑکیں سنسان رہیں، بھارت مخالف مظاہروں کوروکنے کےلئے سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات ،پوری ریاست کوفوجی چھاونی میں بدل دیاگیا،موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ کی سہولت معطل ، سیدعلی گیلانی اورمیرواعظ عمرفاروق سمیت دیگرحریت رہنماو¿ں کوگھروں میں نظربندکردیاگیا،سخت سیکورٹی کے باوجودبیشترمقامات پرنوجوان سڑکوں پرنقل آئے،پاکستان زندہ باد کے نعرے،گورنمنٹ ڈگری کالج کولگام کے طلبا ء پرقابض فوجیوں کاوحشیانہ تشدد، متعدد گرفتار، وزیراعظم آزادکشمیرچوہدری عبدالمجید نے یوم سیاہ کے موقع پرمظفرآبادمیں نکالی گئی ریلی کی قیادت کی اوراقوام متحدہ کے مبصر مشن کوکشمیریوں پربھارتی مظالم کے خلاف یاداشت پیش کی ۔تفصیلات کے مطابق 15اگست کوہرسال کی طرح بھارت کے 68ویں یوم آزادی کوبھی کشمیریوں نے یوم سیاہ کے طورپرمنایاجس کامقصد عالمی برادری کو یہ باور کرا ناہے کہ بھارت نے کشمیریوں کا حق خود ارادیت سلب کررکھا ہے۔ اس موقع پرریاست بھرمیں مکمل ہڑتال رہی جبکہ سڑکوں پر سناٹا چھایارہا جبکہ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کوروکنے کےلئے قابض فوج اورریاستی انتظامیہ کی طرف سے سیکورٹی کے انتہائی غیرمعمولی اقدامات کئے گئے۔ گذشتہ کئی دنوں سے فوج اورریاستی پولیس کے اہلکاروں نے جگہ جگہ نا کے لگا کرگاڑیوںکی چیکنگ کاسلسلہ شروع کررکھاتھاجبکہ راہ گیروں کی بھی تلاشی لی جاتی رہی ۔ سرینگر اور دوسرے حساس قصبوں میں فوج کی بھاری نفری تعینات کی گئی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی بھاری تعدادسڑکوں اور گلی کوچوں میں گشت کررہی ۔سرکاری تقریبات کے اختتام تک کشمیر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولیات کو بھی معطل رکھا گیا جبکہ سید علی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق، یاسین ملک، شبیر احمد شاہ اور دیگر حریت رہنماﺅں کونظربندکردیاگیا ۔ سخت سیکورٹی کے باوجودبیشترمقامات پرنوجوان سڑکوں پرنکل آئے اورپاکستان اورآزادی کے حق میں نعرے بازی کی جبکہ  گورنمنٹ ڈگری کالج کولگام کے طلبا نے کالج میں بھارتی یوم آزادی کی تقریبات کی مشقوں کے انعقاد کے خلاف احتجاج کیا۔ قابض فوجیوں نے طلباکو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا اور متعدد کو گرفتار کر لیا۔ادھربھارتی یوم آزادی کے حوالے سے ریاست میں مرکزی تقریب سری نگرکے بخشی اسٹیڈیم میں ہوئی جہاں وزیراعلی عمرعبداللہ نے ترنگا لہرایا۔ اپنی طویل تقریر میں انھوں نے کہا کہ کشمیر میں مسلح تشدد کی سطح میں 80 فی صد کمی ریکارذ کی گئی ہے اور وہ دن دور نہیں جب کشمیر میں تعینات بھارتی افواج کو حاصل قانونی اختیارات واپس لے لیے جائیں گے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ جیلوں میں صرف سو نوجوان قید ہیں اور 25سال قبل پاکستان جانے والے ساڑھے تین سو نوجوان بیوی بچوں سمیت واپس لوٹے ہیں۔واضح رہے کہ ایک روزقبل پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر سرینگر سمیت مقبوضہ کشمیرکے دیگر مقامات پر حریت پسند کارکنوں نے پاکستان کے پرچم لہرائے جنھیں فورا پولیس نے ہٹالیا تھا۔ علاوہ ازیں بھارت کے یوم آزادی کے موقع پرآزادکشمیرکے مختلف مقامات پربھی احتجاجی جلسے جلوس منعقدکئے گئے جبکہ وزیراعظم آزادکشمیرچوہدری عبدالمجید،وزیرخزانہ چوہدری لطیف اکبر،وزیرتعمیرات چوہدری رشید،حریت رہنماءغلام محمدصفی اوردیگرنے یوم سیاہ کے موقع پرنکالی گئی ریلی کی قیادت کی اوراقوام متحدہ کے مبصر مشن کوکشمیریوں پربھارتی مظالم کے خلاف یاداشت پیش کی۔

یوم سیاہ

مزید :

صفحہ آخر -