جان بچانے کےلئے آئی ایس آئی ایس نے حکمت عملی تبدیل کر لی

جان بچانے کےلئے آئی ایس آئی ایس نے حکمت عملی تبدیل کر لی
جان بچانے کےلئے آئی ایس آئی ایس نے حکمت عملی تبدیل کر لی

  

بغداد (نیوز ڈیسک) عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند گروپ ISIS (داعش) نے بہت کم عرصے میں بے حد تیزی سے پیشرفت کی ہے اور ان ممالک میں ایک بڑے علاقے پر قبضہ کرلیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق یہ گروہ اب تک باقاعدہ منظم فوج کی شکل میں پیشقدمی کررہا تھا تاہم حال ہی میں امریکہ کی جانب سے کئے جانے والی فضائی حملوں کے بعد یہ حکمت عملی تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کی جانب سے فضائی حملے یزیدیوں کو اس گروپ کے خسارے سے نکالنے اور اس کی پیشقدمی کی رفتار سست کرنے کے لئے کئے گئے تھے۔ ان حملوں کے بعد بظاہر ISIS نے اب بکھر کر مقامی آبادی میں خم ہوکر لڑائی جاری رکھنے کی حکمت عملی اختیار کرلی ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ اس گروہ کے اراکین اب گوریلا کارروائیوں کے ذریعے سیکیورٹی فورسز کے خلاف لڑائی جاری رکھے گیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس گروہ کی تیز رفتار پیشقدمی کی بنیادی وجہ عراق کی انتہائی کمزور ایئرفورس ہے، اگر اس کی فضائیہ باصلاحیت ہوتی تو شاید ISIS کو لڑائی میں شدید دشواری پیش آتی۔ دوسری جانب امریکی فوجی حکام کے مطابق فضائی کارروائیوں کے ذریعے ISIS کی رفتار تو کم کی جاسکتی ہے لیکن اس کا مکمل خاتمہ ممکن نہ ہوگا۔ اس کے بھرپور مقابلے کے لئے زمینی دستوں کا استعمال بھی انتہائی ضروری ہے تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

مزید :

بین الاقوامی -