امریکی عدالت نے ’حاملہ مرد‘ کو طلاق کا حق دے دیا

امریکی عدالت نے ’حاملہ مرد‘ کو طلاق کا حق دے دیا
امریکی عدالت نے ’حاملہ مرد‘ کو طلاق کا حق دے دیا

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) امریکہ میں عدالت نے تین دفعہ حاملہ ہونے اور تین بچوں کو جنم دینے والے مرد کو اجازت دے دی ہے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے کر علیحدہ ہوجائے۔ چالیس سالہ شخص تھامس بیٹی پیدائشی طور پر عورت تھا لیکن بعد میں اس نے اپنی جنس تبدیل کرنے کیلئے ہارمون کا استعمال اور پلاسٹک سرجری کروانا شروع کردی۔ اسی دوران اس نے ٹینسی نامی خاتون سے شادی بھی کرلی لیکن ابھی وہ مکمل مرد نہیں بنا تھا اور اس کے جسم میں مادہ تولیدی اعضاءبھی ابھی موجود تھے۔ چونکہ وہ ابھی اندر سے عورت ہی تھا لہذا ان کے ہاں بچے پیدا نہیں ہورہے تھے جس پر تھامس نے عطیہ کئے گئے سپرم حاصل کرکے خود کو حاملہ کرلیا اور اس طرح اس نے یکے بعد دیگرے تین بچے بھی پیدا کرلئے۔ اب ان کے درمیاں اختلافات شدید ہونے پر دونوں نے عدالت کا رخ کیا اور طلاق کی استدعا کی لیکن ابتدائی طور پر عدالت نے دونوں کو عورت قرار دے کر فیصلہ کیا کہ ان کی شادی قانونی نہیں تھی جس پر انہوں نے ایریزونا کورٹ آف اپیلز کا رُخ کیا جہاں تھامس کو مرد اور ان کی شادی کو قانونی تسلیم کرنے کے بعد جج نے انہیں طلاق کا حق دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ جوڑا اپنے بچوں کی پیدائش کو قانونی ثابت کرنے کیلئے قانونی طریقے سے طلاق کا خواہشمند تھا۔

  •  
  •  

مزید :

ڈیلی بائیٹس -