مذاکرات، مطالبات، زیادہ تر منظور، مڈٹرم نامنظور!

مذاکرات، مطالبات، زیادہ تر منظور، مڈٹرم نامنظور!
مذاکرات، مطالبات، زیادہ تر منظور، مڈٹرم نامنظور!

  

تجزیہ چودھری خادم حسین

تادم تحریر انقلاب مارچ اور آزادی مارچ اسلام آباد کے لئے رواں دواں ہیں، ان سطور کی اشاعت تک یہ دونوں مارچ اپنے اپنے مقررہ مقام پر پہنچ چکے اور امکانی طور پر خطاب بھی ہوئے ہوں گے یا پھر باقاعدہ جلسے آج ہوں گے۔حکومت نے دونوں کے لئے الگ الگ مقام کا تعین کرکے اجازت دی اور یقین ظاہر کیا کہ اجتماع پر امن ہوں گے اور ریڈزون سیکیورٹی متاثر نہیں ہوگی۔پوری قوم دعا گو ہے کہ یہ احتجاج پرامن طور پر اختتام پذیر ہو جو ایک بحرانی شکل اختیار کر چکا ہوا ہے اور پوری قوم ہیجان میں مبتلا ہے۔

انقلاب مارچ اور آزادی مارچ کا سفر افہام و تفہیم کے جذبے کے تحت مکمل ہوا ہے۔وفاقی اور صوبائی حکومت نے طویل مشاورت، اداروں کی رپورٹوں اور مصالحت کی کوشش کرنے والے حضرات کی محنت کی روشنی میں دونوں مارچوں کو فری ہینڈ دے کر شدت پسندانہ محاذ آرائی کو ناکام بنا دیا تھا، اس میں نمایاں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، گورنر پنجاب چودھری محمد سرور، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور دوسری بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین کی کوششوں کا ہے اور یہ ایک اچھی علامت ہے، ان سطور کے تحریر کرتے وقت تک عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے مطالبات وہی تھے جو وہ دہراتے چلے آ رہے ہیں، آج کی صورت حال کے بعد صورت حال مزید واضح ہو گی۔

ہماری اطلاع کے مطابق حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات یقینی ہیں، جن کی کامیابی کے نتیجے میں یہ سلسلہ پرامن طور پر اختتام پذیر ہو جائے گا، امکان غالب ہے کہ اب تک کے مصالحت کنندگان ہی نئی کوشش بھی کریں گے۔باخبر حلقوں کے مطابق یہ مذاکرات بہتر ماحول میں ہوں گے اور تمام مطالبات پر کھلے دل سے غور کیا جائے گا، انتخابی عمل سے متعلق تمام مطالبات اصولی طور پر پہلے ہی تسلیم کئے گئے صرف رسمی طور پر اعلان ہونا ہے البتہ ٹائم فریم اور طریق کار پر بحث ہو سکتی ہے، اسی طرح اسمبلیاں توڑ کر نئے انتخابات والا مطالبہ دلائل کے ساتھ نامنظور کیا جائے گا کہ شفاف انتخابات کا مطالبہ ہے تو پہلے انتخابی اصلاحات کر لی جائیں، یہ بھی پتہ چلا ہے کہ بعض سرکاری شعبوں کی طرف سے مبینہ زیادتیوں کے حوالے سے بھی کچھ فیصلے ہو سکتے ہیں، یہ سب آج (ہفتہ) سے شروع ہوگا اور ایک مرتبہ پھر سابقہ ثالثوں کو کردار ادا کرنا ہوگا، فی الحال تو صورت حال یہ ہے کہ سرکار کو اجازت سے مشروط بعض وعدوں کی خلاف ورزی کی بھی شکائت ہے اس پر زیادہ زور نہیں دیا جائے گا۔اس سلسلے میں اچھے ماحول اور جذبات پر عقل کے حاوی ہونے کی دعا کرنا چاہیے۔

قارئین! آپ کے لئے یہ اطلاع اہم ہے کہ دونوں مارچوں کے الگ الگ رہنے کی بھی ایک کہانی ہے، ہم نے ان سطور پر دونوں جماعتوں کے قائدین کی انا پرستی کا ذکر کیا ہوا ہے، یہ انا پرستی دونوں مارچوں کو الگ الگ کر گئی اور بعض حضرات کی بہترین کوششوں کے باوجود مشترکہ مارچ نہ ہو سکا، یہ خبر تو ان مارچوں کی رپورٹنگ کے ذمہ دار حضرات کو تلاش کرنا چاہیے۔ ہماری اطلاع تو یہ ہے کہ چودھری برادران اور شیخ رشید نے ڈاکٹر طاہر القادری کو قائل کرلیا ہوا تھا لیکن وہ عمران خان کو منانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔چودھری اور شیخ رشید حکمت عملی کے تحت الگ الگ بات کرتے رہے۔شیخ رشید نے درمیانی آدمی کا کردار اپنایا لیکن ان کو کامیابی نہ ہوئی۔حالانکہ جب دونوں مارچ روانہ ہوئے تو ایک وقت میں پاکستان عوامی تحریک کا مارچ، تحریک انصاف والے مارچ کے عقب میں پہنچ گیا تھا اور یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ آگے پیچھے چلتے ہوئے اکٹھے اسلام آباد پہنچ کر مشترکہ جلسہ کر لیں گے مگر ایسا نہ ہوا اور تحریک انصاف کی قیادت نے اپنے جلوس یا مارچ کی رفتار بہت سست کر دی اور عوامی تحریک کے انقلاب مارچ کو اپنے سے پہلے گزر جانے دیا اور صورت حال یہ ہو گئی کہ انقلاب مارچ کھاریاں میں مختصر قیام کے بعد روانہ ہوا تو آزادی مارچ گوجرانوالہ میں داخل ہو رہا تھا، تحقیقی رپورٹنگ والوں کے لئے یہ دلچسپ سٹوری ہو سکتی ہے، اندرونی کہانی معلوم کر لیں۔

مڈٹرم نامنظور

مزید :

تجزیہ -