سپریم کورٹ نے ریاستی اداروں کو غیر آئینی اقدام سے روک دیا

سپریم کورٹ نے ریاستی اداروں کو غیر آئینی اقدام سے روک دیا

  

                     اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ،اے این این) سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے ممکنہ ماورائے آئین اقدام کو روکنے کے لیے دائر درخواست پر عبوری حکم جاری کر دیا ہے جس میں قراردیاگیا ہے کہ کوئی بھی ریاستی ادارہ یا اہلکار ماورائے آئین اقدام کرے تو یہ آئین سے غداری ہو گی ،درخواست سماعت کےلئے منظور کرلی گئی ہے، اگلی سماعت 18 اگست کو ہوگی ۔جمعہ کویہ عبوری حکم چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس مشیر عالم اور جسٹس آصف سعید کھوسہ پرمشتمل لارجربنچ نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کامران مرتضیٰ کی طرف سے دائر کی گئی درخواست پرجاری کیا درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ملک کی موجودہ صورتحال خراب ہے کچھ سیاسی جماعتیں الیکشن کو دھاندلی شدہ قرار دے کر ایسے مطالبات کررہی ہیں جو آئین کے دائرہ کار میں نہیں آتے اس سلسلے میں لانگ مارچ اور دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں کچھ ادارے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غیرآئینی اقدام کرسکتے ہیں جس سے جمہوریت ڈی ریل ہوسکتی ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ملک کی موجودہ صورت حال میں شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق پامال نہ کیے جائیں اور کوئی مجاز اتھارٹی اور ریاستی ادارے کسی بھی صورت میں ماروائے آئین اقدام نہ کریں۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک کی موجودہ صورت حال میں سیاسی حلقوں اور مبصرین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ کسی بھی ریاستی ادارے کی جانب سے ماورائے آئین اقدام کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی صورت حال میں شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ درخواست کی سماعت کے آغازپر کامران مرتضی نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران میں ملک میں غیر یقینی سیاسی صورتحال ہے جس کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کوئی طالع آزما دوبارہ جمہوری حکومت پر شب خون مار کر اقتدار پر قبضہ نہ کر لے ، پارلیمنٹ میں بھی خطرہ ظاہر کیا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں کوئی غیر آئینی اقدام ہوسکتا ہے اور اس سلسلے میں قومی اسمبلی نے قرارداد بھی منظور کی ہے اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ غالباً درخواست گزار کا اشارہ فوج کی جانب ہے کیونکہ اس سے پہلے بھی جمہوری حکومتوں پر شب خون مارا گیا تاہم انہوں نے کہا کہ اس وقت حالات اور تھے اور آج اور ہیں۔ کامران مرتضی نے کہا کہ موجودہ ملکی صورت حال میں حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات سے آئین کے تحت عوام کو دیئے گئے بنیادی حقوق معطل ہوگئے ہیں ۔ انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ حکم جاری کریں کہ کوئی ماورائے آئین قدم نہ اٹھایا جائے۔کامران مرتضی کے دلائل کے جواب میں اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ عمران خان اور طاہر القادری کے مطالبات کو غیر آئینی قراردے چکی ہے ان اقدامات کی وجہ سے کراچی اسٹاک ایکسچینج میں اربوں روپے کا نقصان ہوگیا ہے، آرٹیکل 9 اور 13 بھی بنیادی حقوق ہیں جو دھرنوں کی وجہ سے معطل ہوسکتے ہیں۔عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد درخواست سماعت کے لئے منظور کر لی اور عبوری حکم جاری کیا کہ عدالت نے تمام سٹیٹ اتھارٹیز اورفنگشریز کو ہدایات جاری کی ہے کہ آئین وقانون کے تحت کام کریں۔ کوئی بھی ریاستی ادارہ محاورائے آئین اقدامات کرے تو آئین سے غداری ہوگی اس ضمن میں عدالت عظمی 31 جولائی 2009 کو بھی ایک فیصلہ سناچکی ہے۔ کیس کی مزید سماعت 18 اگست کو ہوگی۔ یاد رہے کہ دو نومبر2007ءکو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار وجیہ الدین کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن نے ایک درخواست دائر کی تھی کہ ملک میں بعض ریاستی ادارے ماورائے آئین اقدام کر سکتے ہیں۔جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک لارجر بنچ نے اس درخواست کی سماعت پانچ نومبر کے لیے مقرر کی تھی تاہم اس درخواست کی سماعت سے قبل ہی تین نومبر کو پرویز مشرف کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی عائد کر دی گئی تھی۔

مزید :

صفحہ اول -