پشاور شدید بارش اور ژالہ باری ،چھتیں گرنے سے 3بچوں سمیت16افراد جاں بحق ،80زخمی

پشاور شدید بارش اور ژالہ باری ،چھتیں گرنے سے 3بچوں سمیت16افراد جاں بحق ،80زخمی ...

  

              پشاور(آن لائن) صوبائی دارالحکومت پشاور میں شدید بارش اور ژالہ باری کے باعث درجنوں مکانات گرنے کے واقعات میں تین بچوں سمیت 16 افراد جاں بحق اور 80 سے زائدزخمی ہو گئے ۔ شدید بارش کے بعد صوبائی دارالحکومت پشاور کے تمام چھوٹے بڑے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام اداروں کو الرٹ کر دیا ہے ۔ وزیراعظم نوازشریف نے پشاور میں طوفانی بارشوں کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لئے تین لاکھ روپے فی کس اور زخمی ہونے والوں کے لئے فی کس ایک لاکھ روپے امداد کا اعلان کرتے ہوئے این ڈی ایم اے کو فوری طور پر امدادی کاروائیوں کے آغاز کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کوہر قسم کی مدد کی یقین دہانی بھی کروائی۔وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے پشاور سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں طوفان باد و باران کی وجہ سے چھتیں گرنے اور ان میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر انتہائی دکھ و افسوس کا اظہار کیا ہے انہوں نے ان واقعات میں کھڑی فصلوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچنے پر بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ایک تعزیتی پیغام میں وزیراعلیٰ نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا انہوں نے جاں بحق افراد کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔انہوں نے ہلاک ہونے والوں کے لئے3،3لاکھ اور زخمےوں کے لئے 50ہزار کا اعلان کےا ہے،پشاور میں سیلاب کے شدید ترین خطرات کے باعث چالیس یونین کونسلوں کو انتہائی حساس ترین قرار دے دیا ہے ۔حساس ترین یونین کونسلوں میں سیلاب کے شدید ترین خطرات کے باعث شہریوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے ۔شدید بارش اور ژالہ باری کے باعث شہر اور گردونواح کے درجنوں علاقے زیر آب آگئے ہیں اور گندا پانی گھروں میں داخل ہو گیا ہے ۔ شدید بارش اور ژالہ باری کے باعث چارسدہ روڈ ، شبقدر اور اس کے گردو نواح کے علاقوں کا رابطہ پشاور سے منقطع ہو گیا۔ بارش کے باعث شہر بھر میں درجنوں فیڈرزٹرپ ہوگئے اور سینکڑوں علاقے تاریکی میں ڈوب گئے جس کے باعث شہریوں کو شدید ترین مشکلات درپیش آئیں ۔ بارش کے باعث ٹیلیفون کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا۔ پی آئی اے سمیت مختلف ایئر لائنز کے آپریشن متاثر ہوا ۔ بارش کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میونسپل کارپوریشن پشاور نے اپنے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر کے ہنگامی بنیادوں پر طلب کر لیا ہے جبکہ اندرون شہر ساڑھے تین سو سے زائد کچے مکانات کو پہلے ہی سے حساس قرار دیا گیا ہے جو کسی بھی وقت منہدم ہو سکتے ہیں ۔ بارش کے باعث فروٹ کے باغات اور سبزیوں کی فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ دریائے سوات اور دریائے کابل میں سیلاب کے شدید ترین خطرات کے پیش نظر تینوں اضلاع میں ایمرجنسی میڈیکل سینٹر بھی قائم کر دیا گیا ہے شہر میں تباہی کے باوجود تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وزراءاور اراکین اسمبلی لانگ مارچ میں مصروف ہیں اور کسی بھی منتخب رکن نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا معائنہ نہیں کیا اور متاثرین بے یار و مدد گار پرے رہے

مزید :

صفحہ اول -