عالمی شہرت یافتہ قوال استاد نصرت فتح علی کی آج 16ویں برسی منائی جائیگیفیصل

عالمی شہرت یافتہ قوال استاد نصرت فتح علی کی آج 16ویں برسی منائی جائیگیفیصل

  

 آباد(بیورورپورٹ)فیصل آبادعالمی شہرت یافتہ قوال گلوکار استاد نصرت فتح علی خاں کی آج 16ویں برسی ہے موسیقی کے حوالے سے فتح علی خاں کی خدمات کو ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا ‘شہنشاہ قوالی استاد نصرت فتح علی خاں13اکتوبر1948ءکو فیصل آباد میں پیدا ہوئے ان کا اصل نام پرویز تھا اور ان کو “پیجی“ کے نام سے پکارا جاتا تھا سکول میں ابتدائی تعلیم کے لیے جانا شروع کیا مگر موسیقی کا گھرانہ ہونے کی وجہ سے ان کا دل پڑھائی نہیں لگتا تھا بچپن میں کافی شرارتی تھے۔ باپ کی شفقت سے محروم ہونے پر تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی ان نےلائیو پرفارمنس 16سال کی عمر میں اپنے والد کے چہلم کے موقع پردی اس کے بعد ان کی گائیکی میں تسلسل آتا گیا اور وہ 1971ءمیں قوال پارٹی کے سربراہ بنا دئیے گئے انھو ں نے صوفیانہ طرز گائیکی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیالاہور میں حضرت داتا گنج بخش کے عرس کا افتتاح اور اختتام ان کی قوالی میلے نیں وچھڑ جاناں سے ہو تا تھا ان کی شادی اپنی کزن ناہید سے ہوئی اور پھر اللہ تعالی نے ان کو ایک بیٹی سے نوازاجس کا نام ندا نصرت رکھا گیاانھوں نے 25سالہ کیرئیرمیں یورپ ‘امریکہ ‘جاپان اور وسطی ایشیائی ریاستوں سمیت چالیس سے زائد ممالک میں پرفارم کیا اور اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوایاپنجابی شاعر بری نظامی کی لکھی ہوئی منقبت“ مست مست دم مست قلندر مست “ کو امریکی موسیقار پیٹر گیبرائیل کے ساتھ مل کر کمپوز کیا اور مشرقی و مغربی موسیقی کے امتزاج نے نصرت فتح علی خاں کو عالمی شہرت سے ہمکنار کر دیا جس کے بعد ہمسایہ ملک میں فلمی صنعت نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور انھوں نے جاوید اختر کے ساتھ مل کر بالی وڈڈ پر قبضہ جما لیافلم “ دھڑکن “ میں ان کے گیت کو ان پر فلمایا بھی گیا جبکہ فلم “ مہرہ“ میں ان کی منقبت کی پیروڈی “ تو چیز بڑی ہے مست مست“ بھی کی گئی جو ان کو سخت ناگوار گزری قوالی کے ساتھ ساتھ فوک گیتوں نے بھی ان کے نام کور وشن کیا حکومت پاکستان نے 1995ءمیں ان کو تمغہ برائے حسن کارگردگی سے نوازا1996ءمیںان کو یونیسکو میوزک پرائز دیا گیا 1999ءان کی زندگی پر 75منٹ کی دستاویزی فلم A Voice From Heavenنیویارک میں پیش کی گئی جس کو بے حد سراہا گیاٹائمز میگزین نے 6نومبر 2006ءکو60سالہ ایشین ہیروز کی فہرست جاری کی جس میں ان کا نام ٹاپ 12میں شامل کیا گیا11اگست 1997ءکو وہ جگر اور گردوں کے عارضے میں مبتلا ہو گئے ان کے گردے تبدیل کرنے کے لیے ان کا لاس اینجلس لے جانے کا پروگرام ترتیب دیا گیا مگر وہ16اگست1997ءکو لندن کے کارنویل ہسپتال میں زندگی کی بازی ہار گئے ان کی عمر اس وقت 48برس تھی ان کی نمازجنازہ دھوبی گھاٹ فیصل آباد میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میںادا کی گئی اور ان کو جھنگ روڈ فیصل آباد والے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ان کی اہلیہ ناہید نصرت کینیڈا شفٹ ہو گئیں اور ان کا انتقال 13ستمبر2013ءکینیڈا میں ہی ہو گیاان کی وفات کے ان کے بھتیجے راحت فتح علی خاں اپنے خاندان کے ورثے کو بخوبی آگے بڑھا رہے ہیں فیصل آباد میں ان کے نام پر حکومت پنجاب نے نصرت فتح علی خان آڈیٹوریم بنایا جہاں ہر سال ان کی برسی باقاعدگی کے ساتھ منائی جاتی ہے فیصل آباد کی ضلعی حکومت نے ان کے درینہ ساتھی نامور پنجابی شاعر بری نظامی کے نام پر اقبال اسٹیڈیم لال قلعہ چوک کا منسوب کیا ہے جس کا آج باقاعدہ افتتاح کیا جا رہا ہے 

مزید :

صفحہ آخر -