دل و دماغ سے لیکر فیس بک، ٹوئٹر، عالمی میڈیا پرصرف مارچ چھائے رہے

دل و دماغ سے لیکر فیس بک، ٹوئٹر، عالمی میڈیا پرصرف مارچ چھائے رہے

  

تجزیہ : شہباز اکمل جندرانعمران خان اور طاہر القادری کے لانگ مارچ ہر آنکھ کا مرکز بنے رہے۔ملکی و بین الاقوامی میڈیا،فیس بک، ٹوئیٹر اور سوشل میڈیا پر آزادی و انقلاب مارچ چھائے رہے۔لوگ لانگ مارچ پر فوج کے ردعمل کا انتظار کرتے رہے۔ایک طرف مارچ روانہ ہونے پر اہلیان لاہور نے سکھ کا سانس لیا تو دوسری طرف گھر وں ،گلی کوچوں ، دفاتر اور دکانوں پر لوگوں کی نظریںٹی وی سکرین پر رہیں۔ چھابڑی فروش سے لیکر بڑے تاجر تک، سپاہی سے لیکر قیدی تک،سیاستدان سے لیکر کارکن تک ، پڑھے لکھے اور ان پڑھ سبھی لانگ مارچ پر بحث کرتے نظر آئے۔کہیں مارچ کے شرکاءکی تعداد زیر بحث رہی ، کہیں مارچ کے نتائج ڈسکس ہوتے رہے تو کہیں عمران خان کے جلوس پر ن لیگی کارکنوں کی پر تشدد کارروائیوں پر گفتگو ہوتی رہی، لانگ مارچ اسلام آباد کب پہنچیں گے۔اور شرکاءکب تک دھرنا دینگے۔ہر کوئی اپنی رائے دیتا رھا۔ڈاکٹر طاہر القادری کی سربراہی میںپاکستان عوامی تحریک کا انقلابی مارچ اور عمران خان کی سربراہی میں پاکستان تحریک انصاف کا آزادی مارچ 14اگست کو لاہور سے شروع ہوا تو لوگوں کا خیال تھا کہ سرشام یا رات کے کسی پہر یہ مارچ اسلام آبادکی حدود میں داخل ہوجائینگے۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا مارچ کے شرکاءاور گھروں میں بیٹھے لوگوں کی بے چینی بڑھتی گئی کہ دونوں قافلے کب منزل پر پہنچیں گے۔گزشتہ روزپاکستان کے اندر اور پاکستان سے باہر بیرونی دنیا میں ہر کسی کی نظر ان دونوں قافلوں اور پاکستان کی سیاسی صورتحال پررہی۔ملک کا ہر ٹی وی چینل دن بھر لانگ مارچوں کی کوریج کرتا نظر آیا۔قومی سطح کے کم و بیش تمام چینلوں نے دونوں مارچوں کی کوریج اورتبصرے کے لیے خصوصی ٹرانسمیشن پیش کی۔ملک سے باہر بھی کم و بیش تما م بین االاقومی چینلوں اور مختلف ملکوں کے مقامی میڈیا نے بھی پاکستان میں جاری سیاسی بحران پر خصوصی توجہ دی۔فیس بک ، ٹوئیٹر اور دیگر سوشل میڈیا پر آزادی و انقلاب مارچ چھائے رہے۔کوئی حق میں تو کوئی مخالفانہ تصاویر اور تحاریرپوسٹ کرتا رہا۔ایک طرف لاہور کے شہریوں نے آزادی و انقلاب مارچ کی روانگی کے پرکئی دنوں کی خواری اور پریشانی کے بعد سکون محسوس کیاتو دوسری طرف گھروں کے اندر خواتین اور فیملی ممبر ز ، گلیوں بازاروں ، دفاتر ، مارکیٹوں اور دکانوں میں ہرجگہ لوگوں کی نظریں ٹی وی سکرین پر رہیں، چھابڑی اور خوانچہ فروش ہو یا بڑا تاجر ، وکیل ہو یا موکل ، قیدی ہو یا سپاہی، سیاستدان ہو یا عام کارکن ، پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ،ڈاکٹر ہو یا مریض غرض معاشرے کا ہر طبقہ اور ہر ذی شعور گزشتہ روز دن بھر عمران خان اور ڈاکٹر قادری کے لانگ مارچوں پر بحث کرتے نظر آئے کوئی شرکا کی تعداد کم تو کوئی زیادہ بتاتا رہا، کسی کے نزدیک عمران خان کا آزادی مارچ عددی قوت میں بڑا تھا تو کوئی ڈاکٹر قادری کے انقلاب مارچ کو بڑا قرار دیتا رہا۔کسی کا کہناتھا کہ یہ مارچ بغیر نتیجے کے ختم ہوجائینگے تو کوئی ان کے اختتام کو نتیجہ خیز بیان کررہا تھا۔کسی کی رائے میں گوجرانوالہ میں ن لیگ کے کارکنوں نے پی ٹی آئی کے قافلے پر حملہ کیا تھا تو کسی کا کہناتھا کہ پہل پی ٹی آئی کے کارکنوں نے کی تھی۔ کوئی کہتا کہ ملک میں مارشل لاءلگنے کو ہے تو کوئی گزشتہ روز کے سپریم کورٹ کے حکم امتناعی کا حوالہ دیتے ہوئے مارشل لاءکے نفاذ کو خارج از امکان قرار دیتا رہا،کوئی کہتا کہ لانگ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے قبل ہی حکومت گر جائیگی تو کوئی کہتا کہ ایسا نہیں ہوسکتا ۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں تھیں۔گزشتہ روز دن بھر عوام کو پاک فوج کی طرف سے ان مارچوں پر ردعمل کا انتظار بھی رہا۔

مزید :

تجزیہ -