تحریک انصاف کے کارکن ہلہ گلہ ، عوامی تحریک کے سنجیدہ نظر آئے:غیر ملکی میڈیا

تحریک انصاف کے کارکن ہلہ گلہ ، عوامی تحریک کے سنجیدہ نظر آئے:غیر ملکی میڈیا
تحریک انصاف کے کارکن ہلہ گلہ ، عوامی تحریک کے سنجیدہ نظر آئے:غیر ملکی میڈیا

  

اسلام آباد(ویب ڈیسک) عمران خان کے ’آزادی مارچ‘ اور طاہر القادری کے ’انقلاب مارچ‘ نے جی ٹی روڑ پر ہی اس منظر نامے کی جھلک دکھا دی ہے جو وہ اسلام آباد میں پیش کرنے جا رہے ہیں، دونوں جلوسوں میں سب سے اہم فرق کارکنوں کے موڈ اور رویئے کا نظر آیا، تحریک انصاف کے کارکن ہلہ گلہ اور شور شرابہ کرتے دکھائی دیئے تاہم عوامی تحریک کے کارکن بہت ڈسپلن، سنجیدہ ”قبلہ صاحب“ کے لئے بے حد مودب دکھائی دیئے جبکہ تناﺅ شرکاءکے چہروں سے نمایاں تھا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق عمران خان کا احتجاجی جلوس جب سارا دن مال روڈ پر رینگ رہا تھا تو باقی پورا شہر جشن آزادی منانے والے ایسے لوگوں کے ہجوم سے بھرا ہوا تھا جن کے کوئی سیاسی عزائم نہیں تھے وہ تعداد میں کئی گنا تھے لیکن ٹی وی کیمرے ان کی جانب نہیں بلکہ مال روڈ پر مرکوز رہے۔ عمران خان صبح تین بجے شاہدرہ سے باہر نکلے تو صبح پانچ بجے انھیں مریدکے کے آگے جا لیا۔ جلوس لاہور سے نکلنے کے بعد حیرت انگیز طور پر سکڑ چکا تھا۔ کامونکی پر ان کا استقبال کیا گیا جہاں عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک لمحے کو بھی نہیں سوئے، نہ ہی اس وقت تک نہیں سوئیں گے جب تک عوام کو آزادی لیکر نہیں دیتے۔ گوجرانوالہ میں تصادم نے آزادی مارچ کے شرکاءکو چینلز پر ایک نئی زندگی دے دی اور طاہر القادری کا انقلاب مارچ پس منظر میں چلا گیا۔ میڈیا آزادی مارچ چھوڑ کر تیز رفتاری سے جہلم کی جانب روانہ ہوا تو کھاریاں کے نزدیک طاہر القادری کا جلوس ملا۔ اس جلوس کو عبور کرتے کافی وقت لگا اور یہ احساس ہوا کہ یہ جلوس عمران کے جلوس سے بڑا ہے، شاہ عالمگیر پر ایک اور جلوس ملا جوعوامی تحریک کا حصہ تھاتاہم تیزرفتاری کی وجہ سے یہ جلوس الگ ہو چکا تھا، لوگ گاڑیاں کھڑی کر کے طاہر القادری کے انتظار میں تھے۔

مزید :

اسلام آباد -