یرغمال امریکی دوشیزہ کی البغدادی کے ہاتھوں عصمت دری

یرغمال امریکی دوشیزہ کی البغدادی کے ہاتھوں عصمت دری

لندن( آن لائن )عراق وشام میں سرگرم انتہا پسند تنظیم'داعش' کے خود ساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی نے یرغمال امریکی امدادی کارکن کائیلا میلولر کی فروری میں ہلاکت سے قبل دوران حراست متعدد مرتبہ اس کی عصمت دری کی۔ اس بات کا دعوی آنجہانی میلولر کے خاندان کے حوالے سے امریکی چینل ABC News پر جمعہ کے روز نشر ہونے والی خبر میں سامنے آیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے کائیلا کے اہل خانہ کو بتایا تھا 'کہ شمالی شام کے رہائشی علاقے میں اٹھارہ ماہ تک ان کی بیٹی کی حراست کے دوران اسے ابوبکر البغدادی نے کئی مرتبہ اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔'کائیلا کے والد کا کہنا تھا 'کہ ہمیں بتایا گیا کہ اسے تعذیب دی جاتی تھی، وہ البغدادی کی جاگیر بنا کر رکھی گئی تھی۔

ہمیں اس امر کی اطلاع جون میں امریکی حکومت نے کر دی تھی۔' آنجہانی امدادی کارکن کے والدین کارل اور مارشا میلولر نے بتایا کہ اگر ان کی بیٹی بقید حیات ہوتی تو وہ آج بروز جمعہ چودہ اگست اپنی ستائیسوں سالگرہ منا رہی ہوتی۔

امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست ایریزونا سے تعلق رکھنے والی خاتون امدادی کارکن کو ابوبکر البغدادی نے بنفس نفیس داعش کے وزیر پیٹرولیم ابو سیاف کے گھر پر قید رکھنے کا حکم دیا۔ تیونس سے تعلق رکھنے والے ابو سیاف کو دس دیگر جنگجووں کے ہمراہ امریکی فوجی کارروائی میں سولہ مئی کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

مزید : عالمی منظر