ملکی معیشت بحالی اور ترقی کی راہ پر

ملکی معیشت بحالی اور ترقی کی راہ پر

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے یومِ آزادی کے موقع پر قوم کو یہ خوشخبری سنائی ہے کہ چند ہفتوں میں زرمبادلہ کے ذخائر20ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔اُن کا کہنا تھا کہ اِس عرصے کے لئے حکومت نے زرمبادلہ کے ذخائر کا ہدف19ارب ڈالر مقرر کیا تھا، لیکن یہ20 ارب ڈالر سے بڑھ جائے گا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہو گا، جب پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر20ارب ڈالر کے ہندسے کو چھوئیں گے،کسی دِل جلے کا دِل چاہے تو شان بے نیازی کے ساتھ کہہ دے کہ زرمبادلہ کے ذخائر سے غریب آدمی کا پیٹ نہیں بھرتا، لیکن یہ وہ پہاڑ جیسی چڑھائی ہے،جو پاکستان آج تک چڑھ نہ سکا تھا،اِس لئے اب اگر یہ گوہر مقصود ہاتھ آیا ہے تو اظہارِ مسرت تو بنتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ اطلاعات بھی ہیں کہ گزشتہ مالی سال میں برآمدات کا ہدف حاصل نہیں ہوا۔ اگرچہ کہا یہی گیا ہے کہ برآمدات کا حجم ضرور کم ہوا ہے، لیکن ان کی مالیت بڑھی ہے۔ بہرحال زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ جن دوسرے عوامل کا مرہون منت ہے، ان میں وہ رقوم شامل ہیں جو بیرونِ مُلک میں مقیم پاکستانی وطن بھیجتے ہیں ان رقوم میں گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں۔ حکومت نے اس معاملے میں یہ کارکردگی ضرور دکھائی ہے کہ پاکستانیوں کو اپنی رقوم وطن بھیجنے کے لئے بینکوں کا چینل استعمال کرنے پر آمادہ کیا ہے اور بینکوں نے اِس سلسلے میں آسانیاں فراہم کی ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ ہنڈی کے ذریعے پیسہ بھیجنے کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ اگرچہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے گزشتہ سال اپنے دھرنے کے شرکا سے کہا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستان اپنی رقوم ہنڈی کے ذریعے وطن بھیجیں، لیکن لوگوں نے ان کی یہ درخواست سُنی اَن سُنی کر دی۔ پاکستانیوں کی رقوم میں اضافہ بھی اس کے حق میں بڑی روشن دلیل ہے، بعد میں انہیں اپنی غلطی کا احساس بھی ہو گیا، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کی دوسری بڑی وجہ قرضوں ،امداد، کولیشن سپورٹ فنڈ وغیرہ کی مد میں ملنے والی رقوم ہیں۔ آئی ایم ایف کے تین سالہ ای ایف ایف پروگرام کی آٹھویں جائزہ میٹنگ خوش اسلوبی سے مکمل ہو گئی ہے،جس کے تحت500ملین ڈالر کی نویں قسط ریلیز ہوئی، وجوہ جو کچھ بھی ہوں برآمدات میں کمی کے باوجود 20ارب ڈالر کے ہندسے کو چھونا بڑی کامیابی ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر پاکستان اپنی برآمدات میں اضافے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو زرمبادلہ کے ذخائر اور بھی بڑھ سکتے ہیں، جو ملکی معیشت کی مضبوطی کی ایک بڑی علامت ہے۔

مسلم لیگ(ن) کی موجودہ حکومت نے 5جون2013ء کو چارج سنبھال کر چار نکات پر زور دیا تھا، جن میں معیشت کی اصلاح و ترقی، تعلیم کا فروغ، انتہا پسندی کا خاتمہ اور انرجی کے بحران کا حل شامل تھا، معیشت کی ترقی کے لئے مائیکرو اور میکر و اکنامک اہداف مقرر کئے گئے، اور بہت سی سٹرکچرل اصلاحات متعارف کرائی گئیں، ٹھوس اقتصادی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کی وجہ سے حکومت کے پہلے سال ہی میں اقتصادی بحالی کے روشن امکانات نظر آنے لگے اور سرمایہ کاروں نے مُلک کی معیشت اور جرأت مندانہ پالیسیوں پر اپنے اعتماد کا اظہار کر دیا۔ مالی سال 2013-14ء میں بجٹ خسارہ8.2فیصد سے کم ہو کر5.7فیصد کی سطح پر آ گیا، اِسی سال میں برآمدات کی مالیت میں اضافہ ہوا اور یہ 24.46 بلین ڈالر سے بڑھ کر 25.07 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اِسی سال تجارتی خسارہ 20.49بلین ڈالر سے کم ہو کر 16.70 بلین ڈالر پر آ گیا، درآمدات میں بھی کمی ہوئی،جو44.95ڈالر سے کم ہو کر41.77 بلین ڈالر پر آ گئیں۔ اسی سال جی ڈی پی کی شرح نمو3.65فیصد سے بڑھ کر4.2فیصد ہو گئی۔اس وقت یہ شرح لگ بھگ 4.24ہے۔ سٹاک مارکیٹ کا کے ایس ای 100انڈکس پہلی مرتبہ29653پر پہنچ گیا۔ اِسی طرح مارکیٹ کیپٹلائزیشن بھی پچھلے سال کی شرح5.04ٹریلین سے 7.28ٹریلین ہو گئی۔ اسی سال غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 14.113 بلین ڈالر ہو گئے، فی کس آمدنی بڑھ کر1386ڈالر ہو گئی۔

اقتصادی مانیٹرنگ کرنے والے عالمی ادارے ’’بلوم برگ‘‘ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں مُلک کی اقتصادی حالت کی بہتری کو سراہا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ مختلف سیاسی، سیکیورٹی اور اقتصادی چیلنجوں کے باوجود حکومت آمدنی میں اضافے اور بجٹ خسارے کو کم کرنے میں کامیاب رہی، توانائی سمیت متعدد اقسام کے دیگر بحرانوں کے باوجود مُلک کو اقتصادی ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیا گیا ہے، کارپوریٹ سیکٹر کی آمدنی بڑھ گئی ہے اور سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری نئی بلندیوں پر پہنچ گئی ہے۔ بیرون مُلک سے آنے والی رقوم نے معاشرے میں روپے پیسے کی گردش کو وسیع کر دیا اور صارفین کی قوتِ خرید میں اضافہ اور تنوع پیدا ہوا، تاہم ’’بلوم برگ‘‘ نے تجویز کیا ہے کہ اقتصادی ترقی کی رفتار کو پائیدار بنانے کے لئے ٹیکس اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔ ان اصلاحات پر کام جاری ہے اور اس سلسلے میں سٹیک ہولڈروں کے ساتھ متعلقہ حکام کی ملاقاتیں بھی ہو رہی ہیں۔ امریکی جریدوں فوربز، وال سٹریٹ جرنل اور برطانوی جریدے اکانومسٹ نے بھی پاکستانی معیشت کی ترقی کی رفتار کی تعریف کی ہے اور اس کے آگے بڑھنے کی پیشگوئی کی ہے۔

بجٹ خسارہ اس وقت مزید کم ہو کر4.8 فیصد کی شرح پر آ گیا ہے۔افراطِ زر کی شرح 4.53 فیصد رہ گئی ہے۔ پچھلے مالی سال میں فی کس آمدنی بڑھ کر1513ڈالر پر پہنچ گئی ہے۔پاکستان میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد آبادی کے مقابلے میں بہت کم ہے۔گزشتہ کئی برسوں سے ٹیکس نیٹ میں توسیع کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جن میں کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔ مالی سال 2012-13ء میں ٹیکس ٹو ڈی جی پی ریشو10.4فیصد تھی، جو گزشتہ مالی سال کے دوران 11.02 فیصد تک پہنچ گئی، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹیکس نیٹ آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔اگر پاکستان یہ شرح بڑھا کر15فیصد تک لے جائے، تو یہ بہت بڑی کامیابی ہو گی اور آمدنی میں اضافے کے بعد قرضوں پر انحصار کم ہو جائے گا۔ یکم جولائی 2015ء سے افراد کے لئے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ ہی ٹیکس نمبر کے طور پر استعمال ہونے لگا ہے، جس سے ٹیکس ادا کرنے والوں کو سہولت ہو گی۔

انرجی بحران کے حل کے لئے حکومت جو کوششیں کر رہی ہے اس کے مثبت نتائج2017ء تک نکلنے کی امید ہے، جس سے سسٹم میں 10ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی شامل ہو جائے گی، اس وقت تک زیر تکمیل منصوبے مکمل ہو جائیں گے۔ایران سے ایک ہزار میگاواٹ بجلی خریدنے پر بھی بات چیت جاری ہے،ایران کی طرف سے3ہزار میگاواٹ بجلی خریدنے کی پیشکش موجود ہے،اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں اور مناسب نرخوں پر ایران اور پاکستان میں بجلی کی خرید کا معاہدہ ہو جاتا ہے، تو یہ بجلی ایرانی سرحد سے ملحقہ پاکستانی علاقوں میں استعمال ہو سکتی ہے۔ ایران امریکہ جوہری معاہدے کے بعد ایران پر عالمی پابندیوں کا بھی خاتمہ ہو گا، جس کے بعد امکان ہے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر بھی کام تیز رفتاری سے شروع ہو جائے گا اور گیس کی قلت کی شکایت کا ازالہ ہو جائے گا۔ ایل این جی (مائع قدرتی گیس) کی درآمد سے بھی توانائی کے بحران میں کمی ہو گی۔ ایل این جی کو سی این جی میں بدل کر پمپوں کو سپلائی کیا جا رہا ہے، جس سے گاڑیوں کی ضرورت پوری ہو رہی ہے۔اعداد و شمار اور عالمی اداروں کی رپورٹوں سے پاکستانی معیشت کی بحالی کی ایک خوشگوار تصویر سامنے آتی ہے۔اگر اِسی رفتار سے آگے بڑھا جائے تو مہنگائی اور افراطِ زر کم ہو کر عام آدمی کے لئے ریلیف کا باعث بنے گا۔ سالِ گزشتہ دھرنوں میں اگرچہ بہت سا وقت ضائع ہوا اور ان کی وجہ سے چینی صدر کا دورہ ملتوی ہوا ،تاہم اپریل میں چینی صدر نے پاکستان کے دورے کے دوران سرمایہ کاری کے وسیع منصوبوں کا اعلان کیا، اس وقت پاک چائنہ اقتصادی راہداری کے ایک روٹ کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے اور آئندہ چند سال میں ملکی معیشت میں بہت بہتری آنے کے امکانات ہیں۔

مزید : اداریہ