وزیراعلیٰ کی کارکردگی ، گڈ گورننس؟

وزیراعلیٰ کی کارکردگی ، گڈ گورننس؟
وزیراعلیٰ کی کارکردگی ، گڈ گورننس؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف مسلسل مصروف ہیں۔ گزشتہ روز انہوں نے لاہور میں کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا،اس سے قبل وہ ہر روز کسی نہ کسی شعبے کی میٹنگ کرتے اور حالات کا جائزہ لے کر احکام جاری کرتے ہیں، خوراک میں ملاوٹ اور کچن وغیرہ کی صفائی کے حوالے سے مہم شروع ہے۔ ڈینگی سے تحفظ کے بارے میں وہ احکام دے چکے۔اب انہوں نے شعبہ صحت کی طرف بھی توجہ مبذول کی ہے اور جعلی ادویات بنانے والوں کے خلاف نہ صرف کارروائی تیز کرنے کی ہدایت دی، بلکہ قانون میں ترمیم کر کے سزاؤں میں بھی اضافہ کر دیا ہے، ان اطلاعات سے صاف واضح ہوتا ہے کہ وزیراعلیٰ ’’گڈ گورننس‘‘ کے لئے کتنے بے چین ہیں۔ انہوں نے ان امور کے ساتھ ساتھ قومی مسائل کی طرف بھی توجہ رکھی ہے۔ بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں سے صنعت کا پہیہ چلانے تک بھی اجلاس کرتے۔ ایم او یو سے معاہدات تک کر چکے اور اب ان کا دعویٰ ہے کہ2017ء کے اختتام تک لوڈشیڈنگ کا نام تک نہیں ہو گا،اب یہ اطلاع بھی مشتہر ہوئی ہے کہ بڑے کاموں کے لئے جو ٹھیکے دیئے جاتے ہیں ان کی طرف کاروباری لحاظ سے توجہ دے کر انہوں نے بعد از ٹینڈر اور نیلامی گفت و شنید اور مذاکرات سے پہلے سے زیادہ بچت کی، جو کروڑوں کی حدپار کر کے اربوں میں داخل ہوتی ہے۔

ہم نے یہ سب وزیراعلیٰ کی خوشنودی کے لئے نہیں لکھا، بلکہ ان کے میڈیا منیجروں کی طرف سے کارکردگی کی جو تشہیر ہوتی ہے یہ سب اس کا مرہون منت ہے اور ہم ذاتی طور پر بھی ان کے کام کرنے کے معترف ہیں، اب بھی پچھلے دِنوں سے ان کے کام کی رفتار میں جو تیزی نظر آئی اگر میڈیا مینجمنٹ تک محدود نہیں تو بہت بڑے کام ہیں، جو کر رہے اور کرتے جا رہے ہیں۔اب ذرا یہاں بریک پر پیر رکھنے کی ضرورت ہے۔ صوبائی میڈیا منیجر حضرات کی طرف سے مختلف واقعات کے حوالے سے نوٹس لینے کی اطلاع بھی مشتہر کی جاتی ہے ان میں سے کئی ایک معاملات میں تو ان کی دلچسپی ان کے عمل سے ظاہر ہو جاتی ہے کہ وہ خود مظلوم کے پاس یا شکایت کنندہ کی تلافی کے لئے اس کے گھر بھی چلے جاتے ہیں تاہم باقی امور میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ خانہ پُری ہے کہ نوٹس لینے کی اطلاع خبر تو بن جاتی ہے، کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔

وزیراعلیٰ کی ذاتی کاوش اور محنت کے ہم معترف ہیں تو کیا ان کے شیدائی تو چینی اور ترک بھی ہیں، جو برملا اظہار کر گئے، یہ سب تعریف ہے اور بے وجہ نہیں، لیکن اس کے ساتھ اگر شکوہ اور شکایت نہ ہو تو سب بے مزہ ہو جاتا اور یہ احساس ہوتا ہے کہ شاید ہم نے بھی ان چند حضرات کی طرح قرب حاصل کرنے کی خواہش کی ہے، جن کو فون کر کے وہ خود جگا لیتے ہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں، ہم نے ہمیشہ اپنے فرائض دیانت داری سے انجام دینے کی کوشش کی،کسی ستائش کی خواہش نہیں کی۔ہم وزیراعلیٰ کی خصوصی توجہ اس طرف دلانا چاہتے ہیں کہ ان کی یہ ساری کاوش اور محنت عوام تک فائدہ نہیں پہنچا پاتی کہ سرکاری اہلکار قطعاً لاپرواہ ہو چکے اور کوئی بھی اپنا کام نہیں کرتا، اب وزیراعلیٰ نے ڈینگی کے حوالے سے حفاظتی انتظامات کا کہا تو اینٹی ڈینگی سکواڈ نے شعبہ خوراک کی مانیٹر اور حال ہی میں اپنی کارکردگی سے شہرت حاصل کرنے والی خاتون عائشہ ممتاز کے دفتر کی تلاشی لے ڈالی اور وہاں سے نمونے لے کر ٹیسٹ کے لئے بھیج دیئے کہ یہ ڈینگی لاروا ہے، اب اگر ٹیسٹ رپورٹر چھاپہ مار پارٹی کے ہاتھ آئی اور ڈینگی لاروا ثابت ہو گیا تو گندگی پر ہوٹلوں،ریستورانوں کو جرمانے کرنے اور سزا دینے والی اس خاتون افسر کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے بھی جیل بھیجا جا سکے گا۔

یہ تو صرف ایک جھلک ہے،آپ پورے شہر کا چکر لگا لیں،آپ کو مختلف آبادیوں اور بستیوں، گلیوں اور محلوں کے گڑھوں اور کھلے پلاٹوں میں بارش کا پانی ملے گا، جو کسی بھی لمحے نہیں نکالا گیا اور نہ معلوم اب تک اس سے کتنا لاروا بن چکا ہو گا۔ اگر کسی گڑھے سے ڈینگی لاروا نہ بھی بنا تو ملیریا اور ٹائیفائیڈ والا مچھر اور جراثم ضرور پھیل چکے ہوں گے کہ نہ تو پانی نکالا گیا اور نہ ہی جراثیم کش ادویات چھڑکی اور ان کا سپرے کیا گیا ہے۔ اس سے بدتر حالت ٹاؤنوں کے اہلکاروں کی ہے، جو تجاوزات سے مویشیوں کی رکھوالی تک کے ذمہ دار ہیں، یہ نہ سٹریٹ لائٹ ٹھیک کرتے اور نہ ہی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور گلیوں کی مرمت کرتے ہیں کہ یہ اس انتظار میں ہوتے ہیں، گڑھے بڑے ہوں اور علاقے کے رہنے والے شور مچائیں اور سڑک کی تعمیر نو کا ٹھیکہ ہو جائے کہ درجہ بدرجہ بچت اِسی میں ہے۔وزیراعلیٰ نے ایک سے زیادہ مرتبہ ہدایت کی کہ مویشی شہر میں نہ ہوں،اس پر ایک مرتبہ عمل ہوا اور پھر بتدریج ساری بھینسیں اور مویشی واپس آ گئے، اب تو بھیڑوں کے ریوڑ بھی سڑکوں پر ہی مٹر گشت کرتے ہیں، بھینسیں کھلے بندوں مرکزی سڑکوں پر پی ایچ اے کے پودے اور گرین بیلٹوں کے درخت اورگھاس کھا کر دودھ دیتی ہیں اور یہ سب کھلے آسمان کے نیچے کھلے بندوں ہوتا ہے۔ اب اگر اس نچلے عملے اور اہلکاروں نے اپنے فرائض خود سر انجام نہیں دینے تو پھر گڈ گورننس پر تو سوالیہ نشان آئے گا کہ خود وزیراعلیٰ آ کر تو مویشی باہر نہیں نکالیں گے۔

اس سلسلے میں شہر کے نو کے نو ٹاؤن ملوث ہیں، لیکن جو بادشاہت علامہ اقبال ٹاؤن کے حصے میں آئی وہ کسی کومیسر نہیں۔ یہاں ٹی ایم او اور کیٹل ڈیپارٹمنٹ کے انچارج کا جب بھی پتہ کریں وہ دفتر میں موجود نہیں ہوتے اور ان کی طرف سے مویشیوں کے خلاف یا تجاوزات ختم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی، اب ہم وزیراعلیٰ سے یہ گزارش کرنے سے تو رہے کہ وہ خود دورہ کر لیں۔البتہ یہ خواہش ضرور ہے کہ وہ اس سارے عمل کا نوٹس خود لیں اور پھر احکامات جاری کر کے فالو اَپ بھی دیکھیں، توقع ہے کہ میڈیا منیجر اس تحریر کو بری کارکردگی شمار نہیں کریں گے اور اس کالم کو وزیراعلیٰ کی خدمت میں پیش کر دیں گے کہ وہ حالات سے آگاہ ہوں اور ان کو بھی معلوم ہو جائے کہ ’’گڈ گورننس‘‘ ان اہلکاروں کے ہاتھوں اِسی طرح بدنام ہو رہی ہے جیسے مُنی بدنام ہوئی تھی۔

مزید : کالم