پاکستان میں قبروں کا بحران

پاکستان میں قبروں کا بحران
پاکستان میں قبروں کا بحران

  

ہر معاشرے میں جب کوئی فرد فوت ہو جاتا ہے تو اُس کے لواحقین اپنے مُردے کو اپنے مذہبی رواج کے مطابق ٹھِکانے لگانے کا انتظام کرتے ہیں۔ مسلمانوں ، عیسائیوں، یہودیوں کے معاشرے میں مُردے کو دفنانے کا رواج ہے۔ دفنانے کی رسم یہودیت سے بھی پہلے رائج تھی۔تینوں الہامی مذاھب جزیرۃ العرب میں ہی عالمِ وجود میں آئے۔ جزیرے میں ریتلی زمین اُس وقت بھی بہتات میں تھی اور آج بھی ہے۔ مُردہ انسانوں کو زمین میں دفنانے کی روائت پہلے ہی سے موجود تھی۔ دینِ اسلام نے اس ہی روائت کو جاری رکھا اور اس طرح مُردوں کو زمین میں دفنانے کی اسلامی سند مل گئی۔

فوت شدہ فرد کی میّت کو جلد از جلد ٹھکانے لگانے کے طریقے دوسرے دھرموں میں الہامی مذاھب سے مختلف ہیں ہندوؤں ، سکھوں ، بدھ مت کے ماننے والوں میں مُردے کو مختلف رسومات ادا کرنے کے بعدلکڑیوں کی آگ میںَ جلا دیا جاتا ہے۔ جلی ہوئی میّت کی راکھ کو مٹی یا چینی کے مرتبان میں ڈال کر بطور نشانی رکھ لینے کا رواج بھی ہے۔ پارسی مذہب میں مُردے کی آخری رسومات کے بعد اُس کو چیلوں، کووّں اور گدِہوں کی خوراک بننے کے لئے ایک گول سے احاطے میں رکھ دیا جاتا ہے جسے مینارِ خاموش (Tower of silence) کہتے ہیں۔ پارسیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اِنسان کی آخری خیرات اُس کے مرنے کے بعد اُس کے گوشت پوست سے ہوتی ہے، مردہ انسان کو چرند پرند کھاتے ہیں اور اُس کی مغفرت کا ذریعہ بنتے ہیں۔ امریکہ کے پُرانے باشندوں میں مثلاً مایا اور اَزٹک تہذیبوں میں مُردے کو سمندر یا دریا کے سپرُد کر دیا جاتا تھا۔ مردوں کو اجتماعی طور پر دفنانے کا انتظام عموماً جنگوں میں یا آسمانی آفات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ہنگامی بنیادوں پر اِسلام میں بھی اجتماعی قبروں کی اِجازت ہے۔

اِجتہاد اور ہم عصری تقاضوں کے مطابق شریعہ کی نئی تشریح نہ ہونے کی وجہ سے ہم مسلمان بہت سے دنیاوی اور علمی معاملات میں بہت پسماندہ رہ گئے ہیں۔ مُردے کو دفنانے کا حکم اپنی جگہ اٹل ہے کہ مسلمانوں کو یہ ہی طریقہ بتایا گیاہے۔ لیکن قرآنِ مجید اور حدیث میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ قبر کو پختہ بنائیں، یا نئے کفن میں دفنائیں، یا قبر کے تعویذ کو سطح زمین سے اِنسانی قد کے برابر اُونچا رکھیں(یہ رواج وسطیٰ ایشیا،ترکی، بوسنیا اور البانیہ میں آج بھی رائج ہے) ۔ آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ مُردوں کی بھی تعداد بڑھتی گئی۔ قبرستانوں کی گنجائش مزید کم ہو جاتی ہے، قبرستانوں کی زمین کی تنگی کی وجہ سے قبریں بے ترتیبی اور بدنظمی سے بننا شروع ہو جاتی ہیں۔ قبرستان میں پیدل چلنے کی جگہ بھی غائب ہونی شروع ہو جاتی ہے۔ خاندانی قبروں کا احاطہ بنانے کی وجہ سے قبرستان کی زمین مزید کمی کا شکار ہو جاتی ہے۔ یہاں سے قبروں کا بحران شروع ہوتا ہے۔ میونسپلٹی کے قائم کردہ نرخوں سے بہت زیادہ قیمت پر گورکَن قبر کی زمین مہیا کرتے ہیں۔ گور کَن دراصل یہ کرتے ہیں کہ وہ لاوارث قبروں کو منہدم کر کے اُس جگہ کو صاف ستھرا کر دیتے ہیں نئے مُر دے کے لواحقین کو تو اپنی میّت کو دفنانے کے لئے 8 فٹ X 3 فٹ جگہ درکار ہوتی ہے۔ جو گورکَن کو اُس کی منہ مانگی قیمت دے کر حاصل کر لی جاتی ہے۔ میّت کے وارث بھی زیادہ گہرائی میں نہیں سوچتے کہ یہ تر و تازہ زمین کیوں کر پیدا ہو گئی اور نہ ہی وہ گورکَن سے قیمت کے بارے میں بحث کرتے ہیں۔

پاکستان میں جہاں بچے کی پیدائش اور شادی کی رسمیں ہندو تہذیب کے اثر کی وجہ سے گراں ہوئیں وہاں مرنے والے کے کفن دفن اور اُس کے بعد کی رُسومات غریب اور متوسط طبقے کے لئے مہنگی ہوتی گئیں۔ سوئم کی رسم، چار جمعراتوں کو کھانا کھلانے کی رسم، دسواں اور چالیسواں تو پوری برات کا کھانا بن جاتا ہے۔ خوشحال پاکستانی ہر سال برسی بھی مناتے ہیں۔ یہ سب بدعتیں برصغیر یا ایران میں ملتی ہیں۔ دراصل برصغیر کے مسلما ن ہندو تہذیب اور خراسان کی سماجی روائتوں کے متاثرین ہیں۔ برصغیر کا وہ خطہ جسے ہم پاکستان کہتے ہیں، یہاں کے قبرستان تو بھوتوں کی آماجگاہ لگتے ہیں۔ لاوارث قبروں کے کُھلے دھانوں سے مرُدوں کی جھانکتی ہوئی ہڈیاں ، بے ہنگم درخت ناتراشیدہ جھاڑیاں اور بغیر کٹی ہوئی گھاس، سانپوں اور کیڑے مکوڑوں بچھوؤں کا مسکن بن جاتے ہیں۔ گورکُنوں کے ٹولے جرائم پیشہ لوگوں سے مل کر قبر ستانوں کو جواریوں اور نشہ کرنے والوں کا اڈہ بنا لیتے ہیں۔ کمزور ایمان والے مرد و زن جعلی پیروں اور سفلی عامِلوں کی فرمائش پر تازہ قبروں کے کفن حاصل کرنے کے لئے گورکنوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ بعض قبرستانوں میں تو دِن کے وقت بھی خوف آتا ہے ۔

قبر کی تعمیر میں کیا اصول ملحوظِ خاطِر رکھے جائیں گے، دراصل قرآنِ مجید یا احادیث میں اس کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں ہے۔قبر اندر سے پختہ ہو گی یا نہیں ، کتنی گہری ہوگی، کتنے عرصے کے لئے ہوگی اور قبر کے اوپر تعویذبنے گا یا نہیں، اِن تمام باتوں کے بارے میں مختلف فقہا مختلف تفسیریں دیتے رہے ہیں۔ میَں فقہا کی روایات کی گہرائی میں نہیں جاؤں گا ، دنیا کی آبادی کی افزائش کے طوفان کا اُن کو اندازہ نہیں تھا۔ اس لئے ہمارے بہت سے معاشرتی،معاشی اور سماجی مشکلات کا حل دینے سے ہمارے اکابر قاصر تھے۔ قرآنی ہدایت تو صرف اِتنی تھی کہ مسلمان اپنے مُردوں کو دفنائیں۔ ہمارے لئے اِجتہا د کے دروازے بھی بند ہو گئے۔ مسلمانوں کی نہ صرف آبادی بے تحاشہ بڑھی، بلکہ اُس کے ساتھ جہالت اور بدنظمی میں بھی خوب ترقی ہوئی۔ ہم زندہ اِنسانوں کے رہائشی مکانوں میں نظم و ضبط تونہ لا سکے(مثال کے لئے دیکھئے لاہور کا اندرون شہر، اچھرہ، پشاور کی نمک منڈی، راولپنڈی کی گوالمنڈی وغیرہ) پھر بھلا ہم قبر ستانوں میں ترتیب اور منصوبہ بندی کیسے کرتے؟

جب میَں ملازمت کے سلسلے میں سعودی عرب کافی عرصہ رہائش پذیر تھا تو وہاں میں نے مُردوں کو دفنانے کا بہت اچھا انتظام دیکھا۔ قبرستان کی اِنتظامیہ کی طرف سے پختہ قبریں پہلے سے تیار ہوتی تھیں یعنی اَندر سے سیمنٹ سے پلاسٹر کی ہوئی ہوتی تھیں۔ جب بھی کوئی مُردہ لایا جاتا اُسے وہیں قبرستان میں نمازِ جنازہ کے بعد پختہ قبر میں نمبروار دفن کر دیا جاتا ۔ مثلاً قبر نمبر213 کے بعد قبر نمبر 214 اور 215 وغیرہ۔ سعودیہ کے قبرستانوں میں خاندان کی اکٹھی قبریں بنانے کا رواج نہیں ہے۔ ہر قبر نمبر سے چلے گی۔ ایک سال کے بعد قبر کھولی جائے گی۔ ہڈیاں باہر نکال لی جائیں گی ۔ اِن ہڈیوں کو خواہ لواحقین خود ریگستان کی ریت میں دفن کر آئیں ورنہ بلدیاتی حکومت یہ کام کرے گی۔ مقررہ تاریخ کو قبر خالی ہوجانی چاہیے۔ اس خالی قبر کو چونے سے دھویا جائے گا۔ اس میں جراثیم کُش ادویات چھڑکی جائیں گی اور اب یہ قبر دوسری میّت کو وصول کرنے کے لئے تیار ہے۔ سعودیوں نے اِجتہا دکر کے مسئلے کا حل نکال لیا۔ ریگستان میں جو ہڈیاں مدفون ہیں۔ اُن کی زیارت کے لئے کوئی لواحقین نہیں آتے۔ ریگستان اُن ہڈیوں کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ ہمارے لاہور میں مرحوم جسٹس جمیل حسین رضوی نے اپنی طرف سے فیروزپور روڈ پر قبرستان کے لئے زمین ’’ ہد یۃً‘‘ دی ہے۔ وہاں بھی قبریں اندر سے پختہ ہیں اور بہت قرینے سے قطاروں میں بنی ہوئی ہیں۔ وہاں سےُ مردے کی ہڈیاں تو نہیں نکالی جاتیں لیکن اُس قبرستان کو پھول پھلواری سے خوب سجایا ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آپ کسی باغ میں بیٹھے ہیں۔ ہر ی گھاس کے تختے، خوبصورت بینچ اور کنکریٹ کے میز نما تختے جہاں آپ فیملی کے ساتھ کھانا بھی کھا سکتے ہیں۔

جب اسلام آباد بنا تھا تو وہاں کا قبرستان بھی خوبصورت منصوبہ بندی سے بنایا گیا تھا۔ حسبِ عادت ہم مسلمان اس قبرستان کی ترتیب کو 50 سال میں ہی تباہ و برباد کر گئے۔ میَں نے لاہور کی 2 خوبصورت ھاؤسنگ کالونیاں بنائی ہیں۔ ویلنشیا اور اِزمیر ۔ اِن دونوں کالونیوں کے قبرستان نہ صرف ترتیب سے بنائے بلکہ اگلے 50 سال کی آبادی کو دیکھ کر بنائے گئے ہیں۔ 16 سال بعد میَں نے اِن سوسائیٹوں کی سربراہی چھوڑ دی اور اَب 2015 میں وہاں جو قبریں بنی ہیں، وہ روائتی بے ترتیبی کا شکار ہو رہی ہیں۔ رہائشی تعاون نہیں کرتے۔ سوسائٹی کی اِنتظامیہ میں اتنی اَخلاقی جرأت نہیں کہ وہ رہائشیوں کو خاندانی قبرستان بنانے سے روکے۔ لیکن پھر بھی سرکاری قبرستانوں سے یہ بہتر ہیں کیونکہ ان قبرستانوں پر سوسائٹی کا تھوڑا بہت کنٹرول تو رہتا ہی ہے ۔

میَں اپنے علُما سے عاجزی سے پوچھتا ہوں کہ کیا وہ میرے اس خیال سے متفق ہونگے کہ غریب اور لاواث مُردوں کو غسل دے کر اُن کے ہی صاف شدہ کپڑوں میں دفن کر دیا جائے۔ دوسرے یہ کہ ہم قبروں کو بار بار زِیر استعمال کر سکیں جیسے کہ سعودی عرب میں ہوتا ہے اور بہت ضروری یہ کہ خاندانی قبرستان کا طریقہ ختم ہو جائے۔ یہ کتنا گھٹیا پن ہے کہ اگر ایک امیر اَنسان ایک قبر میں دفن ہے تو اُس کے ساتھ کسی غریب کی قبر نہ بن سکے۔ اسی لئے سرمایہ دار یا مذہبی اکابر قبرستان کے اندر ہی ایک اور احاطہ نما قبرستان بنا لیتے ہیں۔ اس سال میر ا امریکہ اور کینڈا جانے کا اِتفاق ہوا وہاں مسلمانوں کے لئے الگ قبرستان نہیں ہیں۔ مشترکہ قبرستان ہیں، جن کو عیسائی ، یہودی اور مسلمان قبرستان کے الگ الگ حصوں میں اپنے مرُدوں کو دفنانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ چونکہ گوروں کے قبرستان میں نظم و ضبط ، صفائی اور قبروں کی سیدھی قطاریں ہوتی ہیں اس لئے مسلمانوں کی قبریں بھی ضابطے کے اندر بنتی ہیں۔ کسی قبر کا تعویذ نہیں بنا ہوا ہوگا۔ کوئی قبر زمین کی سطح سے اُونچی نہ ہو گی۔ قبروں کے کتبے بھی زمین میں Horizantally گاڑھے ہوئے ہونگے ۔ہمارے ہاں کی طرح قبر کے سرہانے پر عمودی کتبے کھڑے نہیں ہو سکتے۔ جو بھی مسلمان اپنے مرُد ے کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کیلئے آتا ہے، وہ پھولوں کا گلدستہ لا کر قبر پر رکھ دے گا، دُعا پڑھے گا اور روانہ ہو جائے گا۔ قبرستان کی صفائی شہری انتظامیہ کے ذمہ ہے۔ میَں نے تین چار قبرستان دیکھے ۔ سب کے سب خوبصورت درختوں اور قرینے سے کٹی ہوئی جھاڑیوں سے سجے تھے ۔ قبرستان کی اندرونی سڑکوں پر کار بھی لائی جا سکتی تھی۔ قبروں کے ہر تختہ پر 200 قبریں ہوتی ہیں جو زمین کی سطح کے ساتھ ہموار ہوتی ہیں۔ گھاس کاٹنے والی مشین کے لئے آسانی رہتی ہے۔ اسی لئے قبرستان کے قریباً 500 تختوں پر سر سبز گھاس نہائت ہی ہمواری سے تراشی ہوئی ہوتی ہے۔

ہمارے ہاں لاہور میں جنرل جیلانی جب گورنر پنجاب تھے، اُنہوں نے ایل ڈی اے کے ذریعے ایک قبرستان موہلنوال میں نہر کنارے ڈیزائن کروایا تھا۔اُس وقت لینڈ مافیا عالمِ وجود میں نہیں آیا تھا۔ موہلنوال ٹھوکر نیاز بیگ سے 14 کلو میٹر دور تھا۔ اُس وقت ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی بھی بھرمار نہ ہوئی تھی۔ موہلنوال کا قبرستان اچھی منصوبہ سازی سے بنا تھا۔ 20 فٹ چوڑی سڑکیں قبروں کے درمیان ہر تختے کو چھوتی تھیں۔ لیکن وائے افسوس، لاہور والوں نے قریبی بے ہنگم قبرستانوں میں جانا پسند کیا۔ جنرل جیلانی کے بنائے ہوئے خوبصورت قبرستان کو اُن کی وفات کے بعد آنے والی حکومتوں نے اُس زمین کے پلاٹ بنا کر لوگوں کو پیچ دیئے۔ لاہوریوں کی قسمت میں وہی جنگل نما قبرستان رہ گئے ہیں جہاں گورکُن کا حکم چلتا ہے اور سکہّ رائج الوقت چلتا ہے۔ ہمارے دینی عالم زندہ انسانوں کو بحرانوں سے نہیں نکال سکتے۔ قبرستانوں کے بحران کو کیسے ختم کریں گے؟

ahmad_manzoor@hotmail.com

مزید : کالم