سیاستدان کب سبق سیکھیں گے؟

سیاستدان کب سبق سیکھیں گے؟
سیاستدان کب سبق سیکھیں گے؟

  

سیاستدانوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی کہ عوام اب فوج اور سیاستدانوں کی کارکردگی کا مقابلہ بھی کر رہے ہیں اور موازنہ بھی، وہ اپنی کارکردگی بڑھانے کی بجائے مختلف حیلے بہانوں سے یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جمہوریت خطرے میں ہے، اس لئے اُسے بچانے کے لئے عوام اور سیاستدانوں کو متحد ہو جانا چاہئے، جبکہ دوسری طرف خود عوام یہ سوچ رہے ہیں کہ جمہوریت اور فوج کی کارکردگی کا جو مقابلہ چل رہا ہے، وہ چلتا رہے تاکہ ملک کے حالات میں اسی طرح بہتری آئے، جیسے اب تک کی کارکردگی سے آئی ہے۔ میں تو یہ دیکھ کر حیران ہوا ہوں کہ مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی نے یوم آزادی مبارک کے جو پینافلیکس لگائے، ان پر بھی وزیر اعظم محمد نوازشریف کی تصویر لگانے کی بجائے جنرل راحیل شریف کی تصویر لگائی۔۔۔ کیا ایسا انہوں نے جنرل راحیل شریف سے محبت میں کیا یا وہ یہ جانتے تھے کہ عوام اب سوائے جنرل راحیل شریف کے اور کسی کو بھی ملک کا نجات دہندہ نہیں سمجھتے ۔۔۔ اس بار یوم آزادی جس جوش و خروش اور بلا خوف و خطر منایا گیا اُس کی پچھلے دس پندرہ برسوں میں مثال نہیں ملتی۔ یہاں تو خوف کا یہ عالم تھا کہ یوم آزادی پر جلوس بھی نہیں نکالنے دیئے جاتے تھے۔

پورے ملک میں جوش و جذبے سے منائے جانے والے یوم آزادی پر کہیں بھی کوئی شرپسندی نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی سانحہ پیش آیا۔ اس تبدیلی کو عوام جنرل راحیل شریف سے منسوب کر رہے ہیں جنہوں نے اسلام آباد کے آرمی گراؤنڈ میں آزادانہ شرکت کر کے عوام کو احساسِ تحفظ دیا ہے۔ میں خود حیران ہوں کہ کسی آرمی چیف کی ایسی مقبولیت کا سبب کیا ہے،میں اپنی شعور کی زندگی میں تین مارشل لاء دیکھ چکا ہوں۔ جمہوری حکومتوں کو برطرف کر کے اقتدار سنبھالنے والے جرنیلوں کے لئے عوام نے شروع میں تالیاں ضرور بجائیں، لیکن وہ اقتدار سنبھالنے کے باوجود عوام کو کچھ نہ دے سکے، حتیٰ کہ اُن کے بنیادی مسائل بھی حل نہ کر پائے اور جلد ہی ان کی شخصیت عوام کے لئے ناپسندیدہ بن گئی۔ جنرل راحیل شریف واحد چیف آف آرمی سٹاف ہیں جو اقتدار سنبھالے بغیر عوام کے دلوں میں اتر گئے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ پہلے والوں کی طرح کوئی غیر آئینی قدم نہیں اٹھائیں گے اور سول حکومت کو رخصت کر کے اقتدار میں آنے کی غلطی نہیں کریں گے، مگر عوام کی خواہش یہی ہے کہ وہ بگڑے ہوئے نظام کی چولیں کس دیں۔

ہونا تو یہ چاہئے کہ سیاستدان اور ملک کی سیاسی قیادت اس صورتِ حال سے سبق سیکھتے ہوئے اس نکتے پر غور کرے کہ آخر کس چیز نے جنرل راحیل شریف کو عوام میں اس قدر مقبول بنا دیا ہے؟ عوام کے نمائندے تو سیاستدان ہیں، پھر عوام چیف آف آرمی سٹاف سے بہتری کی امید کیوں لگائے بیٹھے ہیں۔ وہ غور کریں گے تو ایک چیز کھل کر ان کے سامنے آئے گی کہ سیاستدانوں نے نہ تو جرأت مندی سے کام لیا ہے اور نہ اپنے ذاتی مفادات کی عادت کو خیر باد کہا ہے، سیاست کو قومی خدمت کی بجائے اپنے لئے منفعت بخش کاروبار سمجھا ہے اور ملک کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کی بجائے ایسے کاموں اور منصوبوں پر توجہ دی ہے، جن کے ذریعے مالی فوائد حاصل ہو سکیں۔ حیرت ہے کہ سیاستدان صرف اس بات کو فوکس کئے ہوئے ہیں کہ کسی طرح پارلیمینٹ بچ جائے، آئین تباہ ہوتا ہے تو ہو، قانون کی دھجیاں اُڑتی ہیں تو اُڑیں، عوام دہشت گردی کی نذر ہوتے ہیں تو ہوں مگر پارلیمینٹ کو بچنا چاہیے۔

ایسا سوچتے ہوئے وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ عوام کی حمایت سے محروم پارلیمینٹ بھی نہیں بچ سکتی۔ اُسے جو چیز کمزور کرتی ہے، وہ اس سے عوام کی امیدوں کا وابستہ نہ ہونا ہے۔ آپ کراچی کو دیکھئے، وفاقی حکومت، پارلیمینٹ، صوبائی حکومت سے صوبائی اسمبلی اور سول سیٹ اپ ایک طرف ہے اور دوسری طرف رینجرز ہے، جس سے عوام اُمیدیں باندھے ہوئے ہیں۔ کراچی میں آج جو امن ہے، وہ کسی صورت نہیں آ سکتا تھا، اگر بات صوبائی حکومت یا سیاستدانوں تک محدود رہتی۔ اسے جنرل راحیل شریف نے اپنے ہاتھ میں لیا، آئین کے تحت خصوصی اختیارات مانگے، رینجرز کو با اختیار کیا گیا تو نتائج سامنے آ گئے۔ وگرنہ یہ عظیم شہر تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا تھا اور کسی کو بھی نہیں لگتا تھا کہ اس کے حالات کبھی درست بھی ہو سکیں گے۔

اب اس صورتِ حال کو مزید بہتر بنانے کے لئے سیاستدانوں کو کھل کر امن و امان قائم کرنے والے اداروں کی حمایت کرنی چاہئے لیکن اگر مگر کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ایم کیو ایم کے استعفوں کے ذریعے ایک ایسی فضا پیدا کی جا رہی ہے جو اس آپریشن کو نقصان پہنچا سکتی ہے، تاہم اگر ایسا ہوا تو نقصان صرف کراچی آپریشن کا ہی نہیں ہوگا اور بھی بہت کچھ اس کی نذر ہو جائے گا۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر ایم کیو ایم کو اس بات پر قائل کریں کہ کراچی آپریشن بہتری کی طرف جا رہا ہے آپ اس کی کھل کر حمایت کریں، جہاں کوئی غلط کام ہوتا ہے، اس کی ثبوتوں کے ساتھ نشاندہی کریں، صرف اس دلیل کو استعمال نہ کریں کہ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والا ہر شخص معصوم ہے، اگر وہ خود یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا جرائم پیشہ عناصر سے کوئی تعلق نہیں تو پھر اُنہیں رینجرز کے ساتھ مخاصمت کی بجائے بہتر رابطہ کاری رکھنی چاہئے تاکہ کمیونیکیشن گیپ کی وجہ سے غلط فہمیاں جنم نہ لیں۔ یہ بات تو اب طے ہے کہ ضربِ عضب اور کراچی آپریشن کی کامیابیوں کو اب کوئی بھی ختم نہیں کر سکتا۔

جس طرح شمالی و جنوبی وزیرستان سے دہشتگردوں کا صفایا کرنے کے بعد وہاں قائم ہونے والے امن کو خراب کرنے کی اب فوج اجازت نہیں دے گی اسی طرح کراچی میں رینجرز کی وجہ سے جو امن واپس آیا ہے، اسے کسی صورت دوبارہ بد امنی میں نہیں ڈھلنے دیا جائے گا۔ اس کا بار بار آرمی چیف بھی اظہار کر چکے ہیں۔

جب یہ پیغام اس قدر واضح ہے تو پھر معاملہ اس سے آگے بڑھنا چاہئے۔ بات اس نکتے پر نہ اٹکی رہے کہ اس آپریشن کو جاری رہنا چاہئے یا نہیں؟ کیسے جاری رہنا چاہئے یا اس پر فلاں فلاں قدغنیں ہونی چاہئیں یا نہیں؟ اڑھائی کروڑ آبادی کے شہر کو بد امنی، دہشت گردی، بھتہ خوری، گینگ وار اور اغوا برائے تاوان جیسے جرائم سے نکالنے کے لئے کیا کوئی ’’پابند‘‘ آپریشن کیا جا سکتا ہے! کیا اس کے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں؟ بظاہر ایسا ممکن نہیں ۔۔۔ تو پھر ایسی باتوں کو کیوں زیر بحث لایا جا رہا ہے؟ جو نہ تو پوری ہو سکتی ہیں اور نہ ہی موجودہ حالات میں قوم کو ان کی ضرورت ہے۔

مجھے تو اس بات پر بھی سخت حیرت ہے کہ وفاقی وزیر مشاہد اللہ خان نے گڑے مردے کیوں اُکھاڑے اور وہ بھی اُس دن جب پوری قوم یوم آزادی منا رہی تھی اور چیف آف آرمی سٹاف قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لئے میدان میں کھڑے تھے۔ میرے ذہن میں یہ سوال کھٹک رہا ہے کہ مشاہد اللہ خان نے یہ بات ذاتی حوالے سے کی ہے یا یہ کسی منصوبہ بندی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے فوج کے کردار کو متنازعہ بنانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ پہلے جو الزامات جاوید ہاشمی لگاتے تھے، وہ اب مشاہد اللہ خان نے دہرائے ہیں۔ دونوں نے آئی ایس آئی کو ایک ایسی ایجنسی بنا کر پیش کیا ہے جو آرمی چیف کو بھی اہمیت نہیں دیتی۔ یہ بات انتہائی مضحکہ خیز اور فوج کے انتظامی نظام سے نابلد ہونے کی نشانی ہے۔

جاوید ہاشمی، جنرل (ر) شجاع پاشا پر الزام لگاتے تھے کہ انہوں نے دھرنوں کی منصوبہ بندی کی، مشاہد اللہ خان نے جنرل (ر) ظہیر الاسلام کو سازش کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ دونوں صاحبان یہ بات بھول گئے ہیں کہ دھرنا جنرل راحیل شریف کے دور میں دیا گیا ہے۔ جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کے دور میں نہیں۔ جنرل راحیل شریف کی اب تک جو اپروچ رہی ہے، اُس سے ایک رتی بھر بھی یہ شائبہ نہیں اُبھرتا کہ وہ جمہوریت کے خلاف کسی سازش کی حمایت کر سکتے ہیں؟ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ جنرل (ر) شجاع پاشا یا جنرل ظہیر الاسلام کوئی سازش کریں۔ اگرچہ وزیر اعظم کے ترجمان اور آئی ایس پی آر نے ایسے کسی واقعہ کی تردید کی ہے، جس میں کوئی ایسی کال سنی گئی ہو جو جنرل (ر) ظہیر سے منسوب کی گئی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ایسے موقع پر جب فوج جمہوریت کا گند صاف کر رہی ہے، جمہوری حکومت کو سپورٹ دے رہی ہے اور سب سے بڑھ کر جنرل راحیل شریف کا وزیر اعظم نوازشریف کے ساتھ بہترین کوآرڈینشن موجود ہے، ایسی باتیں کیوں کی جا رہی ہیں، ان افواہوں کا مقصد کیا ہے؟

دھرنے ختم ہو گئے، پی ٹی آئی کے استعفے واپس ہو گئے، جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ حکومت کے حق میں آ گئی۔ سب کچھ تو درست ہو گیا، پھر ماضی کے گڑے مردے اُکھاڑنے کا مقصد کیا ہے؟ مجھے تو یہی لگتا ہے کہ حکومت میں موجود بعض لوگ فوج کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں اور اسی خوف کی وجہ سے ایسی سازشیں کر رہے ہیں۔ جو فی الوقت کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ کاش یہ سب کچھ چھوڑ کر حکومت اور سیاستدان عوام کے ساتھ اپنا وہ تعلق مضبوط کریں جو بالکل کچے دھاگے کی طرح نازک ہو چکا ہے اور یہ تعلق صرف اُسی صورت مضبوط ہو سکتا ہے، جب ہماری سیاست مفادات سے نکل کر قوم کی خدمت کا استعارہبن جائے اور فی الوقت یہ بات آسان نظر نہیں آتی۔

مزید : کالم