متحدہ پرانی صحبت کے ساتھ اب سیاست نہیں کر سکتی

متحدہ پرانی صحبت کے ساتھ اب سیاست نہیں کر سکتی
متحدہ پرانی صحبت کے ساتھ اب سیاست نہیں کر سکتی

  

متحدہ کے قائد کا جلال تحلیل ہوا کہ ان کا رعب رخصت ہوا یا پھر ان کے ہوش و حواس ہوا ہوئے ۔کراچی آپریشن کے بعد لمحہ لمحہ،دقیقہ دقیقہ ان کے ادلتے بدلتے بیانات اور پل پل آتی جاتی وضاحتیں اور پھر بار بار موقف کی تبدیلی ان کے ذہنی تشتت اور نظریاتی تشنج کا پتہ دیتی ہے ۔جنابِ قائد کی عجلت پر اگر حکام کی بصیرت فوقیت نہ رکھتی تو کیا پتہ ان کی تلون مزاجی و سیماب صفتی آئے روزپاکستانی سیاسی نظام کو بحران کی لپیٹ میں لیا کئے ۔بڑے دکھ کی بات ہے اور اسے دکھ کے ساتھ ہی کہنا اور سننا چاہئے کہ ہمارا سیاسی نظام ہنوز پختگی اور مضبوطی کی منزل سے کوسوں دور ہے ،جبھی تو کسی نہ کسی جماعت کا بانی مبانی اس میں بھونچال بپا کر سکتا ہے ۔

سینٹ ،قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی میں متحدہ کے یکایک اور اچانک استعفوں اور پھر سپیکر کے چیمبر میں تصدیق و تائید کے عمل سے لمحہ بھر کو تو ایسا لگا کہ بادشاہ گر نے چال چل دی ۔۔۔پانسہ پلٹ گیا اور متحدہ مجلسِ شوریٰ سے بس باہر ہوا چاہتی ہے۔نائن زیرو کا یہ ہنگامی و جذباتی اور مصلحتی و مصالحتی قدم الٹا بھی پڑ سکتا تھا،لیکن وزیر اعظم کا تحمل اور مدبرانہ پن بروئے کار آیا اور سیاسی بحران کے تھپیڑے تھمنے لگے ۔جنابِ قائدبھی جب اپنے جذبات کے بحرِبے کنار سے باہر آئے تو ان کی بدن بولی میں بھی شعور و شائستگی لوٹ آئی ۔کراچی آپریشن پر اپنے تحفظات کو اونچے سُروں اور پکے راگوں میں گانے کے بعد رواروی اور صلح جوئی کا تاثرتخلیق کیا گیا کہ مبادا بات بگڑ بگڑ جائے ۔کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن تو خیر رکنے سے رہا کہ سیاسی وعسکری قیادتوں نے امن کا جو خواب دیکھا ہے ۔۔۔بعضوں کو یقیں کامل اور بہتوں کو گماں غالب کہ اس کی تعبیر اب دور نہیں رہی ۔ہر چمکتے سور ج کی طرح طلوع ہوتی حقیقت یہی ہے جس سے متحدہ مدتِ مدید سے آنکھیں چرایا کئے اور ٹھنڈے پیٹوں اس سے یہ آپریشن ہضم نہیں ہوتا۔حقیقت پسندی کو اب کوئی گلی کی نکڑوں اور بازاروں کے محلوں سے پکڑ کر تو لانے سے رہا یارو!جتنا جلد ہو سکے متحدہ کو یہ نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے (خیر پڑھ تو وہ چکی البتہ ماننے سے وہ گریزاں اور فراراں ہے )کہ اب وہ پرانی صحبت کے ساتھ سیاست نہیں کر سکتی کہ گردشِ ایام کے شام و سحر بدلے بدلے لگتے ہیں۔

ہماری سیاسی تاریخ میں ایم کیو ایم کا روٹھنا اور مننا ایک طویل تاریخ رکھتا ہے اور اس جماعت کا تشخص و تعارف بھی یہی کہ بوقتِ ضرورت کبھی آنکھیں دکھا دینا اور کبھی آنکھیں جھکا لینا،کہیں کہیں آنکھیں چرا لینا اور کہیں کہیںآنکھیں ملا لینااور ہاں جی چاہے تو آنکھیں میچ لینا ۔نہیں معلوم کہ سلیم کوثر نے کس رنگ اور ترنگ میں کہا تھا مگر ان کا شعر بے طرح یاد آئے ہے :

روٹھتے ان کو دیر لگتی نہ منتے کوثر

ہو نہ ہو ان کی جوانی ابھی بچپن میں ہے

خوشاخیر ہو کہ متحدہ کو منانے کا ہدف اب کی بار رحمان بابا کے پاس نہیں،اس کا قرعہ بار مولانا فضل الرحمان مدظلہ العالی کے نام پڑا ہے ۔مولانا بھی اپنے طویل وعریض سیاسی سفر میں ’’بنانے،اپنانے اورمنانے ‘‘میں ملکہ رکھا کئے اور ان کا عمر بھر قدم کہیں بھی غلط نہیں پڑا ۔ان کے لب تو اتنے شیریں ہیں کہ حامی تو حامی حریف تک بھی ان کے شگوفے اور اشکلے سن سنا کربے مزہ نہ ہوں ۔اپنے پرائے اور یگانے و بیگانے ان کے کمال کے قائل ہیں کہ ماشاء اللہ مولانا تو باتوں باتوں میں باغ لگادیتے ہیں۔کوئی صبح کا بھولا ہواور شام کواسے گھر لانا ہو تو مولانا سے بہتر و برتر کون ہے ؟کون ہے جو ان کی سیاسی دور اندیشی ،نگاہ ظرفی اور عالی مقامی کی ہمسری و برابری کا دعوی کرے؟سیاسی پیچیدگیوں،قانونی نکتہ آفرینیوں،تناظراتی گتھیوں اور اتحادی و اختلافی مو شگافیوں میں وہ ماہر ومشاق اور منجھے ہوئے ہیں کہ ان کی عمر خضر اس صحرا میں آبلہ پائی کرتے گزری۔متحدہ تو رہی ایک طرف ۔۔۔انہیں اگر تحریک انصاف کو راہ پر لانے کا فریضہ سونپ دیا جائے تو کیا پتہ وہ اپنی طوطی ہفت بیانی سے یہ معجزہ بھی کر دکھائیں۔اپنی کرشمہ سازی سے صحرا کو گلزار ،سنگریزے کو ہیرااورزہر کو اکسیر بناڈالیں کہ بقول مومن:

دنیا میں کیا نہیں ہوتا

دنیا میں کچھ ہو نہ ہو ، متحدہ کا کاروبار اور معاملاتِ جہانگیری اور مسائلِ جہاں بانی یونہی چلتے چلاتے رہیں گے تاآنکہ انہی کی صفوں میں سے کوئی جانباز وجری اٹھے اوربساط پلٹ دے ۔جنابِ قائد کی تقدیر اب اپنے حصے کی خوشہ چینی کر چکی اور آئندہ ایام میں ان کا کردار بس تاریخ کی کتابوں میں رہ جائے گا اور انہی کے جانثار ان کا تذکرہ کیا کریں گے تعجب اور ترس کے ساتھ۔وہ ابھی تک 80اور 90کے عشرے میں زندگانی کرنا چاہتے ہیں اور زیست کے سوا سیاست کو بھی اسی نگاہ سے دیکھتے آئے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ ان کاطنطنہ و طمطراق اور جاہ وجلال یونہی قائم رہے کہ اشارہ ابرو سے لوگ زندگی پائیں اور عتابِ شاہی سے چراغ گل ہوتے رہیں۔اب انہیں کون سمجھائے کہ شیر کے پنجے جھڑ چکے ،دانت اکھڑ چکے اور سانس سہمی سہمی رہتی ہے ۔۔۔تو پھر ایسا شیر غصے میں دھاڑ ہی سکتا ہے اور بس ۔ایک وقت آتا ہے کہ شیر بھی بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری رہتا ہے ۔تن من اور پھیپھڑوں کا پور ا زور لگا کر جب وہ دھاڑتا ہے تو مشکل سے بلی کی میاؤں ہی نکا ل پاتا ہے ۔اب کون جنابِ قائد کو یہ بات سمجھائے !

مزید : کالم