ایم کیو ایم اور مائنس ون فارمولا

ایم کیو ایم اور مائنس ون فارمولا
 ایم کیو ایم اور مائنس ون فارمولا

  

مائنس ون فارمولا بھی آ گیا ، یعنی الطاف حسین کے بغیر ایم کیو ایم قبول ہے۔یہ کہنا تھا وزیر داخلہ چودھری نثار کا قومی اسمبلی میں۔ انہوں نے دھواں دھار تقریر کی، اپنے دل کا سارا غبار نکالا اور موجودہ حالات کا ایم کیو ایم سے زیادہ اُس کے قائد الطاف حسین کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ایم کیو ایم سیاسی حیثیت سے قبول ہے، لیکن الطاف حسین اپنی تقریروں میں جس قسم کی باتیں کرتے اور اشتعال پھیلاتے ہیں وہ ہرگز قبول نہیں۔ چودھری نثار ایک ذمہ دار شخص ہیں اور اتنے ہی سلجھے ہوئے سیاست دان بھی۔ جو بات بھی کرتے ہیں، بہت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے شدید مخالف بھی جب چودھری نثار کا ذکر کرتے ہیں، تو یہ اعتراف کرنے میں ذرا بھی تامل سے کام نہیں لیتے کہ وہ زیرک سیاست دان ہیں۔ شیخ رشید جیسا شخص بھی، جن کے پاس ’’لحاظ‘‘ نام کی کوئی چیز نہیں، یعنی اُن کے پاس اپنے کسی بھی مخالف کے لئے، چاہے وہ محترمہ بے نظیر بھٹو تھیں یا آصف زرداری اور نواز شریف، کوئی معافی نہیں ہوتی۔مخالفوں کے لئے اُن کے حملے کسی تیز دھار آلے کی طرح ہوتے ہیں، مگر وہ اُن کا نام احترام سے ہی نہیں اُن کا ذکر بھی بڑے ادب سے کرتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں گزشتہ ہفتے چودھری نثار کی ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے بارے میں تقریر اور اُن الفاظ پر ضرور غور کرنا چاہئے، جو چودھری نثار نے اُن کے بارے میں کہے، جس سے بہت سے لوگوں کا دِل خوش ہوا۔اگر خوش نہیں ہوئے تو صرف ایم کیو ایم والے نہیں ہوئے، کیونکہ وہ ایم کیو ایم اور الطاف حسین کو ایک دوسرے کا لازمی جزو قرار دیتے ہیں۔اگرچہ الطاف حسین کے خلاف رینجرز سمیت تمام شہریوں نے بھی اُن کی فوج اور رینجرز مخالف تقریر پر ایک سو سے زیادہ مقدمات ملک کے مختلف تھانوں میں درج کرا رکھے ہیں، جن کا ذکر ہم اپنے ایک گزشہ کالم میں نہایت تفصیل کے ساتھ کر چکے ہیں اور یہ عندیہ بھی دے چکے ہیں کہ شاید ان مقدمات یا ایف آئی آرز کا کوئی حتمی نتیجہ نہ نکلے۔

حکومت شایداس سلسلے میں یکسو نہیں۔ غالباً وہ سمجھتی ہے کہ الطاف حسین کی گرفتاری سے کراچی میں امن وامان کی صورت حال خراب ہو سکتی ہے اور اگر خون خرابہ ہوا تو کئی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، حکومت فی الحال اُن سے بچنا چاہتی ہے اور خواہش رکھتی ہے کہ برطانیہ میں منی لانڈرنگ اور ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے اسکاٹ لینڈ یارڈ جو تحقیقات کر رہی ہے، اُسے پایۂ تکمیل تک پہنچنے دیا جائے، جس کے لئے پاکستان کی وزارت داخلہ نے اسکاٹ لینڈ یارڈ سے تعاون بھی کیا ہے اور اب بھی اُن کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ ایسے میں ’’مائنس ون فارمولا‘‘ حکومت کے ان جذبات کی ترجمانی کرتا ہے کہ وہ الطاف حسین کے بغیر ایم کیو ایم کو قبول کرنے کے لئے تیار ہے، جو واقعی ایک سیاسی حقیقت ہے اور حکومت نہیں چاہتی کہ اس حقیقت کو نظر انداز کیا جائے، لیکن الطاف حسین کے لئے یہ مشکل ہو گا کہ وہ مائنس ون فارمولے پر عمل کریں، کیونکہ ایم کیو ایم کے بغیر اُن کی حیثیت بھی زیرو ہو جاتی ہے۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جس روز ایم کیو ایم سے الگ ہوئے وہ اپنی سیاسی ہی نہیں ذاتی حیثیت بھی کھو بیٹھیں گے اور کوئی اُن کا نام لینے والا بھی نہیں ہو گا،تاہم وہ یہ جان گئے ہیں کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اب اُن کو منظر پر نہیں دیکھنا چاہتی، اس لئے الطاف حسین کی پریشانی بڑھ گئی ہے۔

رابطہ کمیٹی میں موجود اُن کے کچھ قابل بھروسہ ساتھی بھی انہیں چھوڑ کر بیرون مُلک جا چکے ہیں، جن میں بابر غوری، فیصل سبزواری اور حیدر عباس رضوی سرفہرست ہیں۔ اُن کی روپوشی یا مُلک چھوڑ جانے کے عمل سے الطاف حسین سخت پریشان ہیں اور خود کو تنہا محسوس کر رہے ہیں، انہیں نظر آ رہا ہے کہ حالات بہت زیادہ ناموافق ہیں، چونکہ وہ بہت ہی مضبوط اعصاب کے مالک ہیں، اس لئے ابھی تک ڈٹے ہوئے ہیں، لیکن اُن پر اس قدر زیادہ پریشر ہے کہ کسی بھی وقت اُن کے ’’مضبوط اعصاب‘‘ جواب دے سکتے ہیں۔۔۔یہ وقت واقعی ایم کیو ایم کے لئے بہت کڑا اور مشکل ہے۔ اگرچہ اس سے پہلے بھی ایم کیو ایم نے بہت سخت حالات دیکھے ہیں۔ نواز شریف کے پچھلے دور میں ایک بہت ہی مشکل اور سخت آپریشن کا سامنا کیا، لیکن الطاف حسین یا ایم کیو ایم کو کسی صورت میں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں کیا جا سکا۔ اب پھر ایم کیو ایم اور الطاف حسین پر ایک بُرا وقت ہے۔ وہ اس سے نکل پاتی ہے یا نہیں؟ ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس بار مشکلات سے نکلنا اس کے لئے اتنا آسان نہیں ہو گا۔ ہمارا مشورہ ہے کہ وہ اپنی سیاسی حیثیت میں رہیں، اس سے تجاوز نہ کریں۔

جب یہ کالم لکھ چکا تھا تب خبر آئی کہ ایم کیو ایم کے قومی و صوبائی اسمبلی اور سینٹ ارکان نے اپنے استعفے متعلقہ اسمبلیوں اور سینٹ میں جمع کرا دئیے ہیں۔ اس خبر کے بعد سیاست نے پھر ایک نئی کروٹ لی ہے۔ ایم کیو ایم کے اراکین اپنے استعفوں میں سنجیدہ ہیں یا نہیں یہ تو انہیں یا الطاف حسین کو ہی علم ہو گا، تاہم ایاز صادق اس بات پر قائم اور ڈٹے نظر آتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے استعفے منظور نہ کئے جائیں۔ انہوں نے وزیر داخلہ کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ ایم کیو ایم کے تحفظات دُور کریں۔ اس پر پیشرفت ہوتی ہے یا نہیں ؟ یہ ایک مشکل سوال ہے۔اپنے استعفوں کے ساتھ اراکین ایم کیو ایم نے جو خط لگایا ہے اور استعفوں کی جو وجوہات تحریر کی ہیں، ان سب کا مانا جانا شاید مشکل ہو، لیکن حکومت ان پر غور ضرور کرے گی۔ خود ایم کیو ایم کو بھی غور کرنا چاہیے کہ وہ کہاں کہاں غلط اور کہاں کہاں درست ہے؟ فیصلہ اب وقت نے کرنا ہے اور وقت کبھی غلط فیصلہ نہیں کرتا۔

مزید : کالم