بے مثال ہیلتھ پالیسی، لیکن تشخیص کا سسٹم اصلاح طلب

بے مثال ہیلتھ پالیسی، لیکن تشخیص کا سسٹم اصلاح طلب
بے مثال ہیلتھ پالیسی، لیکن تشخیص کا سسٹم اصلاح طلب

  

کچھ عرصہ پہلے 90شاہراہِ قائداعظم پر نئی ہیلتھ پالیسی کے بارے میں ایک بہت اہم سیشن ہوا، جس میں پورے پنجاب سے ہیلتھ کے بڑے بڑے نام شریک ہوئے۔ صوبائی مشیر صحت خواجہ سلیمان نے واقعی بہت محنت کی تھی۔ نئی ہیلتھ پالیسی کے بارے میں بریفنگ دی گئی اور جو اہم نکات بیان کئے گئے ان سے معلوم ہوا کہ حکومت پنجاب نے بالآخر پنجاب کے عوام کی بہتری کے لئے ایک بے مثال ہیلتھ پالیسی تشکیل دے دی ہے۔ مجوزہ ہیلتھ پالیسی ابھی تک کسی سرد خانے میں پڑی ہے، لیکن اس کی سفارشات انتہائی صحت افزا ہیں۔ چھوٹے شہروں اور دیہات میں بیٹھے ہوئے مریض بھی موبائل فون کے ذریعے ماہرین سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔۔۔ لیکن بدقسمتی سے تشخیص کے بارے میں اس پالیسی میں کوئی اہم پیش رفت یا تجویز موجود نہیں ہے،جبکہ اس وقت سرکاری ہسپتالوں میں مرض کی تشخیص کا مسئلہ اتنا الجھ چکا ہے کہ حال ہی میں ایک صارف عدالت نے ایک غلط تشخیص پر دو ڈاکٹروں کو ٹھیک ٹھاک جرمانہ کیا ہے، جتنا جرمانہ کیا گیا ہے اتنی رقم وہ ڈاکٹر کہاں سے لائیں گے؟ یہ بات فیصلہ دینے والے بھی جانتے ہوں گے۔۔۔۔ غلط تشخیص کی وجہ سے سارا علاج غلط ہو جاتا ہے۔ یہ لطیفہ تو آپ نے بھی سُنا ہو گا کہ ایک بیمار ایک پرائیویٹ ہسپتال میں داخل ہوا، تو بہت گھبرایا ہوا تھا۔ڈاکٹر نے پوچھا کہ آپ گھبرائے ہوئے کیوں ہیں؟ تو مریض نے جواب دیا کہ مَیں جس ہسپتال سے بھاگ کر آیا ہوں، وہاں ڈاکٹر اپنڈکس تشخیص کرتے تھے، لیکن مریض ملیریا سے مرتا تھا۔۔۔ پرائیویٹ ہسپتال کے ڈاکٹر نے تسلی دیتے ہوئے کہا، اس میں گھبرانے والی کوئی بات نہیں،ہمارے ہسپتال میں ملیریا کا مریض ملیریا سے ہی مرتا ہے۔

قسمت کی بات ہے کہ بے شک آپ کسی کو ٹکر نہ ماریں، لیکن آپ کسی دوسرے ڈرائیور کو مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ آپ کو ٹکر نہ مارے۔ فین روڈ کے قریب ایک موٹر سائیکل سوار نے آ کر زور دار ٹکر ماری اور چلتا بنا۔ چند لمحوں بعد جب غور کیا تو معلوم ہوا کہ دائیں پاؤں میں درد ہے اور سوج بھی گیا ہے، فوراً سامنے کے ایک دکاندار نے سنبھالا، اپنی چھوٹی سی دکان پربٹھا کر پانی کا گلاس پلایا اور دوا بھی لگا دی، چند منٹوں بعد مَیں رکشا لے کر گنگارام ہسپتال کی ایمرجنسی پہنچا۔ گیٹ والے کو وہیل چیئر لانے کا کہا، تھوڑی دیر بعد وہیل چیئر آ گئی۔ پرچی بنوائی اور ایمرجنسی میں داخل ہو گیا۔ مسئلہ بیان کیا۔ایک ٹیکہ لگا دیا گیا ، پھر ایمرجنسی کی پہلی منزل پر بھجوا دیا گیا۔ یہاں ہڈیوں کا کوئی ڈاکٹر دستیاب نہیں تھا، بہت حیرت ہوئی کہ ایمرجنسی وارڈ میں ہڈیوں کا کوئی ڈاکٹر موجود نہیں، جبکہ کافی سیریس کیس آ رہے تھے۔ ایک گھنٹے بعد نرسنگ سٹیشن سے بات کی تو ایک طرف سے ایک ہاؤس جاب کرنے والے ڈاکٹر آئے۔میرے ہاتھ میں پکڑے ہوئے ایکسرے کو طائرانہ انداز میں دیکھا اور بولے کہ کوئی ہڈی نہیں ٹوٹی ہے، آپ یہ دوائیں لے لیں۔ دو گولیاں درد کم کرنے کی تھیں اور تیسری آگمنٹن لکھی ہوئی تھی۔

مَیں نے اطمینان کا سانس لیا کہ ڈاکٹر نے اچھی خبر سنائی ہے کہ کوئی ہڈی نہیں ٹوٹی۔ چار دن تک آرام کرتا رہا، لیکن پاؤں کی صورت حال بہتر ہوتی نظر نہ آئی، تو میو ہسپتال کے ایم ایس کے پاس پہنچے۔ انہوں نے آگے ریفر کر دیا۔ پہلے ایکسرے کروائے گئے، لیکن ایک ڈاکٹر نے کہا کہ آپ ڈیجیٹل ایکسرے کروا کر لائیں۔ مَیں حیران ہوا کہ اگر ڈیجیٹل ایکسرے ضروری تھے تو پھر عام ایکسروں کی کیا ضرورت تھی؟ بہرکیف ڈیجیٹل ایکسرے کروانے گئے تو معلوم ہوا کہ میو ہسپتال کی حدود میں ایک ادارہ سینٹر فارنیو کلیئر میڈیسن کے عنوان سے کام کرتا ہے، وہاں جا کر ڈیجیٹل ایکسرے کی فیس ساڑھے پانچ سو روپے جمع کروائی۔ چند منٹوں میں ایکسرے مل گیا۔ لے کر واپس ڈاکٹر کے پاس گئے، تو پہلے جونیئر ڈاکٹر نے غور سے دیکھا، پھر ایک سینئر ڈاکٹر کو دے دیا اور کہا کہ ہڈی ٹوٹی ہے۔ پہلے آپ پاؤں کی سوج کم کریں، پھر ہم ہڈی جوڑیں گے۔

اس ڈاکٹر نے بھی چند دوائیں لکھ دیں اور ساتھ ہی پلستر کروانے کا سامان نوٹ کر دیا وہاں سے نکلے، تو ذہن میں آیا کہ ذرا مزنگ میں ہڈی کے دیسی ماہر کو بھی دکھاتے چلیں۔وہاں رش لگا ہوا تھا۔ایکسرے دیکھ کر اُس نے کہا کوئی مسئلہ نہیں ہے، ہڈی دو جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہے۔اب مَیں ذرا کنفیوژ ہوا کہ گنگارام کے ڈاکٹر نے ہڈی درست قرار دی،میو ہسپتال کے ڈاکٹر نے ایک ہڈی ٹوٹی بتائی اور پہلوان نے دو ہڈیاں ٹوٹی ہوئی پائیں، سوچا کہ پرائیویٹ سیکٹر کے کسی ہسپتال سے بھی مشورہ لینا چاہئے۔جیل روڈ پر ہمارے دوست سینیٹر ظفر چودھری کے بھائی ڈاکٹر مظہر اقبال چودھری کے ہڈی کے ہسپتال پہنچے۔ پرانی دوستی کی وجہ سے بہت تپاک سے ملے۔ جب ایکسرے دیکھے تو کچھ سٹپٹائے۔ حیران ہو کر کہنے لگے کہ کس نے کہا تھا کہ ایکسرے میں کوئی خرابی نظر نہیں آ رہی اب تو دیر بھی ہو چکی ہے۔ بہرکیف آپ اپنے پاؤں کی سوج کم کرنے کے لئے ادویات استعمال کریں، پھر میو ہسپتال میں ڈاکٹر پروفیسر قاضی اور ڈاکٹر پروفیسر اویس سے رابطہ کریں۔ انشا اللہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔

اتنی اچھی نئی ہیلتھ پالیسی تشکیل دینے والی پنجاب حکومت کے لئے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ صرف مرض کی تشخیص کا غلط نظام ہونے کی وجہ سے مریضوں کو بلا جواز نہ صرف اذیت برداشت کرنا پڑتی ہے، بلکہ مرض بگڑ بھی جاتا ہے۔ پنجاب حکومت کا ایک ادارہ آج کل صفائی کے ناقص انتظامات پر آپریشن تھیٹر بھی سیل کر رہا ہے۔ آپریشن تھیٹر سیل ہونے سے غریب اور مجبور مریض دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ آپریشن تھیٹر بند کرنے کے بجائے صفائی کے بہتر انتظامات کئے جائیں جو صرف دو گھنٹے میں ہو سکتے ہیں۔ انڈیا نے ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے لئے لازمی قرار دیا ہے کہ وہ ادویات کے نام بڑے لفظوں میں لکھیں اور ساتھ ہی جنرک نام تحریر کریں تاکہ جو گولی ڈاکٹر رشوت لے کر90روپے والی لکھتا ہے، مریض وہی گولی5روپے والی استعمال کر کے صحت یاب ہو سکے۔

مزید : کالم