مشاہد اللہ خان کے بیان کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے،وسیم اختر

مشاہد اللہ خان کے بیان کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے،وسیم اختر

لاہور(نمائندہ خصوصی)پارلیمانی لیڈرصوبائی اسمبلی وامیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختراور سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ نے مشاہداللہ خان کے بیان کہ ’’دھرنوں کے دوران سازش کے ذریعے جنرل ظہیراقتدار پر قبضہ کرناچاہتے تھے‘‘ پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ اس بیان کی مکمل تحقیقات کرتے ہوئے حقائق سامنے لائے جائیں اس طرح کے بیانات سے ملک میں ایک نیا بھونچال آنے کاخدشہ ہے۔انہوں نے کہاکہ تمام اداروں کو اپنی آئینی وقانونی حدود میں رہ کرکام کرنا ہو گا ۔ ماضی قریب میں ایسی بہت ساری مثالیں ملتی ہیں جن سے واضح ہوجاتا ہے کہ ہمارے ملکی ادارے اور ان میں بیٹھے لوگ ایک دوسرے کیخلاف سرگرم رہے ہیں۔

مگر عدلیہ ومیڈیا کی آزادی اور عوام میں سیاسی شعور کی بیداری نے اس روش کوبدلنے کی حتی المقدور کوشش کی ہے ہمیں ایک دوسرے کی رائے کااحترام کرتے ہوئے ملک وقوم کوترقی وخوشحالی کی جانب لے کر جاناہے۔جماعت اسلامی پنجاب کے رہنماؤں نے کہاکہ ملک اس وقت شدید قسم کے بحرانوں کی زد میں ہے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت عوام کی مشکلات میں اضافہ کیاجارہاہے ملک کے خلاف سازشیں کرنے والے پوری طرح متحرک ہوچکے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعظم نوازشریف بیرون ممالک کے دور کم کرکے ملک وقوم اور عوامی مسائل پر توجہ دیں اور ملک کے خلاف ہونے والی سازشوں کوبے نقاب کریں۔انہوں نے مزیدکہاکہ خفیہ ادارے غیرقا نونی’’فون ٹیپنگ‘‘کرتے رہتے ہیں یہ فعل کسی کے خلاف بھی کیوں نہ ہوناقابل معافی جرم ہے۔سیاسی وعسکری قیادت ملک وقوم کے وسیع ترمفاد میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کے خلاف سازش کرنے والوں کاقلع قمع کریں۔

مزید : میٹروپولیٹن 4