ریسٹورنٹس اور ہسپتال ۔ برابر گندے۔ امیر و غریب سب برابر

ریسٹورنٹس اور ہسپتال ۔ برابر گندے۔ امیر و غریب سب برابر

یوم آزادی گزر گیا۔ ہم نے پرچم لہرائے۔سڑکوں پر غل غپاڑا کیا۔ مزے کئے۔ سارا دن ٹی وی پر قومی ترانے چلتے رہے۔ بس یہی تھا ہمارا یوم آزادی اور ہماری پاک وطن سے محبت۔ یوم آزادی ویسے تو کئی وزراء پر بہت بھاری ثابت ہوا ہے۔ اپنے مشاہد اللہ نے بات تو شائد سچ ہی کی ہو، لیکن شائد ابھی اس کا وقت نہیں تھا۔ سیاست میں یہ بات زیادہ اہم ہے کہ کب کون سی بات کرنی ہے۔ ہر وقت ہر بات نہیں کی جا سکتی۔ اِسی طرح فیصل آباد میں چودھری شیر علی نے جو پنڈورا بکس کھولنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں کوئی زیادہ جان نہیں لگ رہی۔ رانا ثناء اللہ کو اللہ تعالی نے کمال صلاحیت دی ہے کہ وہ بڑے بڑے طوفانوں سے بچ جاتے ہیں۔

دوسری طرف سندھ میں بھی وزراتوں کا رد و بدل ہو رہا ہے۔ عزیر بلوچ کے وفادار وزارت سے فارغ ہو گئے ہیں۔ شائد سندھ حکومت انہیں فارغ کرنے پر نہیں مان رہی تھی۔ اِسی لئے ویڈیو ٹیپ منظر عام پر آئی ۔ یہی تو فرق ہے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن)میں اس وقت وہ سو پیاز کھا کر مان رہے ہیں۔ یہ پہلے ہی مان جاتے ہیں، لیکن وزراء کی منڈی میں مندی اور تیزی کا عام آدمی کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ہمیں تو اس بات پر توجہ دینی چاہئے کہ عام آدمی کی فلاح پر کیا ہو رہا ہے۔ ہماری حکومتوں کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ ہر وقت بڑے کام کرنے کے چکر میں رہتی ہیں۔ جس میں بڑی واہ واہ ہو جائے۔ یہ چھوٹے کام اس لئے نہیں کرتیں کہ اس میں واہ واہ بھی چھوٹی ہوتی ہے۔ اس لئے ہر وقت میگا پراجیکٹس کا چکر رہتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حکمرانوں کی میگا پرجیکٹس میں زیادہ دلچسپی اس لئے بھی ہوتی ہے کہ میگا پراجیکٹس حکمرانوں کی خوشحالی کے لئے بھی دروازہ ہوتے ہیں۔

لیکن اس بار حکومت پنجاب نے ایک ایسا کام شروع کیا ہے۔ جس نے اس کے مخالفین کو بھی اس کی تعریف کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ کام ریسٹورنٹس پر چھاپوں کا سلسلہ تھا۔ یہ کام ایک خاتون افسر عائشہ ممتاز نے شروع کیا ہے۔ اس پر حکومت کی تعریف اس لئے ہو رہی ہے کہ یہ کام بلا امتیاز کیا گیا ہے۔ ہر ایک کو چیک کیا ہے۔ کسی سے رعائت نہیں برتی گئی۔ ویسے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ سب کو پہلے ہی معلوم تھا کہ یہ ریسٹورنٹس والے گند کھلا رہے ہیں۔ سڑکوں پر کھلے چھوٹے ریسٹورنٹس گندے ہیں۔ لیکن شائد یہ بات سوچ میں نہ تھی کہ انٹرنیشنل فوڈ چین۔ فائیو سٹار ہوٹلوں کے ریسٹورنٹس۔ مہنگے مہنگے ریسٹورنٹس بھی قوم کو لوٹ رہے ہیں ۔ اور گند بھی کھلا رہے ہیں۔ یہ بات تو فوڈ اتھارٹی کے چھاپوں سے ہی منظر عام پر آئی ہے کہ یہ اونچی دکانیں بھی عوام کو زہر ہی کھلا رہی تھیں۔ گلی سڑی سبزیاں۔ غیر معیاری تیل۔ باسی گوشت ۔ گندے فریزر ۔ دو نمبر مصا لحے استعمال ہو رہے تھے۔ بڑے بڑے ہوٹل سیل ہو گئے۔ جرمانے ہو گئے۔ اور شائد بند آنکھیں کھل گئیں۔ یہ ایک چھوٹا کام ہے۔ اس کی واہ واہ بھی محدود ہے۔ یہ کوئی میگا پراجیکٹ نہیں ہے۔

اسی طرح اب پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن نے ہستپالوں پر چھاپے مارنے شروع کئے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کے اپریشن تھیٹر سے تو گند اور انفیکشن ملا ہے۔ لیکن حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ بڑے بڑے پرائیوٹ ہسپتالوں کے اپریشن تھیٹر بھی گندے اور انفیکشن سے بھرے ملے ہیں۔ یہ مہنگے مہنگے بڑے بڑے پرائیوٹ ہسپتال جو ہزاروں نہیں لاکھوں روپے فیس وصو ل کرتے ہیں ۔ وہ بھی اپنے اپریشن تھیٹر انفیکشن سے پاک اور صاف نہیں رکھتے۔ مجھے ذاتی طور پر سروسز اور میو ہسپتال اور دیگر سرکاری ہسپتالوں کے اپریشن تھیٹر گندے ملنے پر کوئی حیرانی نہیں ہوئی۔ لیکن یہ بڑے بڑے پرائیوٹ ہسپتال جو بظاہر فائیوسٹار ہوٹلز کا ماحول پیش کرتے ہیں۔ ان کے تھیٹر بھی گندے اور انفیکشن سے بھرے ہوئے نکلے ہیں۔ یقیناًافسوس در افسوس کی بات ہے۔

لیکن اس ساری صورتحال سے میں خوش بھی ہوں۔ میرے دل کو تسکین بھی ہوئی ہے۔ مجھے تسلی بھی ہوئی ہے کہ یہ متھ ٹوٹ گئی کہ آپ پیسے سے سب کچھ خرید سکتے ہیں۔ اگر اس ملک کا غریب آدمی سرکاری ہسپتالوں کے گندے تھیٹرز میں اپنا علاج کروانے پر مجبور ہے تو امیر آدمی بھی لاکھوں رو پے دیکر بھی گندے تھیٹرز سے ہی علاج کروا رہا ہے۔ اگر غریب آدمی چھوٹے ہوٹلوں سے گند کھانے پر مجبور تھا۔ تو کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے ۔ امیر بھی ہزاروں روپے دیکر گند ہی کھا رہا ہے۔

یہ ہماری بحیثیت قوم پستی کی بھی عمدہ مثال ہے۔ ہم بحیثیت قوم اتنے گندے اور بے ایمان ہو چکے ہیں۔ اس میں وسائل کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ من چاہے پیسے وصول کر کے بھی گند اور کم سے کم پیسے وصول کر کے بھی گند۔ لہذا اس میں وسائل کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ یہ اخلاقی پستی ۔ اور بے ایمانی کی انتہا ہے۔ امیر و غریب سب ہی معاشرہ کے اجتماعی انحطاط کاشکار ہیں۔ لیکن ایک بات اور واضح ہوئی کہ یہ امیر لوگ حکمران ذرا سی چھوٹی سی بیماری کا علاج کروانے پاکستان سے باہر کیوں جاتے ہیں۔ کیونکہ ان حکمرانوں کو تو پتہ تھا کہ کیاگند ہو رہا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ میاں شہباز شریف کو دل کھول کر داد دینی چاہئے۔ کہ انہوں نے یہ چھوٹا کام شروع کیا ہے۔لیکن یہ ایک دو دن کا کام نہیں۔ میاں شہباز شریف نے ایک مافیا کو ہاتھ ڈ الا ہے۔ جس کی خواہش ہو گی کہ کسی نہ کسی طرح اب اس کام کو بند کروا دیا جائے۔ لیکن اس ملک کے عام آدمی کو جو نہ تو علاج کروانے کے لئے ملک سے باہر جا سکتا ہے۔ اور نہ ہی اچھا کھانا کھانے ملک سے باہر جا سکتا ہے۔ اسے چاہئے کہ فوری طور پر میاں شہباز شریف کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑا ہو جائے۔ تا کہ اگر مافیا ء میاں شہباز شریف کو اس مشن سے ہٹانے کی کوشش بھی کرے تو عام آدمی ان کو اس سے نہ ہٹنے دے۔ویسے تو ملک میں کوئی بھی مسئلہ ہو تو این جی اوز فورا شور مچانا شروع کر دیتی ہیں۔ لیکن اس مسئلہ پر این جی اوز کی خاموشی کو ان کی بے حسی کے سوا کچھ اور نہیں کہا جا سکتا۔ اس لئے سب کو چاہئے کہ میاں شہباز شریف کو داد دیں تا کہ انہیں احساس ہو کہ چھوٹے کام کر کے بھی داد ملتی ہے۔ اور داد لینے کے لئے بڑے کام کرنے ضروری نہیں۔

مزید : کالم