عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے تاریخی اقدامات کیے ،گورنرپنجاب

عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے تاریخی اقدامات کیے ،گورنرپنجاب

لاہور( نمائندہ خصوصی)گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے کہا کہ قوموں کی تاریخ میں چیلنجز آتے رہتے ہیں مگر بہادر اور غیور قومیں ان چیلنجز کو مواقع میں تبدیل کر کے تاریخ کا دھارہ بدلنا خوب جانتی ہیں ۔انہو ں نے کہا کہ ملک کی موجودہ قیادت نے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور ملکی اقتصادی حالت میں بہتری کے لیے تاریخی اقدامات کیے ہیں جن کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب پاکستان اقوام عالم میں ممتاز مقام حاصل کر لے گاان خیالات کا اظہار انہوں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے چھٹے کانوووکیشن سے خطاب کے دوران کیا تقریب میں سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال ، مشیر برائے صحت خواجہ سلمان رفیق ، چیئرمین ہائیر ایجوکیشن ڈاکٹر مختار احمد ، سابق وائس چانسلرز اور پرنسپلز کے علاوہ کنگ ایڈورڈیونیورسٹی کے سابق ممتاز طالب علموں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ گورنر پنجاب نے اس موقع پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء و طالبات میں ڈگریاں اور میڈلز تقسیم کیے۔دریں اثناء انہوں نے پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیرالدین میڈیکل کالج پروفیسر آف نیورو سرجری ڈاکٹر خالد محمود سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ عوام کو علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں جنرل ہسپتال کی کارکردگی لائق تحسین ہے۔ جبکہ ہسپتال کے شعبہ نیوروسرجری نے بلا شبہ جدید طریقہ علاج کے اسلوب متعارف کر واکے حکومت پنجاب کی نیک نامی اور عوام کے سرکاری شعبے میں موجود شفاخانوں پر اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔خودپروفیسر خالد محمود نے جس طرح ڈی بی ایس طریقہ علاج جنرل ہسپتال میں متعارف کرواکے سینکڑوں مریضوں کو بیرون ملک کے بھاری اخراجات اور تکلیف سے بچایا ہے اس پر ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ پرنسپل پی جی ایم آئی نے گورنر ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں گورنر پنجاب کو طبی شعبے میں ادارے کی خدمات خصوصاً ایل جی ایچ میں رعشہ، پٹھوں کے کھچاؤ اور پارکنسن کے جدید طریقہ علاج ڈی بی ایس کے بارے میں آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ بتایا کہ جنرل ہسپتال میں دس منزلہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جو اس خطے میں دماغی امراض کے علاج کا اپنی مثال آپ مرکز ہو گا۔ وزیراعلی محمد شہباز شریف اس منصوبے کے تمام مراحل کی خود مانیٹرنگ کررہے ہیں۔

مزید : صفحہ اول