ایم کیو ایم استعفے واپس لے ، کراچی آپریشن تحفظات پر بات ہو سکتی ہے ، فضل الرحمان

ایم کیو ایم استعفے واپس لے ، کراچی آپریشن تحفظات پر بات ہو سکتی ہے ، فضل ...

 اسلام آباد(آن لائن)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آئینی کمیٹی کا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ عسکری ونگز ختم کرکے قائد تحریک الطاف حسین کو آئینی اور قانونی اداروں کے احترام کی یقین دہانی کرائے تو کراچی آپریشن پر ان کے استعفیٰ واپس لینے کے بعد تحفظات پر بات کی جاسکتی ہے ۔گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کی آئینی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈووکیٹ کامران مرتضی نے اجلاس کو متحدہ قومی موومنٹ کے استعفوں سے متعلق آئینی حوالے سے بتایا اور کہا کہ اگر استعفیٰ کسی کے دباؤ کی صورت میں دیئے گئے ہیں تو پھر ان کو قبول نہ کیاجائے تو آئینی حرج نہیں ۔تاہم اس مسئلے کو آئین کی روح سے ہٹ کر سیاسی طور پر دیکھا جائے ۔بعد ازاں مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کے آئینی مشیر اشتر اوصاف سے بھی مشاورت کی اور تمام پہلوؤں پر غور کیا ۔ آن لائن کو ذرائع نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان سوموار سے متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان اسمبلی سے فرداً فرداً ملاقات کرینگے اور انہیں اعتماد میں لینے کی کوشش کی جائے گی اور انہیں یقین دہانی کرائی جائے گی کہ متحدہ اگر استعفی واپس لے تو پھر کراچی آپریشن میں متحدہ کے تحفظات پر غور کیاجاسکتا ہے مگر یہ بات بھی اٹل ہے کہ کراچی آپریشن بلاخوف و خطر جاری رہے گا بھتہ خور ٹارگٹ کلرز اور دیگر جرائم پیشہ افراد کیخلاف آپریشن کا ہونا ناگزیر ہے اور متحدہ ارکان سے یہ بات بھی کی جائے گی کہ اگر وہ اپنا عسکری ونگ ختم کرکے الطاف حسین کو آئینی اور قومی اداروں کیخلاف بیان بازی روکنے کی یقین دہانی کرائیں تو ان کے کراچی آپریشن سے متعلق مزید تحفظات پر بات کی جاسکتی ہے ۔ آن لائن کو ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ حکومت نے مولانا فضل الرحمان کو یہ بھی مینڈیٹ دیا ہے کہ متحدہ ارکان اگر الطاف حسین سے ملاقات کے حوالے سے کہیں تو مولانا فضل الرحمان لندن میں ان سے ملاقات کیلئے بھی جاسکتے ہیں ۔

مزید : صفحہ اول