پاکستان کرکٹ ٹیم کامیابی کے تسلسل کو دہراسکے گی۔۔۔ ؟

پاکستان کرکٹ ٹیم کامیابی کے تسلسل کو دہراسکے گی۔۔۔ ؟

پاکستان کرکٹ ٹیم آج کل دورہ زمبابوے کی تیاریوں میں مصروف ہے سری لنکا کے کامیاب دورہ کے بعد اب شائقین کی نظریں اس اہم دورہ پر مرکوز ہیں انگلینڈ کے خلاف یو اے ی میں کھیلی جانے والی سیریز سے قبل پاکستانی ٹیم کا دورہ زمبابوے بہت اہمیت کاحامل ہے اور امید کی جارہی ہے کہ جس طرح ٹیم نے حالیہ دورہ میں عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کیا ہے اسی طرح اس دورہ میں بھی تمام کھلاڑی محنت سے کھیل پیش کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرلیں گے اس دورہ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ پاکستان کے لئے غیرمعمولی دورہ نہیں ہے اس میں کامیابی سے پاکستانی ٹیم ون ڈے رینکنگ میں بھی اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم بنانے میں کامیاب ہوجائے گی جبکہ اس دورہ میں ٹیم کے کھلاڑیوں کو مزید زآگے بڑھنے کا بھی موقع ملے گا امید ہے کہ جس طرح شائقین کی امیدوں پر کھلاڑی اب تک اترنے میں کامیاب ہوئے اس اہم دورہ میں بھی اسی طرح اپنی کامیابیوں کے تسلسل کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے ٹیم نے اپنے اس دورہ میں ٹی ٹونٹی اور ون ڈے میچز کھیلنے ہیں اور اس حوالے سے ٹیم کے اس دورے کا باقاعدہ شیڈول بھی منظر عام آ گیا ہے ٹیم کا دورہ اگلے ماہ کے آخر میں شروع ہوگا۔پاکستان اور زمبابوے کرکٹ بورڈ کے درمیان دو ٹی ٹونٹی اور تین ون ڈے میچوں کی سیریز کا شیڈول طے پاگیا اور میچز کی حتمی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا ہے۔ قومی ٹیم سیریز کھیلنے کیلئے 22ستمبر کولاہور سے ہرارے روانہ ہو گی۔دونوں ممالک کے مابین طے شدہ شیڈول کے مطابق پہلا ٹی ٹونٹی میچ 27 ستمبرجبکہ دوسرا ٹی 20میچ 29 ستمبر کھیلا جائے گا۔ٹی ٹونٹی میچزکے اختتام پر ون ڈے سیریز کا آغاز یکم اکتوبر سے ہوگا اس سلسلہ کا دوسرا میچ تین جبکہ آخری اور تیسرا میچ پانچ اکتوبر کو کھیلا جائے گا، سیریزکے تمام میچز ہرارے سپورٹس کلب میں کھیلے جائیں گے۔زمبابوے سے سیریز کے اختتام پر قومی ٹیم وطن واپسی کے بجائے 7 اکتوبر کو متحدہ عرب امارات پہنچے گی جہاں انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز کا آغاز ہوگا۔واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے زمبابوے کی طرف سے بھیجے گئے شیڈول میں ردوبدل کرکے واپس زمبابوے کرکٹ بورڈ کو منظوری کیلئے بھیجا تھا۔زمبابوے کی طرف بھیجے گئے شیڈول کے مطابق ون ڈے سیریز پہلے کھیلی جانی تھی اور 27ستمبر کو پہلا ون ڈے شیڈول کیا گیا تھا تاہم پی سی بی نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کیلئے رینکنگ میں اپنی 8ویں پوزیشن برقرار رکھنے کی خاطر ون ڈے میچز 30ستمبر کے بعد کرانے کی درخواست کی تھی جسے زمبابو ے نے قبول کرتے ہوئے نئے شیڈول پرآمادگی ظاہر کردی۔ 30ستمبر کے رینکنگ تبدیل ہوجانے کی صورت میں بھی پاکستان کی چیمپئنز ٹرافی میں شرکت یقینی ہے ۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یار خا ن نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین سیریز کے انعقاد کے بارے میں بھارتی کرکٹ بورڈ پی سی بی سے کیئے گئے ایم او یو پر قائم ہے تاہم انہیں اپنی حکومت سے اجازت درکار ہے او ر ہم بی سی سی آئی کو بھارتی حکومت سے گرین سگنل ملنے کا انتظار کررہے ہیں۔ شہر یار خا ن نے بتایا کہ پاک بھارت سیریز کے لئے پاکستانی حکومت کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے لیکن نئی بھارتی حکومت کی طرف سے بھارتی کرکٹ بورڈ کو ابھی تک اجازت نہیں ملی ۔پاک بھارت سیریز کے انعقاد میں دو رکاوٹیں تھیں ایک تو براڈ کاسٹنگ کا مسئلہ تھا لیکن آئی سی سی کی طرف سے لیٹر لکھے جانے کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ اور ٹین سپورٹس کے مابین معاملات حل ہونے کے امکانات بڑھ گئے جس سے ایک رکاوٹ دور ہوجائے گی لیکن بھارتی کرکٹ بورڈ کے ساتھ جب سیریز کے انعقاد کے لئے ایم او یو پر دستخط ہوئے تھے تو اس وقت بھارت کی سابقہ حکومت تھی لیکن بھارتی کرکٹ بورڈ نے کہا تھا کہ ہم تو سیریز کھیلنے کے لئے تیار ہیں لیکن نئی بھارتی حکومت سے اجازت کی ضرورت ہے ۔لیکن بھارتی کرکٹ بورڈ کو ابھی تک اپنی حکومت سے سیریز کھیلنے کی اجازت نہیں ملی ۔ ماضی میں بھارتی کرکٹ بورڈ نے کہا تھا کہ وہ اگست کے آخری ہفتے میں پی سی بی کو سیریز کے بارے میں اگاہ کردیں گے ۔میں بھارتی کرکٹ بورڈ سے دوبارہ رابطہ کروں گا۔ ہمارے پاس بی پلان بھی موجود ہے جس کے بارے میں ابھی نہیں بتا سکتا ۔پی سی بی کے چیئرمین نے کہاکہ سیاست اور کرکٹ کو الک الگ ہونا چاہئے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وکٹ کیپر سرفراز احمد کو سری لنکا کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز میں ڈراپ کیئے جانے پر مجھے بھی حیرانی ہوئی تھی لیکن پھر پتہ چلا کہ سرفراز احمد کو کسی سازش کی بناء پر ٹیم سے باہر نہیں کیا گیا بلکہ ٹیم مینجمنٹ نیا کمبی نیشن آزما رہی تھی ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ یونس خان ایک بڑے کرکٹرہیں اور ہم نے انہیں کہا ہے کہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بارے میں وہ فیصلہ خود کریں گے ۔وہ کئی نوجوان کھلاڑیوں سے زیادہ فٹ ہیں ۔چیئرمین پی سی بی نے بتایا کہ باربار ڈوس میں آئی سی سی کے اجلاس میں نے پاکستان اور زمبابوے سیریز کے پاکستان میں کامیاب انعقاد کے بارے میں اگاہ کیا جس پر تمام ڈائریکٹرز نے پی سی بی کے اقدام کو سراہا ۔پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لئے بنائی گئی ٹاسک فورس کے چیئرمین جائز کلارک سے بھی بات ہوئی اور انہوں نے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ ٹیم لے کر آنے کی یقین دہانی کروائی ہے اور انہیں ہمارے گرین سگنل کا انتظار ہے ۔پی سی بی کے چیئرمین نے کہابتایا کہ ایسوسی ایٹ ممالک عمان، ہانک کانگ ،آئرلینڈ اور سکاٹ لینڈ کی ٹیمیں پاکستان میں آکر کھیلنے کے لئے تیار ہیں اور انہوں نے پی سی بی سے شیڈول کے بارے میں پوچھا ہے جبکہ آئرلینڈ کی ٹیم پاکستان کی اے ٹیم سے نہیں بلکہ قومی ٹیم سے کھیلنا چاہتی ہے ۔ہم ایسوسی ایٹ ممالک کی ٹیموں کی میزبانی کرنے کے لئے ایک دو ہفتے میں انہیں اگاہ کریں گے ۔شہر یار نے کہاکہ پہلے ایسوسی ایٹ ممالک کی ٹیمیں اور پھر دیگر ممالک کی قومی ٹیموں کو بلائیں گے ۔پی سی بی کے چیئرمین شہر یار خان نے بتایا کہ پاکستان سپر لیگ کا بیرون ملک کرانا ہماری مجبوری ہے ۔ڈویلئر ،مچل جونسن اور دیگر بڑے کھلاڑی پاکستان کھیلنے نہیں آئیں گے جس کی وجہ سے براڈ کاسٹ کو مالی مسئلہ کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ہم پہلے بیرون ملک پاکستان سپر لیگ منعقد کروائیں گے اور پھر اس کے بعد آہستہ آہستہ پاکستان میں اس کا انعقاد کروائیں گے ۔بیرون ملک سپر لیگ کے انعقا د سے ہمارے کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے سے تجربہ حاصل ہوگا ۔دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کے لئے وننگ بونس ختم کر کے سینٹرل کنٹریکٹ کی رقم دگنی کرنے کی پیش کش کردی ہے۔ اعلان آئندہ ہفتے میں ہوگا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اور کھلاڑیوں کے درمیان سینٹرل کنٹریکٹ پر بات چیت اگرچہ آخری مرحلے میں ہے لیکن اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ابھی طے نہیں پایا۔ کرکٹ بورڈ کھلاڑیوں کے وننگ بونس ختم کرنے کی ضد میں ہے لیکن بدلے میں جن مراعات کی پیشکش کی جا رہی ہیں وہ بھی آنکھیں کھول دینے کے لیئے کافی ہے۔ پی سی بی نے قومی کرکٹرز کی سینٹرل کنٹریکٹ کی رقم کو دوگنا کرنے کی تجویز دی ہے جس پر بیشتر کھلاڑی راضی بھی ہوچکے ہیں۔ سینٹرل کنٹریکٹ طے پا گیا تو اے کیٹگری کے کھلاڑی کو ماہانہ نو لاکھ روپے ، بی کیٹگری والے کو ساڑھے چھ ، سی کیٹگری کو ساڑھے تین اور ڈی کیٹگری میں شامل کرکٹرز کو دو لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ٹیسٹ ، ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میچ فیس میں بھی پچاس فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے سنچری سکور کرنے والے بلے باز اور پانچ وکٹیں لینے والے کھلاڑیوں کو اضافی رقم ملتی تھی جبکہ اپنے سے بہتر رینکنگ کی ٹیم کو ہرانے پر بھی ٹیم کو اضافی رقم دی جاتی ہے جو اب نہیں ملے گی لیکن چیئرمین پی سی بی کی صوبداید ہے کہ وہ اپنے طور پر انعام کا اعلان کر سکتے ہیں۔

***

مزید : ایڈیشن 1