پولیس مقابلہ جواز بنا کر ملزمان کی دہشتگردی ایکٹ کیخلاف ہائیکورٹ میں درخواست

پولیس مقابلہ جواز بنا کر ملزمان کی دہشتگردی ایکٹ کیخلاف ہائیکورٹ میں ...

 لاہور(نامہ نگار خصوصی )قصور میں بچوں سے بداخلاقی کے مقدمہ میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے اور ملزموں کے جسمانی ریمانڈ کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ۔اس سلسلے میں قصور واقعہ میں ملوث ملزم سلیم اختر شیرازی کی اہلیہ ثوبیہ نواب نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ قصور واقعہ میڈیا میں آنے کے بعد اس مقدمہ میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئیں ہیں اور اس مقدمہ کو عام عدالت سے انسداد دہشت گردی کی عدالت منتقل کردیا گیا۔درخواست میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ زیر نظر مقدمہ میں دہشت گردی کا کوئی عنصر شامل نہیں ہے اور نہ ہی یہ الزامات انسداد دہشت گردی کے قانون کے ذمرہ میں آتے ہیں جبکہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے درخواست گزار کے شوہر سمیت دیگر ملزمان کا 28دنوں کا جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے اور خدشہ ہے کہ ان ملزمان کو جعلی پولیس مقابلہ میں ماردیا جائے گا۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ مقدمہ میں انسداد دہشت گردی قانون کی دفعات کو خارج کیا جائے اور ملزموں کے 28دنوں کا ریمانڈ کالعدم قرار دیا جائے،درِخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی کہ درخواست گزار کے شوہر دیگر ملزمان کی جان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

مزید : صفحہ آخر