’’وولف آف وال سٹریٹ‘‘جس سرمایہ کار کی زندگی پر بنائی گئی، وہ کنگال ہوگیا

’’وولف آف وال سٹریٹ‘‘جس سرمایہ کار کی زندگی پر بنائی گئی، وہ کنگال ہوگیا
 ’’وولف آف وال سٹریٹ‘‘جس سرمایہ کار کی زندگی پر بنائی گئی، وہ کنگال ہوگیا

  

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) مال و دولت ہاتھ سے نکلتے دیر نہیں لگتی اور ایساہی ایک امریکی سرمایہ کار کیساتھ ہوا جو امریکی سٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ سرمایہ کاری کرنے کا اعزا زاپنے نام کرنے کے بعد لکھ پتی سے ککھ پتی بن چکاہے اور اب نیویارک کی سڑکوں پر بے سروساماں پڑادکھائی دیتاہے اور فٹ پاتھ پر سونے پر مجبور ہے۔اپنے دور کے کامیاب سرمایہ کار اورسٹاک بروکر ولیم پرسٹن کنگ چند سال پہلے تک امریکی اسٹاک مارکیٹ میں اپنے دوست گورڈن بلفورٹ کے ساتھ کروڑوں ڈالر کے شیئر ہولڈر تھے اور ان کی یادداشتوں پر مبنی فلم ’دی وولف آف وال سٹریٹ‘ بنائی گئی ، 1980ء4 کی دہائی میں ولیم پرسٹن کنگ کی بطور سرمایہ کار اور مالدار شخصیت کا طوطی بولتا تھالیکن آج وہی ولیم پرسٹن نیویارک کی سڑکوں پر پبلک مقامات، بلند و بالا عمارتوں کے تھڑوں اور پارکوں کے بنچوں پر زندگی کے دن گذارنے پر مجبور ہے۔العربیہ کے مطابق ماضی میں ولیم پرسٹن کنگ نیویارک کے پوش علاقے مین ہٹن میں ایک عالی شان محل کے مالک تھے، بنکوں اور اسٹاک مارکیٹ میں اس کے پیسے کی ریل پیل تھی اور وہ خود BMW جیسی لگڑری اور دنیا کی مہنگی کاروں میں سفر کیا کرتا تھاتاہم فٹ پاتھوں اور پارکوں میں ایک آوارہ شخص کی طرح سونے والے اس سابقہ دولت مند کے بارے میں امریکیوں کو کم ہی خبر ہوتی ہے کہ موصوف کون ہیں کیونکہ وہ پچھلے ایک سال سے اپنے خاندان کو بھی خیرباد کہہ کر روپوشی کی زندگی اختیار کر چکا ہے۔امریکی اخبارنیویارک پوسٹ نے 'لکھ پتی سے ککھ پتی' بننے والے امریکی بیوپاری کے اہل خانہ سے بھی رابطے کی کوشش کی اور معلوم ہوا کہ ولیم پرسٹن کنگ کا زوال اس وقت شروع ہوا جب اس نے بے دریغ پیسہ فضول خرچ کرنا شروع کیا اور ساتھ ہی قسمت کی دیوی اس پر ناراض ہوئی اور اس وہ سٹاک مارکیٹ میں مسلسل گھاٹے کے سودے کرنے لگا۔ جب اسے پے درپے کئی مواقع پر غیر معمولی نقصان اٹھانا پڑا تو اس نے منشیات کا استعمال شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ اس کا تمام سرمایہ ڈوب گیا اور وہ کنگال ہو گیا۔ آج وہ فٹ پاتھوں پر دن رات بسر کرنے اور لوگوں کے سامنے ایک ایک لقمے کے لیے دست سوال دراز کرنے پر مجبور ہے۔اس کنگال سرمایہ کار کی بہن نے بتایاکہ میرا بھائی جو چاہتا خرید سکتا تھا لیکن آج اس کے پاس کچھ بھی نہیں بچا، پچھلے سال جنوری میں اس نے اپنے خاندان کی کفالت سے انکار کر دیا اور گھر سے نکل گیا، اس نے میری بھی کچھ رقم چوری کی اور غائب ہو گیا۔

مزید : صفحہ آخر