آدمی نے اپنے ہاتھ پر کان ’اْگا‘ لیا، وجہ ایسی زبردست آپ بھی خواہش کریں گے

آدمی نے اپنے ہاتھ پر کان ’اْگا‘ لیا، وجہ ایسی زبردست آپ بھی خواہش کریں گے
 آدمی نے اپنے ہاتھ پر کان ’اْگا‘ لیا، وجہ ایسی زبردست آپ بھی خواہش کریں گے

  

میلبرن(مانیٹرنگ ڈیسک) مجبوری کے تحت مصنوعی جسمانی اعضا تو لگواتے تو آپ نے بہت سوں کو دیکھا ہو گا لیکن آسٹریلوی یونیورسٹی کرٹن کے ایک پروفیسر نے سائنسی تجربات کے شوق میں اپنے بازو پر نیا کان اگوا لیا ہے اور اب اس کان کو انٹرنیٹ سے منسلک کرکے اس کے ذریعے دنیا والوں سے رابطہ قائم کرنا چاہتا ہے۔پرتھ سے تعلق رکھنے والے پرفیسر سٹرلک کا منصوبہ یہ ہے کہ وہ اس کان کو انٹرنیٹ سے منسلک کرے تاکہ دور دراز موجود افراد اس کان میں جانے والی آوازوں کو سن سکیں اور اس کے ذریعے وہ خود بھی دوسری جگہ موجود لوگوں کی باتیں سن سکیں۔ پروفیسر سٹرلک اس انوکھے خیال کے ساتھ پہلی بار 1996ء میں منظر عام پر آئے تھے۔ ایسے ماہرین اکٹھے کرنے میں انہیں تقریباً دس سال لگ گئے جو کہ ان کے اس خیال کو عملی جامہ پہنانے پر راضی ہوئے۔ اب جبکہ ان کے بازو پر کان تقریباً اگ چکا ہے تو وہ اسے انٹرنیٹ سے جوڑنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔فی الحال یہ کان بازو میں کان کی شکل میں ابھری ہوئی موٹی موٹی نسوں کی مانند معلوم ہوتا ہے تاہم اسے سہہ جہتی بنانے کے لیے مزید اٹھایا جائے گا جس کے بعد اس کان کی باقاعدہ لو بنائی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے پروفیسر کے اپنے خلیے استعمال میں لائے جائیں گے۔ کان کی لو مکمل ہونے اور کان کو حتمی حد تک ابھارنے کے بعد اس میں ایک مائیکروفون نصب کیا جائے گا جو کہ وائرلیس انٹرنیٹ سے جڑا ہوگا۔ اس سے قبل بھی یہ مائیکروفون جوڑا گیا تھا تاہم انفکشن کی وجہ سے اسے نکالنا پڑا۔اپنے اس منصوبے کے متعلق پروفیسر سٹرلک کا کہنا ہے کہ ’’یہ کان میرے لیے نہیں ہے،میرے پاس دو کان پہلے سے موجود ہیں جومیرے سننے کے لیے کافی ہیں تاہم یہ کان دور دراز مقامات پر موجود افراد کے لیے سننے والی ڈیوائس کے طور پر کام کرے گا۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی کنسرٹ میں جائیں گے تو انٹرنیٹ کے ذریعے اس کان سے جڑے دیگر افراد کنسرٹ کو دور کہیں بیٹھ کے سن سکیں گے، اسی طرح اگر آپ کسی بھی شخص سے ہونے والی اپنی گفتگو کو کسی دوسرے شخص کو سنوانا چاہیں گے تو بھی یہی کان کام آئے گا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس کان میں بند کرنے اور چلانے کا کوئی بٹن نہیں، اس لئے اس میں داخل ہونے والی آوازیں ہر وقت سنی جاسکیں گی۔ یہ کان صرف اسی وقت ہی آوازیں نشر کرنا بند کرے گا جب انٹرنیٹ کنکشن منقطع ہوگا۔

مزید : صفحہ آخر