وزیرداخلہ پنجاب شجاع خانزادہ پر حملے کی ممکنہ وجوہات سامنے آگئیں

وزیرداخلہ پنجاب شجاع خانزادہ پر حملے کی ممکنہ وجوہات سامنے آگئیں
وزیرداخلہ پنجاب شجاع خانزادہ پر حملے کی ممکنہ وجوہات سامنے آگئیں

  

اٹک (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیرداخلہ پنجاب شجاع خانزادہ کے ڈیرے پرقاتلانہ حملے کی ممکنہ وجوہات سامنے آگئی ہیں اور اس ضمن میں دومختلف اداروں نے وزیراعلیٰ پنجاب کو ابتدائی رپورٹس پیش کردی ہیں جس کے مطابق حملہ پنجاب میں ہونیوالے بڑے آپریشن کا نتیجہ ہوسکتاہے ۔

ایکسپریس ٹربیون کے مطابق قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کی طرف سے وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کی گئی ابتدائی رپورٹ میں کہاکہ حملہ کالعدم لشکرجھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق کی ہلاکت کا ردعمل ہوسکتاہے ۔رپورٹ کے مطابق وزیرداخلہ پر حملہ گزشتہ ماہ پنجاب میں سینئر القاعدہ کمانڈر کی ہلاکت اور ملک اسحاق کی ہلاکت کا ہی جوابی حملہ ہے ۔

ذرائع کاکہناتھاکہ حملہ آور خیبرپختونخواہ سے آیاتھا جبکہ اٹک پنجاب اور خیبرپختونخواہ کی سرحد پر واقع ہے ، شہبازشریف کو بریفنگ دی گئی کہ پولیس کالج سہالہ اگلاہدف ہوسکتاہے جبکہ لشکر جھنگوی کی طرف سے پنجاب بالخصوص راولپنڈی سے سینئر پولیس حکام کو بھی اغواء کیاجاسکتاہے ۔

یادرہے کہ 29جولائی کو مبینہ پولیس مقابلے میں دوبیٹو ں اور ساتھیوں سمیت ملک اسحاق ماراگیاتھااور ان کی ہلاکت کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیرداخلہ کی سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی تھی ۔ اس سے قبل القاعدہ سے وابستہ دہشتگردوں کے شاہدرہ میں واقع ٹھکانے پر بھی پولیس نے چھاپہ ماراگیا جس دوران وہاں موجود افراد مارے گئے تھے ۔

مزید : اٹک