کشمیراور بھارت کے بارے میں حمید گل کے غیرمتزلزل موقف نے ان کی وفات پر ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر جگہ بنالی

کشمیراور بھارت کے بارے میں حمید گل کے غیرمتزلزل موقف نے ان کی وفات پر ایک ...
کشمیراور بھارت کے بارے میں حمید گل کے غیرمتزلزل موقف نے ان کی وفات پر ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر جگہ بنالی

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گل انتقال کرگئے ہیں لیکن کشمیر اور بھارتی مداخلت کے بارے میں اُن کا غیر متزلزل موقف آج بھی بہت مقبول ہے ، حمید گل کاکہناتھاکہ ’کسی کا باپ بھی مسئلہ کشمیر کو دفن نہیں کرسکتا، اگر کوئی کشمیر کے دفن ہونے کی بات کراہے تو وہ جھوٹ بولتاہے ، کشمیریوں نے آج بھی پاکستان کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں اور سکھ تحریک بھی چل رہی ہے ۔

اپنے ایک انٹرویو میں حمید گل مرحوم نے کہاتھاکہ سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے ممنون حسین کو بلوچستان میں مداخلت کے بہت واضح ثبوت دیئے تھے ، کور کمانڈر نے جان کیری کو دیئے لیکن اوفامیں ہونیوالی مودی سے ملاقات میں وزیراعظم خاموش رہے لیکن ممبئی حملوں پر بات ہوئی ، سمجھوتہ ایکسپریس اور سربجیت سنگھ سمیت تمام چیزیں گئیں جس کی لاش کو بھارت نے سلامی دی تھی ، نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف اپنی سازشوں کا بھی اعتراف کرلیاتھا جس پر پاکستانی حکام کو چاہیے تھا کہ معاملہ اقوام متحدہ میں لے کرجائیں جہاں دیگر باتیں بھی کھلتیں ،اب سوچ رہے ہیں لیکن وہیں کہناتھاکہ آپ کا شکریہ لیکن ہم آپ کیساتھ بات نہیں کرناچاہتے ، اقوام متحدہ میں معاملہ جاتاتو پھر کشمیر بھی زیربحث آتا کیونکہ بنیادی مسئلہ تو کشمیر ہی ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں حمید گل نے کہاتھاکہ کسی کا باپ بھی مسئلہ کشمیر دفن نہیں کرسکتا، ایسا کہنے والے غلط ہیں اوران کے دل میں چور ہے ، کینیڈا میں ڈیڑھ لاکھ سکھ سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور دنیا بھر میں سکھ کمیونٹی پھیلی ہوئی ہے ، خالصتان تحریک دوبارہ سراٹھارہی ہے ، وہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں ، بھارت اس وقت تاریخ کے غلط وقت پر جاکھڑا ہوا ہے ، نوازشریف دوقومی نظریہ ہی دفن کرنے پر تلے تھے کہ چلوآگے بڑھو اور امن دوستی کا مینڈیٹ ملا ہے لیکن مودی اللہ کی طرف سے پاکستان کیلئے تحفہ ثابت ہوا، اسے سبزرومال میں لپٹاایک خنجربھی ساتھ میں بھیج دیناچاہیے ۔

طالبان قیادت سے متعلق گفتگومیں حمید گل کاکہناتھاکہ اپریل 2013ء میں ملاعمر فوت ہوچکاہے لیکن یہ کمال ہے کہ وہ چلاتے رہے اور ملین ڈالرز خرچ کرنیوالی پوری دنیا کی انٹیلی جنس ایجنسیز کو خبر تک نہ ہوئی ، ملاعمر دنیا سے چلے گئے لیکن ایسے انسان مرا نہیں کرتے کیونکہ وہ تاریخ میں رہیں گے ، بش ، ٹونی بلیئر اور مشرف جیسے نام مٹ جائیں گے لیکن ملاعمر کا نام موجود رہے گا، کئی مرتبہ کہاتھاکہ طالبان کو زبردستی کٹھ پتلیوں کیساتھ مت بٹھانا ، اس کے نتیجے میں تحریک ٹوٹ جائے گی اور داعش کو موقع مل جائے گا ، افغان زندہ قوم ہیں اور وہ محکوم نہیں رہے ہیں ، علماء کی کونسل بنی ہوئی ہے اور وہ لڑائی میں اپنی جان دے دیتے ہیں ، افغانستان میں حملے تیز ہوگئے ہیں اور ثابت کیاہے کہ افغانستان کے اندر داعش نہیں آسکتی ،افغان طالبان کی مضبوطی تک داعش کی گنجائش نہیں لیکن جس دن طالبان کمزور ہوئے تو داعش آئے گی اور پھر پاکستان کا رخ کرے گی ، اس کے بعد کا تصور ہی نہیں کیاجاسکتا، ان کے نعرے پر لوگ ایک طرف سمٹتے چلے جائیں گے ۔

Gen. Hameed Gul (Late) Last Words about Kashmir by mrshaikh4

مزید : لاہور