سرکاری سکولوں میں طلباءکی جعلی انرولمنٹ رپورٹس کی تیاری، وزیراعلیٰ شہباز شریف نے نوٹس لے لیا

سرکاری سکولوں میں طلباءکی جعلی انرولمنٹ رپورٹس کی تیاری، وزیراعلیٰ شہباز ...
سرکاری سکولوں میں طلباءکی جعلی انرولمنٹ رپورٹس کی تیاری، وزیراعلیٰ شہباز شریف نے نوٹس لے لیا

  

لاہور( لیاقت کھرل) وزیر اعلیٰ پنجاب نے تعلیمی اداروں میں انرولمنٹ میں نااہلی اور بالخصوص نویں اور دسویں کلاسوں سے طلباءو طالبات کے ڈراپ آﺅٹ ہونے کا سخت نوٹس لے لیا ہے اور گزشتہ 8 سالوں میں تعلیمی اداروں میں ہونے والی انٹرولمنٹ اور نویں و دسویں جماعت سے طلباءکا ڈراپ آﺅٹ ڈیٹا طلب کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کو رپورٹ پیش کی گئی ہے کہ لاہور سمیت پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں سالانہ ہونےوالی انرولمنٹ میں بڑے پیمانے پر فرضی رپورٹس تیار کی گئی ہیں جس میں تعلیمی اداروں کے سربراہوں ، ہیڈمسٹرز اور ہیڈ مسٹریس نے محکمہ تعلیم کے ضلعی و تحصیل سربراہوں ای ڈی اوز ، ڈی ای اوز اور ڈپٹی ڈی اوز سے مبینہ طور پر ساز باز کر کے انٹرولمنٹ کی جعلی رپورٹس تیار کی ہیں جبکہ میٹرک کے سالانہ رزلٹ میں سکولوں کی کمزور پوزیشن آنے کے خدشہ سے نویں اور دسویں جماعتوں سے طلبہ کو کلاسوں سے زبردستی ڈراپ کیا جاتا ہے اور طلباءو طالبات کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ذریعے یا اپنے طور پر پرائیویٹ میٹرک کے داخلے بھجوانے کا مشورہ دیاجاتا ہے جس سے تعلیمی اداروں میں سالانہ ہونے والی انرولمنٹ کے ناکام ہونے کیساتھ ساتھ سرکاری تعلیمی اداروں سے طلباءو طالبات اور ان کے والدین کا اعتماد ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور کے 1265 کے قریب تعلیمی اداروں سمیت پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں پہلی اور چھٹی کلاسوں میں انٹرولمنٹ کی جاتی ہے اور 5 ویں اور 8 ویں کلاس سمیت نویں اور دسویں جماعتوں سے طلبہ کو ڈراپ کر دیا جاتا ہے۔

اس میں سب سے زیادہ لاہور کے تعلیمی اداروں میں گھپلا کیا جا رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے پانچویں اور آٹھویں جماعتوں کے بعد اب نویں اور دسویں کلاسوں کا گزشتہ 8 سالوں کا ڈراپ آﺅٹ ڈیٹا طلب کر لیا ہے۔ جس کے لئے سیکرٹری تعلیم عبدالجبار شاہین کی نگرانی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس کے بعد سکولوں کے ہیڈ ماسٹروں ، ڈپٹی ہیڈ ماسٹروں سمیت اساتذہ کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کر دیا جائے گا، جس میں پہلے مرحلہ میں لاہور کے تعلیمی اداروں کے سربراہوں اور اساتذہ جبکہ دوسرے مرحلہ میں فیصل آباد ڈویژن اور تیسرے مرحلہ میں گوجرانوالہ ڈویژن کے اساتذہ اور سکولوں کے سربراہوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا، جس میں پیڈا ایکٹ کے تحت اساتذہ کی تنخواہوں کی قرقی، معطلی اور نوکریوں سے برخاستگی جیسی سزائیں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے سیکرٹری تعلیم عبدالجبار شاہین کا کہنا ہے کہ اس سلسلہ میں قائم کردہ خصوصی کمیٹی کی رپورٹ آنے پر کریک ڈاﺅن شروع کر دیا جائے گا جس میں کسی قسم کی رعایت یا سفارش کو خاطر میں نہیں لیا جائے گا۔ دوسری جانب پیڈا ایکٹ کے تحت ممکنہ کارروائی پر اساتذہ میں خوف و ہراس پھیل کر رہ گیا ہے اور اساتذہ کی تنظیموں نے ہنگامی اجلاس طلب کر لئے ہیں۔

مزید : لاہور