’اگر تاوان ادا نہ کیا تو ان خواتین کو جنسی غلام بنالیں گے‘

’اگر تاوان ادا نہ کیا تو ان خواتین کو جنسی غلام بنالیں گے‘
’اگر تاوان ادا نہ کیا تو ان خواتین کو جنسی غلام بنالیں گے‘

  

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) شام میں برسرپیکار شدت پسند تنظیم داعش کی طرف اغواء کی گئی عیسائی خواتین کی تصاویر پوسٹ کی گئی ہیں جنہوں نے ہاتھ میں کاغذ اٹھا رکھے ہیں جن پر ان کے نام اور ایک تاریخ لکھی ہوئی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ ان 220خواتین میں سے ہیں جنہیں رواں سال فروری میں اغواء کیا گیا تھا۔ داعش کی طرف سے ان عیسائی خواتین کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر ان کے خاندانوں نے تاوان کی رقم ادا نہ کی تو انہیں جنسی غلام(باندیاں) بنا لیا جائے گا اور داعش کے شدت پسندوں کو فروخت کردیا جائے گا۔

گزشتہ منگل کے روز داعش نے عراق کے شمال مشرق صوبے ہساکہ سے اغواء کی گئی 220خواتین میں سے 22کو رہا کر دیا تھا۔تاہم تازہ تصاویر کے حوالے سے سویڈن کی ایک عیسائی تنظیم کا کہنا ہے کہ ان خواتین کے ہاتھوں میں موجود کاغذ پر لکھے ان کے ناموں سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ان عیسائی خاندانوں کی خواتین ہیں جو عراق کے اس علاقے میں رہتے ہیں۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ ان خواتین کے بدلے تاوان کی ادائیگی کی جا سکتی ہے لیکن پہلے ان کی تصدیق ہونی چاہیے۔

ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان خواتین کے ساتھ کئی بچے بھی موجود ہیں۔ ایک خاتون اپنی 5سے 6سالہ بیٹی کے ہمراہ کھڑی ہے جس کے ہاتھ میں موجود کاغذ پر اس کا نام ثناء الیاس اور نیچے 27جولائی 2015ء کی تاریخ درج ہے۔ایک اور خاتون کی تصویر میں تین بچے موجود ہیں جس کے متعلق خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ اسی کی اولاد ہیں جبکہ تیسری تصویر میں ایک خاتون اکیلی موجود ہے جس کا نام حینا اساف یوسف ہے۔ ان خواتین کے ناموں کے ساتھ جو فیملی نام موجود ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عراق کے سرحدی قصبے تل جزیرہ یا اس کے گردونواح سے تعلق رکھتی ہیں کیونکہ یہ فیملیز اسی جگہ کی رہائشی ہیں۔

واضح رہے کہ جس روز داعش کی طرف سے ان خواتین کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں اسی روز انہوں نے چند مغوی افراد کی ویڈیو بھی جاری کی تھی جس میں وہ مغوی اپنا اور اپنے گاؤں کا نام بتاتے ہیں۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے کلک کریں

آئی فون ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے کلک کریں

مزید : بین الاقوامی