اولمپکس میں شامل کھلاڑیوں کے ساتھ انتظامیہ کا ایسا سلوک کہ کھلاڑی رونے لگے

اولمپکس میں شامل کھلاڑیوں کے ساتھ انتظامیہ کا ایسا سلوک کہ کھلاڑی رونے لگے
اولمپکس میں شامل کھلاڑیوں کے ساتھ انتظامیہ کا ایسا سلوک کہ کھلاڑی رونے لگے

  

ریو ڈی جنیرو(مانیٹرنگ ڈیسک) برازیل میں جاری ریو اولمپکس مقابلوں کے لیے جو اولمپکس ویلیج تیار کیا گیا اس میں سب سے زیادہ شہرت اس کے ڈائننگ ہال کو ملی تھی جس کا سائز فٹ بال کے دو بڑے میدانوں کے برابر ہے۔ بتایا گیا تھا کہ اس ہال میں 18ہزار سے زائد ایتھلیٹس اور کوچز کے لیے انواع و اقسام کے کھانے تیار کیے جائیں گے جو انہیں مفت فراہم ہوں گے۔ بتایا گیا تھا کہ ان کھانوں میں اڑھائی لاکھ کلوگرام اجناس، گوشت اور سبزیاں استعمال ہوں گی اور کھلاڑیوں کو 400سے زائد اقسام کے پھل فراہم کیے جائیں گے مگر اب صورتحال اس سے برعکس ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اولمپکس ویلیج کے اس ڈائننگ ہال میں کھانے کا معیار ٹھیک نہ ہونے اور رش کے باعث کھلاڑی خوار ہو رہے ہیں اور انہیں کھانے کے لیے کئی کئی گھنٹے قطار میں لگنا پڑ رہا ہے۔

ریو ڈی جنیروکے اس اولمپکس ویلیج میں صرف ایک بین الاقوامی فوڈ چین نے اپنی برانچ کھولی اور وہ میکڈانلڈز ہے۔ میکڈانلڈز کی یہ برانچ بھی کھلاڑیوں اور ان کے کوچز کو مفت کھانا فراہم کر رہی ہے مگر یہاں بھی صورتحال ویسی ہی ہے۔ انہیں کھانے کے حصول کے لیے کئی گھنٹے تک طویل قطار میں کھڑے ہونا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق31سالہ امریکہ کی خاتون رگبی پلیئر جیسیکا جیویلیٹ کا کہنا تھا کہ ”ہم ڈائننگ ہال میں کھانا کھانے جاتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ لوگ وہاں ہمارے اردگرد والی بال کھیل رہے ہیں۔ یہاں ہم کھلاڑیوں کے حالات انتہائی قابل رحم ہو چکے ہیں۔ بارش میں بھی ہمیں میکڈانلڈز کے باہر قطار میں کھڑے ہونا پڑرہا ہے۔برازیل میں ہونے والے یہ اولمپکس مقابلے میری زندگی کا تلخ ترین تجربہ ہیں۔“

مزید : کھیل