’انسان کی موت کے بعد اس کے دل کی دھڑکن بند ہوجاتی ہے لیکن یہ اہم ترین عضو کام کرتا رہتا ہے‘ جدید تحقیق میں سائنسدانوں کی تاریخی دریافت، خدا پر یقین نہ رکھنے والے بھی موت کے بعد زندگی کا اقرار کرنے پر مجبور ہوگئے

’انسان کی موت کے بعد اس کے دل کی دھڑکن بند ہوجاتی ہے لیکن یہ اہم ترین عضو کام ...
’انسان کی موت کے بعد اس کے دل کی دھڑکن بند ہوجاتی ہے لیکن یہ اہم ترین عضو کام کرتا رہتا ہے‘ جدید تحقیق میں سائنسدانوں کی تاریخی دریافت، خدا پر یقین نہ رکھنے والے بھی موت کے بعد زندگی کا اقرار کرنے پر مجبور ہوگئے

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) موت کے بعد انسانی جسم کی حالت کے متعلق سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق میں ایسا انکشاف ہوا ہے کہ خدا اور قیامت کے دن پر یقین نہ رکھنے والے بھی موت کے بعد زندگی کا اقرار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل ہم یہ جانتے تھے کہ موت کے بعد جب دل جسم کو خون کی فراہمی روک دیتا ہے تو اس کے 30سیکنڈ بعد دماغ بھی کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور یوں سب کچھ ختم ہو جاتا ہے، لیکن اس نئی تحقیق نے یہ تاثر غلط ثابت کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ انسان کا دماغ موت کے بعد بھی کام کرنا جاری رکھتا ہے اور اس میں اسی طرح خیالات آتے رہتے ہیں جیسے زندگی میں آتے تھے، جس سے انسان موت کے بعد بھی آگہی کی اسی سطح پر رہتا ہے جیسے زندگی میں تھا۔

’میں ذیابیطس کا 5منٹ میں علاج کرسکتاہوں ‘ماہر ڈاکٹر نے ایسا اعلان کر دیا کہ جان کر دنیا حیرت میں ڈوب گئی

رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف ساﺅتھ ہیمپٹن کے سائنسدانوں نے یہ تحقیق ان 2ہزار افراد پر کی ہے جنہیں دل کے شدید دورے پڑ چکے تھے اور وہ کچھ دیر بے ہوشی کے بعد واپس زندگی کی طرف آ گئے۔ ان پر تجربات اور سوال و جواب کے بعد سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے کہ جب کسی انسان کو طبی طور پر مردہ قرار دے دیا جاتا ہے اس کے بعد 3منٹ سے زیادہ وقت تک اس کا دماغ کام کرتا رہتا ہے اور وہ اپنے ماحول سے آگاہ ہوتا ہے۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر سام پرنیا کا کہنا تھا کہ ”انسان کی موت کسی ایک مخصوص لمحے میں نہیں ہوتی بلکہ یہ بتدریج وقوع پذیر ہوتی ہے اور شاید اسے واپس موڑا جا سکتا ہے۔ موت کئی طرح کی بیماریوں اور حادثات کے بعد رونما ہوتی ہے جو دل، پھیپھڑوں، دماغ و دیگر اعضاءاور ان کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں۔ہم اس پراسیس کو واپس موڑنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب اس میں ناکام ہو جاتے ہیں تو اسے موت کہہ دیا جاتا ہے۔“

مزید : تعلیم و صحت