کتنے عرصے میں عرب دنیا رہنے کے قابل نہیں رہے گی اور لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑے گی؟ سائنسدانوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی، انتہائی تشویشناک پیشنگوئی کردی

کتنے عرصے میں عرب دنیا رہنے کے قابل نہیں رہے گی اور لوگوں کو نقل مکانی کرنی ...
کتنے عرصے میں عرب دنیا رہنے کے قابل نہیں رہے گی اور لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑے گی؟ سائنسدانوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی، انتہائی تشویشناک پیشنگوئی کردی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ابوظہبی (مانیٹرنگ ڈیسک)رواں سال موسم گرما میں مشرق وسطیٰ کے بعض علاقوں کا درجہ حرارت 60ڈگری سیلسئیس تک پہنچ گیا، جس کی مثال اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہ آئی تھی، مگر مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آنیوالے سالوں میں یہ موسمی شدت اور بڑھے گی جس کے نتیجہ میں بالآخر کویت ، عراق ،ایران اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی عرب ممالک میں انسانوں کا رہنا ممکن نہ رہے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2070 تک اس خطے میں درجہ حرارت اس قدر بڑھ چکا ہو گا کہ اس کے اکثر حصوں میں انسانوں کی زندگی تقریباً نا ممکن ہو جائے گی۔

’’میری بیوی کو فوراً گرفتار کر لو ورنہ بہت پچھتاو گے کیونکہ۔۔‘‘ سعودی شہری نے پولیس کو فون کر کے ایسی بات کہہ دی کہ افراتفری مچ گئی،پوری فورس اس کی بیگم کی تلاش میں لگ گئی

اخبار ڈیلی سٹار کے مطابق سائنسدان پروفیسر الفتح الطاہر اور ان کے ساتھیوں کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ تشویشناک انکشاف کیا گیا ہے کہ مشرق وسطٰی میں گرمی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور محض چند دہائیوں کی بات ہے کہ شدید درجہ حرارت کی وجہ سے انسانوں کو یہاں سے نقل مکانی کرنا پڑے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گلوبل وارمنگ پر قابو پانے کیلئے عالمی سطح پر سنجیدہ کوششیں نہ کی گئی تو مزید پچاس سال تک صورتحال یہ ہو گی کہ عرب ممالک کے علاوہ دیگر خطوں میں بھی انسان ناقابل برداشت گرمی کی وجہ سے اپنے علاقوں کو چھوڑ کر نسبتاً کم درجہ حرارت والے مقامات کی طرف ہجر ت پر مجبور ہو جائیں گے ، جس کے نتیجے میں وسائل کی کمی، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی اور قحط سالی جیسے خوفناک مسائل پیدا ہوں گے۔

مزید : عرب دنیا