وزیراعظم پاکستان عوامی بہبود کے لئے سرگرم

وزیراعظم پاکستان عوامی بہبود کے لئے سرگرم
 وزیراعظم پاکستان عوامی بہبود کے لئے سرگرم

  

پاکستان کی معیشت میں مثبت پیش رفت کا اعتراف کئی بین الاقوامی اداروں اور جریدوں نے کیا ہے ۔ گزشتہ چند سال قبل ہماری معیشت کی صور تحال دگرگوں تھی ،لیکن موجودہ حکومت کی مثبت پالیسیوں کے نتیجے میں اس شعبے میں قابل ستائش تبدیلی رونما ہوئی ہے ۔ گزشتہ روز پاکستانی اسٹاک ایکسچینج کے بڑھتے ہوئے ریکارڈ کے پیش نظر بلوم برگ نے پاکستان کو ایشیاء کا ٹائیگر قرار دیا ۔ اس کے علاوہ کئی سالوں کے بعد پاکستان کو ایک مرتبہ پھر اُبھرتی ہوئی معیشتوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے ۔ حال ہی میں ایک اور خوشخبری پاکستانی قوم کو ملی وہ یہ کہ اس سال ستمبر میں پاکستان آئی ایم ایف کے لئے ہوئے قرضے کی آخری قسط ادا کرے گا اور آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے نر غے سے باہر آنے کے قابل ہو سکے گا ۔ اس کے علاوہ سکیورٹی معاملات میں بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی پر خاصی حد تک قابو پا یا جا چکا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ خارجہ پالیسی ، قومی مسائل اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لئے بھی خاصا کام کیا گیا ہے ۔ یہ سب کچھ ایک مدّبرانہ قیادت کا ثمر ہے ۔ 31 مئی 2016 کو لندن کے ہیلری سٹریٹ کلینک میں وزیراعظم پاکستان کی اوپن ہارٹ سرجری ہوئی ۔ 7 جون کو انہیں انکی لند ن رہائش گاہ پر منتقل کر دیا گیا۔ جہاں انہوں نے چند روز آرام کے بعد روز مرہ سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا ۔ اگلے روز انہوں نے وزیراعظم آفس کو جوائن کیا اور نئے جوش و ولولے کے ساتھ ملکی امور نمٹانے کے لئے خواجہ سعد رفیق ، خواجہ آصف ، پرویز رشید، شہباز شریف ، رانا ثنااللہ اور دیگر سنیئر عہدیدران سے ملاقات کی۔ سرجری کے چند ہفتوں بعد ہی وزیراعظم پاکستان نے امور مملکت کو مستعدی سے سر انجام دینا شروع کر دیا۔

22 جون2016کو میاں محمد نواز شریف نے نیشنل سیکورٹی کونسل کا اجلاس طلب کیا، جس میں مسئلہ کشمیر اور نہتے کشمیریوں پر بھارتی جارحیت کا جائزہ لیا گیا۔ اس اجلاس میں چیئر مین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے شرکت کی ۔ اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان، آپریشن ضرب عضب اور کراچی آپریشن پر غور کیا گیا ۔ اس کے علاوہ افغانستان کے ساتھ سرحد ی تنازعات کے معاملہ پر بھی بحث ہوئی ۔ 27جولائی 2016کو وزیراعظم پاکستان نے اے جے کے پارٹی کے لئے پارلیمنٹری کمیٹی کا اجلاس طلب کیا۔ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی شاندار کامیابی کے بعد پی ایم ایل این کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے اہم امور زیر غور آئے جن میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور صدر آزاد کشمیر کی نامزدگی جیسے معاملات کو حتمی شکل دی گئی ۔ 29 جولائی 2016کو میاں محمد نوازشریف نے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی یہ اجلاس سات گھنٹے جاری رہا، جس میں آئندہ بائیس ماہ میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے متعلق حکمت عملی وضع کی گئی ۔ وزیراعظم کو زیر تعمیر منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی ۔ مری کی بحالی اور تزین و آرائش کا منصوبہ بھی زیر بحث آیا ،جس میں مری میں گورنمنٹ ہاوس کی بحالی ، مال روڈپارکنگ کی سہولت کا اجرا، ہسپتالوں کی بہتری اور سینما گھروں کی بحالی پر غور کیا گیا ۔ سیاحوں کی توجہ مبذول کروانے کے لئے وزیراعظم نے مری میں ان کی سہولت اور تفریح کے مواقعوں کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا ۔ اس موقع پروزیراعظم نے آرٹ ، فن وادب اور فنکاروں کے لئے جامع پالیسی وضع کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ وزیراعظم کے مطابق حکومت ملک میں فلم انڈسٹری کی بحالی کے لئے کوشاں ہے۔ فن اور فن کاروں کی ترویج کے لئے بھی حکمت عملی وضع کی گئی۔

اجلاس میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے پنڈی پوائنٹ کیبل کارپراجیکٹ کے متعلق فزیبلٹی رپورٹ طلب کی اور منصوبے کی جلداز جلد تکمیل بارے احکامات جاری کئے ۔ اس منصوبے کے تحت ایک کارمیں دس مسافر سوار ہونگے اور پنڈی پوائنٹ مری پر یہ مسافر 15منٹ میں پہنچ سکیں گے۔ جبکہ روڈ کے ذریعے یہ فاصلہ 45 منٹ میں طے ہوتا ہے۔ آلودگی سے پاک یہ منصوبہ مقامی اور بیرونی سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہوگا۔ اس اجلاس میں مری کے لئے پینے کے صاف پانی کی سہولت کی دستیابی کے متعلق بھی وزیراعظم نے ہدایات جاری کیں ۔ اجلاس میں انفارمیشن منسٹر پرویز رشید ، شاہد خاقان عباسی ، برجیس طاہر، حمزہ شریف ڈاکٹر آصف کرمانی اور دیگر سنیئر عہدیدران نے شرکت کی۔ 3اگست2016کو توانائی منصوبوں کا جائزہ لینے کے لئے وزیراعظم نواز شریف نے ایک اور اجلاس کی صدارت کی، جس میں انہوں نے توانائی کے منصوبوں پر کام پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں موجود توانائی کے بحران کے حل کے لئے تمام وسائل کو بروئے کار لا رہی ہے اور کم سے کم وسائل میں ان منصوبو ں کی بروقت تکمیل کے لئے کوشاں ہے۔ پاک چائینہ اقتصادی راہداری کے منصوبے کے تحت جاری توانائی کے منصوبوں کی رفتار کا بھی وزیراعظم نے جائز ہ لیا۔ انہوں نے زیر تکمیل توانائی منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنانے پر زور دیا اور کہاکہ حکومت کا اولین مقصد توانائی کے بحران کو حل کرنا ہے ،تاکہ گھریلو صارفین اور صنعت کاروں کومطلوبہ توانائی مہیا کی جا سکے اس اجلاس میں اسحاق دار، شہباز شریف ، شاہد خاقان عباسی محمد یونس اور دیگر حکومتی عہدیداروں نے شرکت کی۔ملکی امور پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نے خارجہ امور پر بھی توجہ مرکوز رکھی ۔

3اگست2016 کو ایک اجلاس کا انعقاد کیا گیا، جس میں بین الاقوامی سطح پر موجود پاکستان کے متعلق غلط تاثر کی درستگی کے لئے اقدامات پر غور کیا گیا۔ تین روزہ سفیروں کی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ملکی مفادات اور بین القوامی مفادات کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ملک کو تنہا کرنے کے بارے میں بین الاقوامی تاثر کی تردید اور حل کے لئے اس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں نوبڑے ملکوں میں تعینات سفیروں نے شرکت کی ۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کے بارے میں بات کر تے ہوئے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی امنگو ں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق چاہتا ہے ۔اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو انڈیا اور اقوام متحدہ نے تنازعہ کی حیثیت سے قبول کیا ہے ،جس میں کشمیر ی بنیادی فریق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ داخلی و خارجی امور کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نے علاقائی معاملات سے بھی صرف نظر نہیں کیا۔ انہوں نے 4اگست2016کو سارک وزراء کے اجلاس میں بھی شرکت کی اور علاقائی امن کی خاطر مشترکہ کو کاوشوں کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں شاندار کامیابیاں حاصل کیں ہیں۔ اس کے علاوہ نیشنل ایکشن پلان پر موثر عملدرآمد پاکستان کی ان کاوشوں کامنہ بولتا ثبوت ہے جو وہ دہشت گردی کی عفریت سے نجات کے لئے کر رہا ہے۔ انہوں نے سارک ممالک کے مابین توانائی کے تحفظ پر علاقائی تعاون پر زور دیا۔ اس کے علاوہ وزیراعظم پاکستان نے سعودی شہر دمام میں پھنسے پاکستانیوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادپر حل کرنے کے احکامات ریاض میں موجود پاکستانی سفارتخانے کو جاری کئے۔ وزیراعظم کی ہی ذاتی کاوشوں کے تحت انڈونیشیا میں پاکستانی قیدی کی سزائے موت کی تنسیخ ہوئی۔وزیراعظم پاکستان کی علالت کے فوراً بعد ملکی امور کو بطریق احسن مزید مستعدی سے نمٹانا اس امر کی واضع دلیل ہے کہ وہ ملک کو ترقی و خوشحالی کی ڈگر پر گامزن کرنے کے لئے ہروقت تیار ہیں۔

مزید : کالم