یادوں کا ساون بھادوں

یادوں کا ساون بھادوں
 یادوں کا ساون بھادوں

  

جیسے ہی موسم برسات شروع ہوتا ہے، لوگوں کے گرمی سے جھلستے چہرے کِھل اٹھتے ہیں۔ گھروں میں مختلف اقسام کے پکوان تیار کئے جاتے ہیں۔ بچے بھی کسی سے پیچھے نہیں رہتے، وہ بارش میں نہا کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ جب سبھی لوگ اِس خوبصورت موسم کا لُطف اُٹھا رہے ہوتے ہیں تو میرے دل کے آنگن میں یادوں کا ساون برس رہا ہوتا ہے۔ یہ ساون ہی کے مہینے میں پیش آنے والا ایسا واقعہ ہے، جسے مَیں چاہتے ہوئے بھی فراموش نہیں کرسکتی،بلکہ اِس خوبصورت موسم کے ساتھ اِس کی یاد کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

تقریباًبارہ سال پہلے ہم سب بہنوں نے لاہور سے راولپنڈی اور پھر مری جانے کا پروگرام بنایا۔ پنڈی میں میری خالہ اور خالو محلہ موہن پورہ میں رہتے تھے۔ ان کی اپنی تو کوئی اولاد تھی نہیں، اسی لئے وہ ہمیں ہی اپنے بچوں جیسا پیار کرتے۔ مجھے پنڈی پہنچے ابھی دوسرا ہی دن تھااور ہم ناشتے سے فارغ ہوکر بیٹھے ہی تھے کہ مجھے سائرن بجنے کی آواز سنائی دی۔ اُس روز موسم بہت خوبصورت تھا۔ بادلوں نے آسمان کو ڈھانپ رکھا تھا اور بارش کی ننھی ننھی بوندیں مٹی کو بھینی بھینی خوشبو سے مہکا رہی تھیں۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے سب کو بھلے معلوم ہو رہے تھے۔ ہم سب بہنیں خوش گپیوں میں مصروف تھیں کہ سائرن کی آواز ایک مرتبہ پھر سنائی دی۔ اب خالہ جان نے مجھے آواز دی: ’’ عفت آپ اپنا بیگ وغیرہ بیڈ کے اوپر رکھ دو‘‘۔مَیں نے خالہ جان سے پوچھا کہ ’’خالہ جان یہ سائرن کیوں بج رہے ہیں‘‘؟ خالہ جو اپنے گھر کے سامان کو محفوظ جگہ پر رکھ رہی تھیں، بولیں:نالالئی چڑھ گیا ہے‘‘۔ میں نے پوچھا: ’’اب کیا ہوگا‘‘؟ کہنے لگیں، بسکچھ پانی گھروں میں آجائے گا۔

اتنے میں سائرن پھر بجنے لگا۔ خالہ بولیں : ’’عِفت جاؤ باہر دیکھو کہیں پانی گلی میں تو نہیں آگیا‘‘۔امتیاز کہنے لگے: ’’خالہ جان مَیں ٹیکسی لے آتا ہوں، ہم لوگ یہاں سے نکل چلتے ہیں۔ ’’یہ کہتے ہوئے امتیاز نے باہر کا رُخ کیا۔ مَیں بھی پانی کو دیکھنے ان کے پیچھے پیچھے دروازے تک آگئی۔ گلی پانی سے بھری ہوئی تھی۔ مَیں جیسے ہی دروازے سے واپس پلٹی، پانی میرے ساتھ ساتھ گھر میں داخل ہونا شروع ہوگیا۔خالہ جان نے پانی کو گھر میں آتے دیکھ کر کہا: ’’کہ سب بہنیں سیٹرھیوں پر جاکر بیٹھ جاؤ، تھوڑی دیر میں سب ٹھیک ہو جائے گا۔مَیں نے اپنے ایک ہاتھ میں واٹر کولر پکڑا اور دوسرے میں گلاس اور سیٹرھیوں کی طرف چل پڑی۔ خالو اپنے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ خالہ نے انہیں کہا کہ آپ بھی اوپر چلے جائیں۔ کہنے لگے کہ میں یہیں بیٹھ کر پانی کا نظارہ کروں گا۔ امتیاز کے اصرار پر خالہ اور خالو جان بھی سیٹرھیوں پر آ کر کھڑے ہو گئے۔

مَیں نے زندگی میں کبھی سیلاب آتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ کافی دیر تک ہم پانی کی آمد سے لطف اُٹھاتے رہے، جوبہت تیزی کے ساتھ گھر میں پھیل رہا تھا۔ جیسے ہی پانی کی سطح بلند ہوتی، ہم ایک سیٹرھی اور اوپر چڑھ جاتے۔ اب دن کے بارہ بج چکے تھے اور بارش زور شور سے جاری تھی۔ تقریباً آدھا گھر پانی میں ڈوب چکا تھا، اب ہمیں اپنی اپنی جان بچانے کی فِکر ستانے لگی۔مَیں نے اپنی چھوٹی بہن صباحت سے کہا ، ایسا کرو کہ تم اوپر زینے کا دروازہ کھولو،تاکہ ہم کسی بُرے وقت پر چھت پر پناہ لے سکیں۔ اُس نے حَسرت سے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: ’’عِفت باجی دروازے پر توتالا پڑا ہوا ہے‘‘ ۔مَیں نے اِدھر اُدھر دیکھا تو مجھے قریب ہی ایک اینٹ پڑی ہوئی نظر آئی۔ مَیں نے صباحت سے کہا کہ تالا توڑنے کی کوشش کرو۔ وہ اپنے نازک ہاتھوں سے بار بار تالے پر وار کرتی رہی، لیکن وہ تالا نہ ٹوٹ سکا۔ اب صرف تین سیٹرھیاں پانی کی دست برو سے بچی تھیں اور زینے کا دروازہ بند تھا۔

خالہ جان اور خالو جان ہم سب کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہے تھے۔ بارش تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔ اب بجلی بھی چمک رہی تھی اور بادل بھی خوب گرج رہے تھے، جس کی آواز سے تعظیم اور صباحت دونوں خوفزدہ ہو جاتیں۔ محلے میں سے بھی بچوں اور لوگوں کی چیخ و پکار کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ ہم سب بہت پریشان تھے۔ اب امتیاز نے دروازہ توڑنا شروع کیا۔ مَیں نے بھی ان کی مدد کی۔ اس طرح ہم تھوڑا سا دروازہ اکھاڑنے میں کامیاب ہو گئے، جس سے بمشکل ایک بچہ ہی باہر نکل سکتا تھا۔ اب تک پانی ہمارا پیچھا کرتے ہوئے آخری سیڑھی تک آپہنچا تھا۔ صباحت اور تعظیم چھت پر پہنچ گئیں۔ مَیں نے صباحت کو آواز دے کر کہا کہ تم اب مدد کے لئے شور کرو۔ اس کے بعد ہم سب نے مل کر دروازے کا ایک پٹ اکھاڑ دیا اور اس طرح چھت پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

اب پانی چھت پر بھی ہمارے ساتھ داخل ہونا شروع ہو گیا۔ سامنے والے گھر کی چھت پر بھی کچھ لوگ کھڑے ہوئے تھے۔ امتیاز نے مشورہ دیا کہ ہم بچوں کو ان لوگوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ ہمارا اللہ مالک ہے۔ مَیں نے جواب دیا کہ اتنی جلدی ہار نہیں ماننی چاہئے۔ ابھی ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ ساتھ والے گھر سے ایک صاحب نے خالو جان کو آواز دے کر ہم سب کی خیریت دریافت کی، مَیں نے جواب میں کہا کہ انکل آپ ہماری مدد کریں۔ وہ پوچھنے لگے کہ کیسے؟ مَیں نے کہا، آپ ایک چارپائی ہماری چھت پر پھینک دیں یا پھر کوئی سیڑھی ہو تو اسے ہماری طرف لگا دیں، (میں نے اپنے بچپن میں ایسی تصویریں دیکھی تھیں، جن میں لوگ سیلاب میں چارپائی پر بیٹھے پانی میں بہے جا رہے ہوتے تھے) ۔

وہ میری بات سن کر غائب ہو گئے۔ تھوڑی دیر بعد انہوں نے ایک سیڑھی ہماری چھت پر پھینک دی۔ ان کا گھر تین منزلہ تھا۔ ہم اس سیڑھی کی مدد سے کسی نہ کسی طرح شدید بارش کے باوجود ان کی طرف پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی تھی۔ اس گھر کے بزرگ کہہ رہے تھے کہ اگر یہ پانی تیزی کے ساتھ اُترا تو پھر یہ ہمارا گھر بھی ساتھ بہا کر لے جائے گا۔ یعنی خطرہ ابھی ٹلا نہیں تھا۔ ہم سب لوگ بہت پریشان تھے۔ دن کے تقریباً چار بجے کے قریب بارش رکی۔ مَیں نے تیسری منزل پر جا کر دیکھا تو خالہ کا گھر پانی میں مکمل ڈوب چکا تھا۔ ایک فوجی ہیلی کاپٹر سیلاب کا فضائی جائزہ لینے میں مصروف تھا۔ اس تمام عرصے میں کوئی حکومتی ادارہ کسی کی بھی مدد کے لئے کام کرتا ہوا نظر نہ آیا۔ تاہم اب پانی اترنا شروع ہو چکا تھا۔ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اپنی جانیں بچانے میں مصروف تھے۔ کچھ رضا کار سیلاب میں پھنسے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچا رہے تھے۔

مصیبت کی اس گھڑی میں کچھ ’’مہربان‘‘ ایسے بھی تھے جو پانی میں بہتے ہوئے سامان کو سمیٹنے اور لوٹنے میں مصروف تھے۔ اس سیلاب میں کئی سے افراد لقمۂ اجل بنے۔ ان کے گھروں سے آہ و بکا کی آوازیں آ رہی تھیں اور جن کی داد رسی کرنے والا کوئی بھی نہیں تھا۔ رات تقریباً دس بجے تک پانی اترا۔ ہمارے مہربان پڑوسیوں نے ہمیں کھانا کھلایا اور باقی کھانا شاپنگ بیگ میں بند کر کے لوگوں کے گھروں کی چھتوں پر پھینکا۔ جہاں سارے دن کے بھوکے پیاسے لوگ کسی غیبی امداد کے منتظر تھے۔ رات گیارہ بجے کے قریب گلی میں کچھ لوگ ہمارے خالو اور خالہ کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ یہ ان کے بھائی کے بیٹے تھے۔

جب ان لوگوں کو ان بزرگوں کی سلامتی کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ بہت خوش ہوئے اور اہل محلہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ہم سب کو اپنے ہمراہ لے گئے اور ہم لوگ اگلے روز بذریعہ ٹرین بخیر و عافیت لاہور پہنچ گئے۔ حکومت وقت نے سیلاب متاثرین سے بہت سے وعدے کئیلیکن حسب معمول وفا نہ کئے۔ یہ تو ہے ایک چھوٹے سے نالہ لئی کے سیلاب سے متاثرہ علاقے اور لوگوں کی ایک تصویر! سوچئے جب بڑے بڑے نالے اور دریا بپھرتے ہوں گے تو کیا کیا تباہی نہ مچتی ہو گی۔ ہماری حکومت تو ہر سال اس سیلاب کا ملبہ انڈیا کے سر ڈال کر فارغ ہو جاتی ہے کہ یہ سب انڈیا کی آبی جارحیت کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم انڈیا کی فوجی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی ہمت، سکت اور صلاحیت رکھتے ہیں تو اس کی آبی جارحیت کا مقابلہ کیوں نہیں کر سکتے؟

اس سلسلے میں حکومتِ وقت اور عوام کو مل کر احسن اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ سیلاب کی پیشگی اطلاع دینے والے محکمے کو فعال بنایا جائے۔ دو یا تین سائرن بجا کر کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے عوام کو ایک بڑے خطرے سے خبردار کر دیا ہے۔ کیا ہم اس سیلابی پانی کو ذخیرہ کر کے اس سے استفادہ نہیں کر سکتے؟

مزید : کالم