دوسروں پر تنقید چھوڑیئے اپنا محاسبہ خود کیجیے

دوسروں پر تنقید چھوڑیئے اپنا محاسبہ خود کیجیے

مکرمی! دہشت گرد ، ملک دشمن عناصر اور شدت پسند وطن عزیز کو ہرگز ہرگز کمزور نہیں کہہ سکتے بشرطیکہ ہماری صفوں میں اتحاد، اتفاق، تنظیم اور جذبہ حب الوطنی بدرجہ اتم موجود ہو اور ہم حکومت وقت اور مسلح افواج کے ساتھ مکمل تعاون رکھنے کے علاوہ اسوہ حسنہ کی پیروی، اولیائے کرام کے پندو نصائح پر عمل اور دین اسلام کے اصولوں کی پاسداری کریں آباؤ اجداد کے زریں پیغامات پر عمل پیرا ہو کر دنیا میں امن و آشتی سے زندگی گزاریں اور ان کے اعمال و اقوال کو مشعل راہ تصور کرتے ہوئے اپنی آخرت کو بھی سنوار سکیں۔ یہ امر باعث مسرت ہے کہ ہمارا ماضی عظیم الشان کارہائے نمایاں سے درخشاں وتاباں ہے۔ ہمارے بزرگوں نے ساری دنیا پر حکمرانی کی ہے اب حال اور مستقبل کو تابناک بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔ چنانچہ باہمی میل ملاپ، قومی اتحاد، حب الوطنی اور ایثار و قربانی کا جذبہ پیدا کر کے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی اور استحکام کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہیں جبکہ اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کر اپنا اپنا محاسبہ خود کرنے کے بعد دوسروں کی اصلاح کے لئے موثر طریقہ اختیار کیجیے۔ دوسروں پر بلا وجہ تنقید سے اجتناب برتیے کیونکہ یہ اچھے لوگوں کا شیوہ نہیں۔ (رب نواز صدیقی، غلہ منڈی پاک پتن)

مزید : اداریہ