ون ویلنگ ۔۔۔ موت کا کھیل

ون ویلنگ ۔۔۔ موت کا کھیل

مکرمی! ون ویلنگ کا جنون لاہور سے نکل کر فیصل آباد، شیخوپورہ اور بعض دوسرے شہروں تک پہنچ گیا ہے اور اب تک بڑی تعداد میں نوجوان اس خونی کھیل میں اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اپنے ماں باپ کی زندگی میں زہر بھر کر انہیں ہمیشہ کے لئے روتا چھوڑ کر عدم کو سدھار چکے ہیں اور بعض ہمیشہ کے لئے اپاہج ہو کر بستر مرگ پر یا محتاجی کی اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ دکھ اس بات کا ہے کہ ان میں اکثریت ان پڑھے لکھے نوجوانوں کی ہے کہ جنہیں والدین نے بڑی محنت مشقت کی کمائی سے پالا، پڑھایا اور ان کے جوان ہونے پر ان کے سر پر سہرا دیکھنے اور ان کے سنہرے مستقبل کے سپنے سجائے تھے مگر ان نوجوانوں نے اپنے والدین کے ارمانوں کا خون کر کے انہیں زندہ درگور کر دیا ، افسوس کہ ون ویلنگ کی وباء سب سے زیادہ لاہور کے نوجوانوں میں پائی جاتی ہے گزشتہ دو سال میں لاہور، فیصل آباد اور پنجاب کے دیگر شہروں میں 300نوجوان ون ویلنگ کرتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے اور شدید زخمیوں اور ہمیشہ کے لئے اپاہج ہو جانے والوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ایک سروے رپورٹ کے مطابق ون ویلنگ محض جان لیوا کھیل ہی نہیں بلکہ بعض مجرمانہ ذہنیت کے حامل افراد نے اسے ناجائز کمائی کا ذریعہ بنا لیا اور ون ویلنگ پر ریس لگانا، جواء کھیلنا، شرٹ اتار کر موٹر سائیکل چلانا، سیٹ پر لیٹ کر اندھا دھند موٹر سائیکل بھگانا جس سے بعض اوقات سڑک پر چلنے والے دوسرے شہریوں سے ٹکرا کر مہلک حادثہ کا باعث بننا اور کئی مرتبہ سڑک پر چلتے یا سڑک کراس کرتے بوڑھے افراد، خواتین اور بچوں کو بری طرح روند کر فرار ہو جانا، موٹر سائیکل کے ویلز، چین گراریاں بدل کر مزید خطرناک بنا کر ون ویلنگ کرنا یہ سب کچھ بگڑے ہوئے نوجوانوں اور آوارہ مزاج رئیس زادوں کا مشغلہ بن گیا ہے اور ہر ہفتہ کی رات 12 بجے تا صبح 4بجے پنجاب یونیورسٹی، کینال روڈ تا گلبرگ، جیل روڈ، مال روڈ اور لبرٹی گول چکر تا صدیق سنٹر سیکڑوں ون ویلر خطرناک طریقہ سے 100کلو میٹر رفتار سے موٹر سائیکل بھگاتے ہیں۔ مگر افسوس کہ پولیس یا دیگر کوئی ادارہ انہیں پوری طرح قابو کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ 

ان ہی آوارہ منش نوجوانوں کے ٹولے اہم قومی تہواروں 23مارچ 14اگست جشن آزادی حتیٰ کہ مقدس ایام عید میلاد النبیؐ کے موقعہ پر بھی ان ہی حرکتوں سے عوام کا جینا دوبھر کر دیتے ہیں اور لوگ جو اپنی فیملی کی خواتین کے ساتھ سیر و تفریح یا بچوں کو لائٹنگ وغیرہ دکھانے کیلئے نکلتے ہیں ان پر آوازے کستے ہیں۔ سائلنسر نکال کر موٹر سائیکل چلاتے اور شور و غوغا سے لوگوں کو پریشان کرتے ہیں۔اب پنجاب حکومت کی جانب سے ون ویلرز کے خلاف سخت قانون کا شکنجہ تیار کر کے احسن اقدام کیا گیا ہے اور اگر انتظامیہ ، پولیس، ایلیٹ فورس اور ڈولفن فورس کے نوجوانوں نے صحیح طریقہ سے ون ویلرز کے خلاف کارروائی کی تو کئی قیمتیں جانیں بچائی جا سکتی ہیں اور اس انتہائی خطرناک موت کے کھیل کو بند کیا جا سکتا ہے جو نوجوانوں کو کرمینل ، جواری اور آوارہ بنا رہا ہے۔ اس ضمن میں والدین ، سول سوسائٹی اور اساتذہ پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس موت کے کھیل کے خاتمہ کے لئے آگے بڑھیں اور حکومت کے ساتھ مل کر اس خطرناک کھیل کا خاتمہ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ذمہ دار شہریوں کو بھی چاہئے کہ وہ ون ویلرز کی حوصلہ شکنی کریں، ان کی 15پر پولیس کو اطلاع دیں اور موبائل پر ون ویلرز کی فلم بنا کر پولیس کی مدد کریں، اس طرح ہم کئی ماؤں کی گود اجڑنے سے بچا سکتے ہیں۔ (اجالا شفیق راجپوت لاہور)

مزید : اداریہ