70 واں سال

70 واں سال
 70 واں سال

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس سال 14 اگست کو پاکستان کے 69 سال مکمل ہو گئے۔ کسی بھی قوم کی تاریخ میں یہ کوئی بہت زیادہ طویل عرصہ نہیں ہوتا لیکن یہ اتنا کم بھی نہیں ہے کہ ہم اس کا بے لاگ تجزیہ کرکے آگے کا روڈ میپ وضع نہ کریں۔ ان 69 برسوں میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا، اس کا تجزیہ اگر نیک نیتی سے نہیں کیا جائے گا تو ہم درست شاہراہ پر پیش قدمی نہیں کر سکیں گے۔ ابھی پاکستان بنے ہوئے صرف 24 سال ہوئے تھے کہ یہ دو ٹکڑے ہو گیا اور اس کا مشرقی حصہ بنگلہ دیش کی صورت میں علیحدہ ہو گیا۔ آج کا پاکستان اس پاکستان کا آدھا ہے جو قائد اعظم محمد علی جناح نے ہمیں بنا کر دیا تھا۔ ملک کا آدھا حصہ یعنی مشرقی پاکستان گنوانے کے ذمہ داران کون کون تھے اور وہ کون سے عوامل تھے جن کی وجہ سے ملک ٹوٹا، اس پر سیر حاصل بحث کی جا سکتی ہے جو ہم وقتاً فوقتاً کرتے بھی رہیں گے۔ مغربی پاکستان ہی اب کل پاکستان ہے اور یہی ہماری اور آنے والی نسلوں کا وطن اور مستقبل ہے۔میرے خیال میں اب تک پاکستان کو پیش آنے والے حالات میں سے کچھ کا تعلق نظریاتی ہے اور باقی کا سیاسی اور اقتصادی۔ پاکستان میں چار مرتبہ فوج نے اقتدار پر قبضہ کیا ، دو بار ملک کے دو لخت ہونے سے پہلے اور دو بار اس کے بعد میں۔ فوج کیوں بار بار پاکستان میں مارشل لاء لگا کر اقتدار پر قبضہ کرتی رہی ہے، یہ بحث بھی توجہ طلب ہے۔ ترکی میں بھی فوج نے چار دفعہ اقتدار پر قبضہ کیا اور بار بار ویسی ہی مداخلت کی جیسے پاکستان میں ہوتی رہی ہے، لیکن حال ہی میں ترک فوج کے ایک حصے کی اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی، پاکستان کی اپنی ایسی ہی تاریخ کے تناظر میں یہ بحث بھی اہم ہے کہ کیا پاکستان میں بھی ایسا ممکن ہے کہ اگر فوج اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے تو سیاسی حکمران عوام کی طاقت سے اسے ناکام بنا سکتے ہیں پاکستان میں سول ملٹری تعلقات ہمیشہ ایک اہم مسئلہ رہا ہے لیکن کیا اب یہ مثبت سمت میں گامزن ہیں جس کی وجہ سے ملک میں آئندہ فوج سیاسی مداخلت نہیں کرے گی۔ یہ سوال بھی باریک بینی سے درست تجزیہ کا متقاضی ہے۔ پاکستان کی نظریاتی اساس کیا ہو گی، اس کی بحث بھی پہلے دن سے ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا تو ایک ایسے ملک میں جو اسلام کے نام پر بنا اس کی نظریاتی اساس کا اسلامی ہونا ایک فطری تقاضا ہے ۔ سرد جنگ کے دنوں کے حالات میں اور آج کے حالات میں بھی زمین آسمان کا فرق ہے جو ہر اعتبار سے اہم ہے جیسے نظریاتی، سیاسی اور اقتصادی۔ اس کے علاوہ پاکستان کا علاقائی رول کیا ہو گا اور اس کے اپنے پڑوسیوں سے تعلقات کیسے ہوں گے، اس کو بھی درست انداز میں سوچے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ یہ سوال اس لئے بھی اہم ہے کہ پاکستان کے چار پڑوسی ممالک ہیں جن سے پاکستان کی سرحد ملتی ہے، ان چار میں سے تین ملکوں سے پاکستان کے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ اسے اس طرح بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی سرحدوں کی کل لمبائی سات ہزار کلو میٹر میں سے ساڑھے چھ ہزار کلومیٹر ایسے ہیں جہاں پاکستان کے تعلقات کم یا زیادہ لیکن کشیدہ ہیں یا ان پر مسئلے مسائل موجود ہیں۔

اگرچہ پاکستان میں چار دفعہ مارشل لاء لگا اور ملک میں سول اور فوجی حکومتوں کا دورانیہ ففٹی ففٹی رہا ہے یعنی ساڑھے چونتیس ساڑھے چونتیس سال لیکن ان فوجی مداخلتوں کے علاوہ بھی کم از کم دو باتیں ایسی ہیں جنہوں نے پاکستان کی سیاسی، معاشی، اقتصادی اور نظریاتی اٹھان پر براہ راست شدید ضربیں لگائیں۔قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک دو اہم ترین باتیں جن کے بغیر ملکی تاریخ کا ذکر مکمل نہیں ہے وہ المیہ مشرقی پاکستان اور افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف ہونے والا جہاد ہے۔ جہاں تک المیہ مشرقی پاکستان کا تعلق ہے ، وہ براہ راست پاکستان کے اندر پیش آیا جس میں ہمارے دشمنوں نے کھل کر پاکستان کے سب سے بڑے دشمن بھارت کی مدد سے پاکستان کے دو ٹکڑے کر دئیے۔ یہ فیز 1947 میں شروع ہوا اور 1971 میں اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ دوسرااہم ترین واقعہ افغانستان میں سوویت یونین کی مداخلت یعنی 1979 میں شروع ہوا جو ایک بے مثال جدوجہد کے بعد 1988 میں سوویت یونین کے انخلاء اور اس کے تین سال بعد اس کے اپنے ٹکڑے ٹکڑے ہونے پر ختم ہوا۔ سویت یونین کے خلاف ہونے والا جہاد پاکستان کے حالات پر براہ راست اثر انداز ہو اور اس کے اثرات آج تک پاکستان کو بری طرح سے اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں۔ پاکستان کا شمال مغربی سرحدی صوبہ جو اب خیبر پختون خوا کہلاتا ہے ، افغان جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا اور کئی ملین افغان مہاجرین جو افغان جنگ کے دوران پاکستان آئے تھے وہ بھی زیادہ تر یہیں آباد ہوگئے۔ اب سوویت یونین کو افغانستان سے گئے ہوئے چھبیس برس گذر گئے ہیں لیکن کئی ملین افغان مہاجرین ابھی تک پاکستان میں ہی مقیم ہیں، اب ان کی اگلی نسلیں بھی یہیں رہ رہی ہیں۔ ان میں صرف افغانستان سے تعلق رکھنے والے مہاجرین ہی نہیں بلکہ عرب و مشرق وسطی کے علاوہ افریقہ اور وسطی ایشیائی ممالک کے جنگجو بھی شامل ہیں۔ ان لوگوں کی وجہ سے خیبر پختون خوا اور فاٹا کے حالات خراب ہوئے، ان لوگوں نے مقامی لوگوں سے کاروبار خرید نے کے علاوہ مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی خود کو ملوث کر لیا۔

افغان جنگ کے بعد ہی پاکستان میں ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر عام ہوا جس کے نتیجہ میں پورے ملک کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے گئے۔ افغان جنگ کے دوران لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین ایران میں بھی پناہ گزین ہوئے تھے لیکن ایران نے ایک پالیسی کے تحت انہیں کیمپوں تک محدود رکھا اور جنگ ختم ہونے کے بعد انہیں واپس افغانستان دھکیل دیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ افغان جنگ کے دوران پاکستان کی پالیسی غلط نہیں تھی اور نہ ہی افغان مہاجرین کو پاکستان میں پناہ دینا غلط تھا کیونکہ اسلامی لحاظ سے بھی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بھی یہ پاکستان کا فرض بنتا تھا کہ وہ افغان مہاجرین کو پناہ دے۔ اس لئے غلطی یہ نہیں تھی کہ انہیں پناہ دی گئی بلکہ غلطی یہ تھی کہ انہیں کیمپوں تک محدود رکھنے کی بجائے ملک میں آزادی سے گھومنے پھر نے اورکاروبار کرنے کے علاوہ پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوانے کی آسانی تھی۔ افغان جنگ کا سلسلہ سوویت یونین کے انخلا کے بعد بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے، کبھی مختلف فریقوں کے مابین آپس کی خانہ جنگی اور کبھی دوسرے ممالک کی مداخلت جن میں سب سے اہم امریکہ اور نیٹو کا افغانستان پر حملہ شامل ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے حالات بھی بدستور خراب ہیں۔ پاکستان میں امن و امان کا گھمبیر مسئلہ، دہشت گردی، انتہا پسندی اور آئے دن ہونے والے خود کش دھماکے بھی براہ راست افغانستان کے حالات سے جڑے ہوئے ہیں۔ بھارت اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے حالات ٹھیک نہیں ہو رہے۔ اب جبکہ پاکستان اپنی عمر کے 70 ویں سال میں داخل ہو چکا ہے، دہشت گردی اور خود کش دھماکوں نے ساٹھ ستر ہزار معصوم اور بے گناہ پاکستانیوں کی جان لینے کے علاوہ ملک کی اقتصادیات کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور برآمدات میں اضافہ ہونے کی بجائے کمی واقع ہو رہی ہے ۔

پاکستان کے اقتصادی بحران میں دہشت گردی اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے علاوہ توانائی کے بحران نے بھی بڑا کردار ادا کیا ہے جو گزشتہ برسوں سے اتنا بڑھ چکا ہے کہ اب ملک کی معیشت کو دیمک کی طرح اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ آج کے پاکستان میں دو سب سے بڑے چیلنجز دہشت گردی اور توانائی کا بحران ہیں۔ 70 سال کوئی بہت بڑا عرصہ نہیں ہوتا، دنیا کی اکثر قوموں نے اس سے بھی زیادہ برے حالات کا مقابلہ کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان کو ان مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے لیکن وہ مثبت عوامل جن کی وجہ سے پاکستان ایک بڑی طاقت بننے والا ہے، منفی عوامل سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ دنیا کا چھٹا سب سے بڑا ملک اور ساتویں ایٹمی طاقت پاکستان کا مستقبل انتہائی تابناک ہے کیونکہ ان مثبت عوامل کی فہرست بہت طویل ہے۔ 69 سال گزر گئے، جو ہوا سو ہوا،انشاء اللہ پاکستان کا مستقبل بہت شاندار ہے۔

مزید : کالم