معاشی آزادی کی ضرورت ہے

معاشی آزادی کی ضرورت ہے
معاشی آزادی کی ضرورت ہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاکستان کے تمام شہروں میں ، بلا کسی تخصیص و امتیاز ، لوگوں نے یوم آزادی منایا۔ دن ایسا نظر آیا کہ لوگ ہر قسم کی تفریق کو بالائے طاق رکھ کر اس دن کو منانے کے لئے متحد تھے۔ اور کیوں نہ ہوتے یہ ان کا یوم آزادی ہے، ان کے ملک کے قیام کی تاریخ ہے۔ وہ اپنے پڑوس میں کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کے لئے قربانیاں دیکھ رہے ہیں۔ نوجوانوں اور جوانوں کو گولیوں سے اس لئے چھلنی کیا جارہا ہے کہ وہ کشمیر کی آزادی چاہتے ہیں اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے بلند کرتے ہیں۔ گولی کی موت تو کوئی معنی اس لئے نہیں رکھتی کہ جو بھی انسان پیدا ہوا ہے اسے فنا ہونا ہے لیکن اس موت کا کیا کریں جو اس وقت نہیں آتی جب خواتین کے دوپٹے سر بازار اتارے جاتے ہیں، انہیں سڑک پر گھسیٹا جاتا ہے، جوان خواتین فوجیوں کے پاؤں کو پکڑ کر دہائی دیتی ہیں کہ ان کا دوپٹہ نہ کھینچا جائے۔ وحشت اور سفاکی پر آمادہ فوجی ان کی نہیں سنتے۔ جوان عورتوں سے بدتمیزی کرتے ہیں۔ یہ آزادی حاصل کرنے کی قیمت چکا رہی ہیں۔ ہم نے بھی 1947میں یہ قیمت چکائی ہے۔ یہی سب کچھ ہمارے ساتھ بھی ہوا تھا۔ ہمارے بچوں کو نیزوں پر اچھالا گیا تھا۔ ہماری جوان لڑکیوں کو اغوا کیا گیا تھا۔ ان کا مذہب تبدیل کرایا گیا تھا۔ ہماری لڑکیوں کو اپنی عصمتیں بچانے کے لئے اندھے کنوؤں میں چھلانگیں لگا کر جان دینا پڑی تھی۔ ہمارے جوانوں کو مقابلوں میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ دنیا اس آزادی کی جدو جہد کو تاریخ انسانی کی سب سے بڑی ہجرت یوں ہی تو نہیں قرار دیتی ہے۔ کسی تصور سے زیادہ قیمت ادا کر کے یہ آزادی حاصل کی گئی تھی۔ لوگ اسی آزادی کا جشن منارہے ہیں۔ شہر شہر قومی پرچموں کی بہار دیکھنے کو ملی۔ ہر بچے کے سینے پر پاکستانی پرچم کا بیج سجا ہوا نظر آیا۔ گھر ہوں یا دوکان، نجی گاڑیاں ہوں یا بپلک ٹرانسپورٹ، پاکستانی پرچم بلند تھا۔ لوگ اپنی دھن میں تھے۔

حیدرآباد میں سڑکوں پر سجے ہوئے اسٹالوں پر میں بھی گیا تھا۔ قومی پرچم ساٹھ روپے سے ایک سو بیس روپے کے حساب سے فروخت کئے جارہے تھے ۔ پرچم والے بیج بیس روے سے ایک سو روپے کی قیمت کے تھے۔ لوگوں کو قیمت سے غرض نہیں تھی۔ انہیں تو اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے پرچم اور بیج چاہئے تھے۔ میں نے ایک دوکان دار سے سوال کیا کہ آخر یہ اتنے مہنگے کیوں ہیں۔ اس نے مختصر جواب دیا کہ کیا کریں، چین سے تیار ہو کر آئے ہیں۔ پاکستانی پرچم چین سے تیار ہو کر آئے تھے۔ پاکستانی حکومت اور تاجروں کو کیا ہو گیا ہے۔ اپنی صنعت، اپنے کارخانے، اپنے محنت کش لوگ کہاں جائیں گے۔ جس چیز پر ہاتھ رکھو، چین کی بنی ہوئی ملے گی۔ سوئی سے لے کر تالا تک، قلم سے لے کر اسکیل تک، غرض جو بھی سامان خریدو، معلوم ہوتا ہے کہ چین میں بنا ہوا ہے۔ حکمرانوں نے بھارت سے سبزی، پیاز ، آلو اور ٹماٹر تک در آمد کر لئے۔ تاجر حضرات نے تو پھل تک بیرونی ممالک سے در آمد کر لئے۔ بہترین پاکستانی سیب کے مقابلے میں بد ذ ائقہ غیر ملکی سیب فروخت کر دئے گئے۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ہماری فصلوں کا کیا ہوگا، ہماری مصنوعات کا کیا بنے گا۔ ہمارے کارخانوں میں رو شنی کیوں نہیں رہنا چاہئے۔ حد تو یہ ہے کہ پاکستانی ٹیکسٹائل کارخانے بند ہیں اور تاجر اور صنعت کا ر کپڑا بھی چین سے منگا کر فروخت کر رہے ہیں یا بھارت سے سمگل کیا جارہا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہ داری کی مخالفت مقصد نہیں ہے۔ بھارت سے دوستانہ تعلقات میں رخنہ ڈالنا مقصود نہیں ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ ہمارے محنت کش کہاں جائیں گے۔ ان کے گھروں میں چولھے اسی صورت جلتے ہیں جب انہیں کارخانوں میں کام ملتا ہے۔ جب کار خانے ہی بند ہوں گے تو کو ن کام اور محنت کے دام دے گا۔

پاکستان میں بر آمد اور در آمد کی منصوبہ بندی کرنے والوں نے غور کیا یا نہیں کہ جب ضرورت کی ہر شے قانونی یا غیر قانونی طریقے سے بازار میں موجود ہوگی تو ان کی صنعتی ادارے، کارخانے، بھٹیاں، چمنیاں کیوں کر چل رہے ہوں گے۔ کسی کو یاد ہے کہ پاکستان میں مضبوط بابر لاک تیار ہوتا تھا۔ کہاں گیا۔ کسی کو یاد ہے کہ خیر پور میں جب وہ ریاست تھی، بنارسی کپڑا اور ساڑھیاں تیار کی جاتی تھیں۔ پورے برصغیر میں فروخت ہوتی تھیں۔ اب وہ کارخانے ہی کھنڈر ہو گئے ہیں۔ جوتے تیار کرنے کا ایک بڑا مرکز حیدرآباد ہواکرتا تھا، آج حیدرآباد کے کارخانے سکڑ گئے۔ اب چین کے تیار کردہ جوتے فروخت ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ حکومتوں کی سقموں سے بھرپور منصوبہ بندی اور پالیسیاں ہیں۔ جس کی وجہ سے پاکستانی شہروں میں اس کی اپنی مصنوعات ڈھیر ہو گئی ہیں۔ اب تو جوتے بھی چینی پہننے ( یا کھانے کو) کو ملتے ہیں ۔ مشہور زمانہ پاکستانی بنکار آغا حسن عابدی مرحوم کہا کرتے تھے کہ پاکستانیوں کو اپنی منڈی پر توجہ دیتے ہوئے بیرون ملک تیار کردہ اشیاء فروخت کرنا چاہیں اور پاکستان میں مخصوص صنعتوں کو فروغ دینا چاہئے۔ اس زمانے میں ان کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ آج ان کی بات درست نظر آتی ہے۔ لیکن وقت گزر گیا۔ پاکستانیوں کے لئے وقت تیزی کے ساتھ گز رہا ہے۔ نا جانے وقت کو ہم کب قابو کر پائیں گے۔ ابھی تو ہم وقت کی رفتار سے بہت زیادہ پیچھے ہیں۔

وہ زمانہ بھی تھا جب پاکستانی بھارتی حکمرانوں کا مذاق اڑاتے نہیں تھکتے تھے کہ ان کے لوگ بھوکے مر رہے ہیں ۔ آج پاکستانی بھوکے مر رہے ہیں۔ بھارت نے اپنے غریب اور متوسط طبقے کے لئے وہ سب کچھ کیا جس کی وجہ سے اس کے زر مبادلہ کے ذخائر میں حیران کن حد تک اضافہ ہوا۔ ہم ہیں کہ ایک ایک ڈالر جمع کر رہے ہیں لیکن زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہی نہیں ہوتا ہے۔ بر آمد بری طرح متاثر ہیں اور سارا زور در آمد پر ہے۔ ورلڈ بنک کے قرضوں کی ادائیگی کے لئے اور قرضے لینا پڑتے ہیں۔ ان کا ہماری طرف قرضوں پر منافع بھی ان سے قرض لے کر ادا کرنا پڑتا ہے۔ وہ بچے جو آج جشن آزادی بڑی دھوم دھام سے منا رہے ہیں، انہیں کیا معلوم کہ ان کے حکمرانوں نے ان کا بال بال قرضوں میں جکڑ دیا ہے ۔ اب تو دنیا میں معاشی استحکام ہی آزادی کا دوسرا نام ہے۔ دیکھیں اس تماش گاہ میں وہ آزادی کب آتی ہے۔ ختم شد

مزید : کالم