پیراسائیکلوجی اور جنگ و جدال: چند تاثرات

پیراسائیکلوجی اور جنگ و جدال: چند تاثرات
 پیراسائیکلوجی اور جنگ و جدال: چند تاثرات

  

دنیا بھر میں نفسیاتی جنگ و جدل کا موضوع نہایت اہم متصور ہوتا ہے اور اس پر بہت سا تحریری مواد موجود ہے لیکن چونکہ بیشتر انگریزی زبان میں ہے اور اس کا اردو ترجمہ نہیں کیا گیا، اس لئے اردو جاننے والے ٹروپس کی رسائی سے یہ موضوع تقریباً باہر ہے۔ پاکستان آرمی میں اس کا باقاعدہ ایک الگ ڈائریکٹوریٹ قائم تھا جو پہلے جی ایچ کیو کے اندر ہوتا تھا۔ پھر اس کی تنظیمِ نو کی گئی اور اسے آئی ایس پی آر ڈائریکٹوریٹ میں مدغم کر دیا گیا۔ اس ڈائریکٹوریٹ کو سائیکلوجیکل آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کا نام دیا جاتا تھا جسے مختصر کرکے سائی آپس (Psy Ops) ڈائریکٹوریٹ کہتے تھے۔ اس کا باقاعدہ ایک الگ ڈائریکٹر (بریگیڈیئر) ہوتا تھا اور اس کے ماتحت حسبِ ضابطہ نچلے رینکس کے آفیسرز، جے سی اوز اور سولجرز ہوتے تھے۔

نفسیاتی جنگوں کے اس ڈائریکٹوریٹ کا ایک کام یہ بھی تھا کہ وہ ایسے پمفلٹ شائع کرے جن میں افسروں اور ٹروپس کو جنگ کے نفسیاتی پہلوؤں سے آگاہی اور اس کی ترغیب و تشویق (Motivation) دی جائے۔ 1990ء کے عشرے میں، میں جب GHQ میں پوسٹ تھا تو اس ڈائریکٹوریٹ میں آنا جانا رہتا تھا۔ شائد دو تین پمفلٹوں پر میں نے کام بھی کیا تھا۔ ان کا موضوع پاکستان آرمی میں بہادری (Gallantry) کا اعلیٰ ترین اعزاز پانے والوں کی پروفیشنل زندگیوں کے حالات تھے۔ ان مطبوعات کا مقصد فوج کے اردو خواں طبقے میں شوقِ شہادت کی اہمیت کو واضح کرنا تھا۔ اب یہ شعبہ (Directorate) چونکہ GHQ سے باہر ISPR میں منتقل کیا جا چکا ہے، اس لئے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی مزید توسیع و ترویج کے لئے حالیہ برسوں میں کیا کیا کام ہوئے ہیں۔ چند برس پہلے میرا ایک داماد ڈائریکٹر آئی ایس پی آر تھا تو وہ سائی آپس کا ڈائریکٹر (بریگیڈیئر) بھی تھا۔ ان سے بات چیت کے دوران اس شعبے کی موجودہ اور آئندہ پراگرس کی خبریں ملتی رہتی تھیں جو خاصی حوصلہ افزا تھیں۔

1980ء کی دہائی میں جب میں میجر تھا اور کھاریاں چھاؤنی میں پوسٹ تھا تو اس ڈائریکٹوریٹ کے زیر انتظام، کور لیول پر ایک مختصر مدت کا کورس چلایا گیا تھا جو ہیڈکوارٹر ون کور (منگلا کینٹ) میں چلا تھا۔ اس کا دورانیہ صرف ایک ماہ تھا اور اس میں نفسیاتی جنگ و جدل کے ابتدائی اور بنیادی پہلوؤں کی تدریس کی جاتی تھی۔ اس کورس میں 18،20 آفیسرز تھے جو مختلف فارمیشنوں سے اس کورس کے لئے نامزد کئے گئے تھے۔ حسبِ معمول ہمارے 8پیریڈز روزانہ ہوا کرتے تھے۔5پیریڈز کے بعد چائے کا وقفہ ہوتا تھا،جس میں اساتذہ کے ساتھ غیر رسمی گپ شپ کے مواقع ملتے تھے ۔ تین چار اساتذہ (انسٹرکٹرز) مختلف موضوعات کی تدریس کیا کرتے تھے۔ ان میں ایک میجر حسرت بھی تھے جن کی سب سٹو ڈنٹ بہت عزت کرتے تھے۔ ان کا مطالعہ وسیع تھا اور ان کی زبان میں بھی خداوند تعالیٰ نے ایک خصوصی تاثیر رکھ دی تھی جو عام مقررین اور اساتذہ کو ودیعت نہیں ہوتی۔ ان اساتذہ میں ایک سینئر سویلین انسٹرکٹر بھی تھے جن کو سائی آپس ڈائریکٹوریٹ نے اپنے ہاں باقاعدہ بطور ڈپٹی ڈائریکٹر تعینات کر رکھا تھا۔ ان کا نام شائد ڈاکٹر رحمن تھا۔ان کا تعلق مشرقی پاکستان کے کسی ضلع سے تھا۔ 1971ء سے پہلے مغربی پاکستان آئے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔ بڑے فراخدل، کثیر المطالعہ اور وسیع المشرب شخص تھے۔ ان کو سننا گویا ایک ٹریٹ تھی۔ امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کی افواج سے نفسیاتی وار فیئر کے موضوع پر رابطے میں رہتے تھے ،اس لئے ان کا علم اور ان کی معلومات ،ہم سب طلباء کے لئے اکتسابِ فیض کا گویا منبع تھیں۔

ان کے دولیکچر مجھے بطور خاص یاد رہیں گے۔۔۔ایک پراپیگنڈہ پر تھا اور دوسرا پیرا سائیکلوجی پر۔ ہماری کلاس میں کچھ سٹوڈنٹ ایسے بھی تھے جو جرمنی، آسٹریلیا اور امریکہ سے مختلف پروفیشنل کورسز کر چکے تھے۔ ان لیکچروں کے درمیان جب وہ سوالات کرتے تھے تو معلوم ہوتا تھاکہ دنیا کی جدید افواج نے اس تخصیصی شعبے میں کتنی پیشرفت کرلی ہے اور پاکستان آرمی کو آگے جانے کی ہنوز کتنی زیادہ ضرورت ہے۔

نفسیاتی جنگ کے ماہرین نے پراپیگنڈہ کو تین مختلف اقسام میں تقسیم کر رکھا ہے۔ یعنی وائٹ پراپیگنڈہ، بلیک پراپیگنڈہ اور گرے پراپیگنڈہ۔۔۔ سفید اور سیاہ پراپیگنڈہ کی تشریح اور اس کی مثالیں تو اظہر من الشمس تھیں لیکن سرمئی (Grey) پراپیگنڈہ کا کھوج لگانا اور اس کا منبع تلاش کرنا مشکل تھا۔ زیادہ تر اقوام اور افواج، گرے پراپیگنڈہ پر انحصار کرتی تھیں(اور ہیں) پاکستان کو بھی گرے پراپیگنڈہ کی یلغار کا سامنا ہے۔۔۔ لیکن ہمارا آج کا موضوع یہ نہیں۔۔۔

نفسیاتی جنگ کا اگر پہلا اور اساسی موضوع پراپیگنڈہ ہے تو آخری اور نہائی موضوع پیراسائیکالوجی ہے۔ اس علم و فن کے آفاق بیکراں ہیں اور ان پر بھی بہت سا تحریری مواد موجود ہے۔ لیکن مثال وہی ہے کہ ساحل سمندر پر چند سیپیاں بکھری ہوئی دکھائی دیتی ہیں اور سمندر کے بیچ میں کیا ہے، اس کا محض تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔ ۔۔۔منگلا کے اس کورس میں ڈاکٹر صاحب نے اپنا ایک ذاتی واقعہ سنایا جو نہایت معلوماتی اور دلچسپ تھا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ فورٹ بریگ (Fort Bragg) میں سائی آپس کورس کر رہے تھے۔ امریکی افواج میں پاکستانی افواج کی طرح کے کوئی ’’آفیسرز میس‘‘ نہیں ہوتے کہ جہاں عارضی طور پر افسروں کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ پاکستانی آفیسرز میس (Mess) افسروں کے طعام و قیام کا بندوبست کرتے ہیں اور ہوٹلوں اور کلبوں سے کئی گنا سستے ہوتے ہیں۔ امریکہ میں ان کی جگہ ’’آفیسرز کلب‘‘ ہوتے ہیں جو مقابلتاً مہنگے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ چند دن کلب میں گزارنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ میری جیب یہاں ٹھہرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ میں نے اپنے کلاس فیلوز سے اس پرابلم کا ذکر کیا۔ ایک دوست نے بتایا کہ ایک بڑا سا مکان جوفورٹ بریگ سے زیادہ فاصلے پر نہیں، خالی پڑا ہے۔ اگر کر سکو تو کھانا وغیرہ بازار سے کھا لیا کرو اور باقی وقت کے لئے یہ گھر مناسب رہے گا۔ اس نے ڈاکٹر صاحب کو یہ بھی بتا کر حیران کر دیا کہ اس گھر کا کوئی کرایہ نہیں اور بقول ڈاکٹر صاحب جب اس ’’رعائیتِ خاص‘‘ کی وجہ دریافت کی گئی تو امریکی آفیسر نے بتایا کہ یہ سب وجوہات اور معلومات تمہیں اس مکان کے وارڈن سے مل جائیں گی جو دن رات وہیں ساتھ ہی کے ایک گاؤں میں رہتا ہے۔ دن کو آ جاتا ہے اور شام کو واپس چلا جاتا ہے۔اس امریکی آفیسر نے یہ بھی بتایا کہ دن کے وقت وہاں رہنے اور شام کو اپنے گاؤں چلے جانے کی وجہ بھی وہی وارڈن بتائے گا۔ ڈاکٹر صاحب کچھ کچھ حیران ہوئے۔ہم نے ایڈریس لیا اور کلاس اٹینڈ کرنے اور کھانا کھانے کے بعد بتائے ہوئے پتے پر اس مکان میں پہنچ گئے۔۔۔ آگے کا احوال ڈاکٹر صاحب کی زبانی سنیئے۔(میں ان کے بیان کا خلاصہ درج کر رہا ہوں کیونکہ یہ ایک طویل اور دلچسپ واقعہ تھا جس میں دوپیریڈز گزر گئے اور کلاس کو کچھ خبر نہ ہوئی کہ اتنا وقت گزر چکا ہے)۔۔۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا:

’’میں جب سہ پہر کو اس مکان میں پہنچا تو وارڈن نے بتایاکہ آپ یہاں نہ رہیں کیونکہ یہ مکان آسیب زدہ ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ میں مسلمان ہوں اور پاکستان سے اس کورس پر آیا ہوں۔ میں آسیب وغیرہ جیسی فضول باتوں پر ایمان نہیں رکھتا اور تین ماہ تک یہاں رہنا چاہتا ہوں۔ وارڈن نے خبردار کیا کہ اس Haunted House میں گھر کی مالکہ کی روح کا بسیرا ہے۔ وہ کسی کو بھی ایک رات سے زیادہ اپنے بیڈروم میں برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔ میں نے سنا تو امریکیوں کی اوہام پرستی پر مسکرانے لگا۔ وارڈن سے مکان کی چابیاں لیں اور اس کے ساتھ اندر گھوم پھر کر مکانیت دیکھی اور گھر کی مرحومہ مالکن کا بیڈ روم بھی دیکھا جس کو یہ وارڈن ہر روز نئے طریقے سے سجایا کرتا تھا۔ شام کو وہ رخصت ہو گیا۔ میں بازار گیا اور کھانا کھانے کے بعد تقریباً 8 بجے شب واپس آ گیا۔ نومبر کا مہینہ تھا اور سردی کا زور تھا۔ میں نے دروازہ بند کرکے اندر سے کنڈی لگا لی اور ہیٹر آن کر دیا۔ اس کمرے کے اندر سے ایک سیڑھی اوپر کی منزل کے ایک کمرے میں جاتی تھی۔میں نے اس دروازے کو بھی اندر سے چٹخنی لگا کر بند کر دیا۔ اپنا بریف کیس کھولا، مطالعے کی میز پر بیٹھا اور آج کی کلاس کا آموختہ یاد کرنے لگا۔۔۔ معاً سیڑھیوں سے ’’ٹھک‘‘ کی آواز آئی۔ میں نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو چٹخنی کھل رہی تھی۔۔۔ ہر طرف خاموشی تھی۔۔۔ مجھے حیرانی ہوئی کہ چٹخنی خود بخود کیسے کھل سکتی ہے۔ میں نے اِدھر اُدھر نگاہ دوڑائی۔ اس بات کے کوئی آثار نہ تھے کہ کمرے کے باہر سے کوئی ریموٹ کنٹرول کے ذریعے یہ ’’عمل‘‘ کر رہا ہے۔۔۔ پھر میں نے محسوس کیا کہ سیڑھیوں پر کسی نسوانی جوتے کی ’’ٹک ٹک‘‘ کی آواز آ رہی ہے جیسے کوئی سیڑھیاں اتر رہا ہو۔ پھر ہوا کا ایک تیز جھونکا سا آیا اور سامنے والے دوسرے دروازے کی کنڈی بھی نیچے گر گئی۔ کمرے میں ایک درد بھری نسوانی آواز کی گونج سنائی دینے لگی: ’’۔۔۔یہ میرا شب خوابی کا کمرہ ہے۔۔۔ یہاں میرے محبوب کو قتل کر دیا گیا تھا اور پھر میں نے بھی اپنے آپ کو گولی مار لی تھی۔۔۔ یہاں سے چلے جاؤ۔۔۔ میں نے آج تک کسی مرد کو اس بستر پر سونے کی اجازت نہیں دی۔۔۔ وہ بھی ابھی آتا ہو گا!‘‘۔۔۔

ڈاکٹر صاحب بوریا بستر اٹھا کر کلب چلے گئے اور صبح کلاس میں یہ واقعہ سنایا تو امریکی انسٹرکٹر نے کہا: ’’اس علم کو ’پیراسائیکلوجی‘ کہا جاتا ہے، اسے ہم کورس کے آٹھویں ہفتے میں ڈسکس کریں گے، اب نہیں‘‘۔

پھر ڈاکٹر صاحب نے پیرا سائیکلوجی پر ایک سیر حاصل تبصرہ کیا اور کہا : ’’اس موضوع کو حال ہی میں ہمارے اس کورس کے نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔ امریکہ میں اس پر بہت سا کام ہو چکا ہے۔ ہم مسلمان بھی جنات کی موجودگی اور حقیقت سے آگاہ ہیں۔ ان کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ایک غیر مرئی (نظر نہ آنے والی) مخلوق ہے۔ تاہم انسانی ارواح کے بارے میں ہمارا علم بہت محدود ہے جبکہ مغرب میں اس پربہت سا کام ہو چکا ہے۔‘‘

قارئین گرامی! یہ 30برس پرانا واقعہ ہے۔ ہمارے انسٹرکٹر (ڈاکٹر رحمن صاحب) جدید سائنسی علوم سے خوب بہرہ ور تھے اور توہّم پرستی سے کوسوں دور بھاگتے تھے۔اور اب تو پیرا سائکالوجی نے معلومات کے بہت سے نئے آفاق وا کر دیئے ہیں۔ البتہ ان کی تصدیق عام مروجہ پیمانوں سے نہیں ہو سکتی۔ ہماری کئی نسلوں کو شائد ابھی انتظار کرنا پڑے۔ انسانی وجود مادی ہے اور مافوق الفطرت مخلوقات کا وجود غیر مادی ہے۔ آیا غیر مادی لشکروں سے مادی لشکروں کو شکست دی جا سکتی ہے؟۔۔۔ کیا یہ لشکر تشکیل بھی دیئے جا سکتے ہیں یا نہیں؟۔۔۔ کیا ان کا وجود کسی نئی ٹیکنالوجی کا مرہونِ منت ہو گا؟۔۔۔ کیا مذہبی رہنماؤں یعنی ولی، گورو، پنڈت، جوگی، پادری اور بھکشو کو کوئی حربی رول بھی دیا جا سکتا ہے؟۔۔۔ کیا سٹیلتھ (Stealth) ٹیکنالوجی اس فلک کی پہلی منزل ہے جو مرئی (Visible) کو غیر مرئی (Invisible) سے جدا کرتی ہے؟۔۔۔ کیا کوئی مادی انسان، روحانی شکل میں مجسم کیا جا سکتا ہے؟۔۔۔ کیا ارواح کو انسانی / مادی اجسام کی حرکات و سکنات پر دسترس حاصل ہو سکتی ہے؟۔۔۔ کیا ان موضوعات پر تحقیق و تفتیش کے دروازے کھولنا اسلامی (یا دوسرے مذہبی) احکامات کی خلاف ورزی ہے؟ یہ اور اس قسم کے سینکڑوں سوالات ہیں جو انسان کے شعور اور تحت الشعور میں تڑپتے رہتے ہیں۔ آیا ان بے تاب سوالوں کو مستقبل قریب یا بعید میں کوئی قرار مل جائے گا یا یہ یونہی افتاں و خیزاں دربدر کی ٹھوکریں کھاتے رہیں گے،اس کا جواب ڈھونڈنے کا آغاز مغرب میں تو ایک طویل عرصے سے ہو چکا ہے لیکن جب تک مغرب ، اپنا مادی اور متکبر سر، مشرق کے روحانی یا نیم روحانی پیکر کے سامنے خم نہیں کرتا، تب تک انسان، گمراہی کے ویرانوں میں بھٹکتا رہے گا۔ انسان نے انفارمیشن کی دنیا میں تو انقلابی ایجادات کرلی ہیں لیکن مِس انفارمیشن اور ڈِس انفارمیشن میں بھی کسی سے پیچھے نہیں رہا۔۔۔ انشاء اللہ اس موضوع پر کچھ باتیں اگلے کالم میں!

مزید : کالم