وزیراعلیٰ بلوچستان کی فراخ دلانہ پیشکش

وزیراعلیٰ بلوچستان کی فراخ دلانہ پیشکش

وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ وہ پہاڑوں پر جانے والوں کو ایک مرتبہ پھر دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئیں اور پاکستان کے فریم ورک کے اندر رہ کر آئین کے تحت سیاسی عمل میں حصہ لیں اگر عوام نے انہیں مینڈیٹ دیا تو ہم اسے تسلیم کریں گے ہم محب وطن اور اپنے وطن کے وارث ہیں کوئی مائی کا لعل بلوچستان کو پاکستان سے الگ نہیں کر سکتا۔ کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے کہا ہے کہ پاکستان کا دل بہت بڑا ہے اور پہاڑوں پر جانے والے واپس آئیں تو انہیں گلے لگائیں گے۔ پاکستان نے ہمیشہ قائم و دائم رہنا ہے، فلاحی ریاست بننا پاکستان کا مقدر ہے۔

کاروبارِ حکومت ملک کا ہو،یا صوبے کا،آئین و قانون اور ضابطوں کے مطابق چلتا ہے، ان کے فریم ورک کے اندر پرامن طور پر ہر قسم کی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھی جا سکتی ہیں، اگر انتخابات ہو رہے ہوں تو ہر سیاسی جماعت انتخابی ضابطوں کے تحت انتخابات میں حصہ لے سکتی ہے۔ اپنے امیدوار کھڑے کر سکتی ہے ان کے حق میں مہم چلا سکتی ہے اگر وہ کامیاب ہوں توجس جماعت کو حکمرانی کا مینڈیٹ حاصل ہو جائے وہ حکمران بن جاتی ہے اور جس جماعت کو ووٹر حزبِ اختلاف میں بیٹھنے کی حد تک قبول کرتے ہیں وہ قومی یا صوبائی اسمبلیوں میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ بلوچستان جب سے صوبہ بنا ہے اس کے بڑے بڑے سردار یا نواب کسی نہ کسی انداز میں صوبے کے حکمران رہے ہیں۔ وہ گورنر رہے یا وزیراعلیٰ بن گئے، جب تک ان کا اقتدار رہا انہیں صوبے میں کوئی خرابی نظر نہ آئی،وہ دھڑلے کے ساتھ حکومت کرتے رہے اس دوران انہیں وفاق کی ’’زیادتیوں‘‘ کا بھی خیال نہ آیا، لیکن جب ان کا اقتدار لد گیا تو انہیں ہر طرف خرابیاں ہی خرابیاں نظر آنے لگیں۔اچانک انہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ وفاق ان کے وسائل کو لوٹ رہا ہے۔ ان کے وسائل سے استفادہ کر رہا ہے لیکن صوبے کو اس کا جائز حصہ بھی نہیں دیا جا رہا ہے۔

جو سیاستدان اور سردار صوبے میں ایک سے زیادہ بار حکمران رہے ان کے حکمرانی کے دور اور دوسرے ادوار کے سیاسی بیانات کا اگر ایک جائزہ مرتب کر لیا جائے تو دونوں میں بعدالمشرقین نظر آئے گا جن سرداروں نے اپنی حکومت کے دوران عوام کے مسائل پر کوئی توجہ نہ دی اور پورے صوبے کو اسی انداز میں چلاتے رہے جس طرح وہ اپنے قبیلے کو تحکمانہ انداز میں چلاتے ہیں وہ جب محرومِ اقتدار ہو گئے تو انہیں عوام کے مسائل بھی یاد آ گئے اور صوبے کی محرومیاں بھی۔ ان میں سے بعض سیاستدان تو پارلیمانی سیاست سے مایوس ہو گئے انہیں اندازہ ہو گیا کہ اب انہیں بار بار حکومت نہیں ملنے والی اس لئے وہ پارلیمانی سیاست کو خیر باد کہہ گئے اور بیرونِ ملک جا کر اپنے حامیوں کو شر پھیلانے کے لئے پہاڑوں پر بھیج دیا۔ اب ان کی غیر حاضری میں یہ لوگ جس انداز کی ’’مسلح جدوجہد‘‘ کر رہے ہیں دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ جدید جمہوری ادوار میں ایسی نام نہاد تحریکیں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ وہ جتنا عرصہ بھی پہاڑوں پر قافیہ پیمائی کرتے رہیں انہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

بلوچستان میں گزشتہ چند برسوں میں جن فراری کمانڈروں نے ہتھیار رکھ دیئے ہیں اور پُرامن زندگی گزار رہے ہیں ان کے بچے بھی سکولوں، کالجوں میں تعلیم پا رہے ہیں اور انہی میں سے ایسے لوگ بھی نکلیں گے جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اعلیٰ مناصب پر بھی پہنچ سکتے ہیں مسلح جدوجہد سے کشت و خون کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا اس طرح تھوڑے عرصے کے لئے سنسنی تو پھیلائی جا سکتی ہے،چند ماہ یا چند برس کے لئے امن و امان کا مسئلہ بھی پیدا کیا جا سکتا ہے لیکن بالآخر یہ سب کچھ ختم ہو جاتا ہے، جن لوگوں نے ہتھیار رکھ کر پُرامن زندگی کا آغاز کیا ہے ان سے پوچھا جائے کہ وہ اپنے کس دور کو بہتر سمجھتے ہیں تو ان کی رائے پُرامن ایام کے حق میں ہوگی اس لئے بہتر یہ ہے کہ پہاڑوں پر گئے ہوئے لوگ وزیراعلیٰ بلوچستان اور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کی فراخدلانہ پیشکش سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے حقوق کے لئے پُرامن جدوجہد کا آغاز کریں۔ اس میں شک نہیں کہ بلوچستان کے مسائل بہت گھمبیر ہیں۔ غربت کی شرح بھی زیادہ ہے اور تعلیمی سہولتیں بھی نسبتاً کم ہیں لیکن صوبہ تدریجاً بہتری کی جانب گامزن ہے۔ تعلیمی اداروں میں اضافہ ہو رہا ہے اور بلوچستان کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے ملازمتوں کے دروازے بھی کھولے جا رہے ہیں، اب تک بلوچستان کے لوگوں کو جو شکایات رہی ہیں ان کا ازالہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب معاشرے پر قبائلی نظام کی گرفت ذرا ڈھیلی ہو اور نوجوان تعلیم حاصل کرکے آگے بڑھیں۔ جو قبائلی سردار ماضی میں صوبے میں گورنر اور وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں انہوں نے اگر اپنے دور میں صوبے کی حکومتوں کو قبیلے کی طرح چلایا اور حکومتوں کے طور طریقوں کو بھی قبائلی رواجوں کی طرح جانا تو اس میں وفاقی حکومت یا کسی دوسرے صوبے کا کوئی قصور نہیں۔اگر کسی قبیلے کے بچوں کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع میسر نہ ہوں یا ان کے سامنے رسم و رواج کی دیواریں حائل ہوں تو انہیں گلہ اپنے قبائلی سرداروں سے ہونا چاہیے۔

صوبے کو اس کے حقوق اسی صورت مل سکتے ہیں جب صوبے کی سیاسی جماعتیں اس کے لئے پرامن جدوجہد کریں پرامن جدوجہد کا ہی نتیجہ تھا کہ 2013ء کے الیکشن کے نتیجے میں بلوچستان میں ڈاکٹر عبدالمالک وزیراعلیٰ بننے میں کامیاب ہو گئے۔ اگرچہ ان کی سیاسی جماعت کو اکثریت حاصل نہ تھی تاہم انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے تعاون سے حکومت بنائی اور جو فارمولا طے ہوا تھا اس کے تحت وہ ڈھائی سال تک وزیراعلیٰ رہے۔ اس کے تحت اب نواب ثناء اللہ زہری برسراقتدار ہیں اگلے انتخابات میں کوئی ایسی جماعت اکثریت حاصل کرسکتی ہے جس کے نتیجے میں کوئی اور ڈاکٹر عبدالمالک دوبارہ چیف ایگزیکٹو بن جائے۔ جمہوری جدوجہد میں ہی ایسے امکانات ہو سکتے ہیں، اس لئے صوبے کو جدید نظامِ جمہوریت کے تحت چلانے کے لئے تمام سیاسی جماعتیں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔صوبے میں ایک بڑی خرابی یہ رہی ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے لئے رکھی گئی رقم درست طور پر خرچ نہیں کی جاتی رہی اور ترقی کے فوائد بھی گراس روٹ لیول پر منتقل نہیں ہو سکے۔ سرداروں اور نوابوں نے اپنے ہی مفادات کو اولیت دی، اب اگر وزیراعلیٰ بلوچستان اور کمانڈر سدرن کمانڈ کی پیشکش سے فائدہ اٹھا کر فراری کمانڈر اپنی مسلح جدوجہد کو ترک کرکے پرامن راستے پر چلنا شروع کردیں تو بہت جلد صوبے کے حالات میں بہتری آ جائے گی۔ امید ہے اس فراخدلانہ پیشکش کو قبول کیا جائے گا۔

لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے یہ بھی کہا کہ فلاحی ریاست بننا پاکستان کا مقدر ہے، یہ ایک سپاہی کا پاکستان کے روشن مستقبل میں پختہ ایمان کا اظہار ہے اور جو لوگ مایوسیوں کے اندھیروں میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور اپنی قنوطیت کے دائرے میں چکر کاٹتے رہتے ہیں انہیں بالواسطہ جواب بھی ہے۔ قوموں کی زندگی میں مشکل ادوار بھی آتے ہیں اور وہ بہترین ایام میں سے بھی گزرتی ہیں پاکستان آزادی کے بعد مشکل دور سے گزر کر اب خوشحال مستقبل میں قدم رکھ چکا ہے اور چند برس کے اندر اندر تبدیلی نظر آئے گی اور انشاء اللہ پاکستان فلاحی ریاست بن کر رہے گا جس سے ملک کا گوشہ گوشہ مستفید ہو گا۔

مزید : اداریہ